أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَفَمَنۡ اَسَّسَ بُنۡيَانَهٗ عَلٰى تَقۡوٰى مِنَ اللّٰهِ وَرِضۡوَانٍ خَيۡرٌ اَمۡ مَّنۡ اَسَّسَ بُنۡيَانَهٗ عَلٰى شَفَا جُرُفٍ هَارٍ فَانۡهَارَ بِهٖ فِىۡ نَارِ جَهَـنَّمَ‌ؕ وَاللّٰهُ لَا يَهۡدِى الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ ۞

ترجمہ:

تو کیا جس نے اللہ سے ڈرنے اور اس کی رضا پر اپنی مسجد کی بنیاد رکھی وہ بہتر ہے یا وہ شخص جس نے اپنی عمارت کی بنیاد ایسے گڑھے کے کنارے پر رکھی جو گرنے کے قریب ہے تو وہ اسے لے کر جہنم کی آگ میں گرپڑا اور اللہ ظلم کرنے والے لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : تو کیا جس نے اللہ سے ڈرنے اور اس کی رضا پر اپنی مسجد کی بنیاد رکھی وہ بہتر ہے یا وہ شخص جس نے اپنی عمارت کی بنیاد ایسے گڑھے کے کنارے پر رکھی جو گرنے کے قریب ہے تو وہ اسے لے کر جہنم کی آگ میں گرپڑا اور اللہ ظلم کرنے والے لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔ (التوبہ : ١٠٩) 

مشکل الفاظ کے معانی

شفا کے معنی ہیں طرف یا کنارہ جرف کے معنی ہیں وہ جگہ جس کو سیلاب بہا کرلے جاتا ہے۔ (المفردات ج ١ ص ١١١) شاہ عبدالقادر اور شاہ رفیع الدین نے اس کا ترجمہ کھائی کیا ہے اور اعلیٰ حضرت اور ہمارے شیخ علامہ کا ظمی نے اس کا ترجمہ گڑھا کیا ہے۔ ھار : یہ اصل میں ھائر تھا، جو چیز گرنے والی ہو۔ فانھا ربہ اپنے بنانے والے کے ساتھ گرگیا ۔ ریبۃ : شک۔ تقطع۔ ٹکڑے ٹکڑے ہوگیا۔ خلاصہ یہ ہے کہ ان دو مسجدوں کے بنانے والوں میں سے ایک نے اپنی مسجد بنانے سے اللہ سے ڈرنے اور اس کی رضا کا ارادہ کیا اور دوسرے نے اپنی مسجد بنانے سے نافرمانی اور کفر کا ارادہ کیا پس پہلی بنا نیک ہے اور اس کا باقی رکھنا واجب ہے اور دوسری بنا خبیث ہے اور اس کا گرانا واجب ہے۔

 

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 9 التوبة  آیت نمبر 109