أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَلتَّاۤئِبُوۡنَ الۡعٰبِدُوۡنَ الۡحٰمِدُوۡنَ السّاۤئِحُوۡنَ الرّٰكِعُوۡنَ السّٰجِدُوۡنَ الۡاٰمِرُوۡنَ بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَالنَّاهُوۡنَ عَنِ الۡمُنۡكَرِ وَالۡحٰــفِظُوۡنَ لِحُدُوۡدِ اللّٰه ِ‌ؕ وَبَشِّرِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ۞

ترجمہ:

(یہی لوگ ہیں) توبہ کرنے والے عبادت کرنے والے حمد کرنے والے روزے رکھنے والے رکوع کرنے والے سجدہ کرنے والے نیکی کا حکم دینے والے اور برائی سے روکنے والے اور اللہ کی حدود کی حفاظت کرنے والے اور آپ ایمان والوں کو خوش خبری سنا دیں

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (یہی لوگ ہیں) توبہ کرنے والے، عبادت کرنے والے، حمد کرنے والے، روزے رکھنے والے، رکوع کرنے والے، سجدہ کرنے والے، نیکی کا حکم دینے والے اور برائی سے روکنے والے اور اللہ کی حدود کی حفاظت کرنے والے اور آپ ایمان والوں کو خوش خبری سنا دیں۔ (التوبہ : ١١٢) 

التائبون کا معنی توبہ کا معنی ہے :

رجوع اور تائب کا معنی ہے : جو معصیت کی حالت مذمومہ سے اطاعت کی حالت محمودہ کی طرف رجوع کرے۔ توبہ کے چار ارکان ہیں :

(١) معصیت کے صدور سے نادم ہو اور معصیت کے صدور سے اس کا دل جل رہا ہو اور وہ اپنے آپ سے متنفر ہو۔

(٢) آئندہ اس معصیت کو نہ کرنے کا پختہ عزم کرے۔

(٣) اس معصیت کی تلافی اور تدارک کرے مثلاً وہ نماز رہ گئی تھی اس کی قضا کرے جس کی رقم دبالی تھی اس کو واپس کرے جس کی غیبت کی تھی اس کے حق میں دعا کرے۔

(٤) ان تین کاموں کا محرک محض اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کے حکم پر عمل کرنا ہو اور اگر اس کی غرض لوگوں کی مذمت کرنا ہو یا لوگوں کی تعریف اور تحسین حاصل کرنا ہو یا اور کوئی غرض ہو تو وہ التائبین میں سے نہیں ہے۔

حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہر ابن آدم خطاکار ہے اور خطاکاروں میں اچھے وہ ہیں جو توبہ کرنے والے ہیں۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث : ٢٤٩٩، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٤٢٥١، مصنف ابن ابی شیبہ ج ١٣ ص ١٨٧، منسد احمد ج ٣ ص ١٩٨، سنن دارمی رقم الحدیث : ٢٧٣٠، مسند ابو یعلیٰ رقم الحدیث : ٢٩٢٢، المستدرک ج ٤ ص ٢٤٤)

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب تک غرغرہ موت کا وقت نہ آئے اللہ بندہ کی توبہ قبول فرماتا ہے۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث : ٣٥٣٧، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٤٢٥٣، مسند احمد ج ٢ ص ١٥٣، ١٣٢، مسند ابو یعلیٰ رقم الحدیث : ٥٦٠٩، صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ٦٢٨، حلیتہ الاولیاء ج ٥ ص ١٩٠، المستدرک ج ٤ ص ٢٥٧، شعب الایمان رقم الحدیث : ٧٠٦٣، شرح السنہ رقم الحدیث : ١٣٠٦، الکامل لابن عدی ج ٤ ص ١٥٩٢۔

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : گناہ سے توبہ کرنے والا اس شخص کی مثل ہے جس کا کوئی گناہ نہ ہو۔ (سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٤٢٥٠، سنن کبریٰ للبیہقی ج ١٠ ص ١٥٤، حلیتہ الاولیاء ج ٤ ص ٢١٠، کنزالعمال رقم الحدیث : ١٠١٤٩، مجمع الزوائد ج ١٠ ص ٢٠٠، الترغیب والترہیب ج ٤ ص ٩٧، اتحاف ج ٨ ص ٥٠٣، مشکوٰۃ رقم الحدیث : ٢٣٦٣) 

العابدون کا معنی عبادت کا معنی ہے غایت تذلل کا اظہار کرنا، جو لوگ اللہ کے سامنے انتہائی عجز اور ذلت کا اظہار کریں وہ عابدین ہیں۔ (المفردات ج ٢ ص ٤١٥) جو لوگ اخلاص کے ساتھ اللہ وحدہ کے احکام پر عمل کریں اور اس عمل پر حریص ہوں وہ عابدین ہیں۔ (کشاف ج ٢ ص ٢٩٩) حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : جو لوگ اللہ کی عبادت کو اپنے اوپر واجب سمجھتے ہوں وہ عابدین ہیں۔ متکلمین نے کہا عبادت کا معنی ہے ایسا کام کرنا جس سے اللہ تعلایٰ کی تعظیم کا اظہار ہو اور وہ انتہائی تعظیم ہو، سو ایسے کام کرنے والے عابدین ہیں۔ حسن بصری نے کہا عابدین وہ ہیں جو راحت اور تکلیف میں اللہ کی عبادت کریں۔ قتادہ نے کہا جو دن رات اللہ کی عبادت کریں وہ عابدین ہیں۔ (تفسیر کبیر ج ٦ ص ١٥٣) قرآن مجید میں ہے : واعبد ربک حتی یاتیک الیقین۔ (الحجر : ٩٩) اپنے رب کی عبادت کرتے رہے حتیٰ کہ آپ کے پاس پیغام اجل آجائے۔ حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : لوگوں کی بہترین زندگی کا طریقہ یہ ہے کہ ایک شخص گھوڑے کی لگام پکڑ کر اللہ کی راہ میں نکل جائے وہ اس کی پشت پر اڑا جارہا ہو، جس طرف دشمن کی آہٹ یا خوف محسوس کرے اسی طرف گھوڑے کا رخ کر دے اور قتل یا موت کی تلاش میں نکل جائے یا اس آدمی کی زندگی بہتر ہے جو چند بکریاں لے کر پہاڑ کی کسی چوٹی یا کسی وادی میں نکل جائے وہاں نماز پڑھے، زکوٰۃ ادا کرے اور اللہ کی عبادت کرتا رہے حتیٰ کہ اس کو موت آجائے اور لوگوں کو کسی معاملہ میں بھلائی کے سوا دخل نہ دے۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٨٨٩، سنن النسائی رقم الحدیث : ٣١٠٥، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٣٩٧٧) قرآن مجید اور اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عبادین وہ ہیں جو تادم مرگ عبادت کرتے ہیں۔ 

الحامدون کا معنی حمد کے معنی ہیں صفات کمالیہ کا اظہار اور حسن و خوبی کا بیان کرنا اور اگر حمد نعمت کے مقابلہ میں کیا جائے تو وہ شکر ہے اور شکر کا معنی ہے نعمت کی بنا پر منعم کی تعظیم کرنا اور منعم نے جس مقصد کے لیے نعمت دی ہے اس مقصد میں اس نعمت کو صرف کرنا، پس حمادون وہ لوگ ہیں جو اللہ کی قضا پر راضی رہتے ہیں اور اس کی نعمت کو اس کی اطاعت میں خرچ کرتے ہیں اور ہرحال میں اللہ کی حمد کرتے ہیں۔ حدیث میں ہے۔ حضرت ابوہریرہ بیان کرتے ہیں کہ ہر ذی شان کام جس کی ابتداء الحمد للہ سے نہیں کی گئی وہ ناتمام رہتا ہے۔ (شعب الایمان رقم الحدیث : ٤٣٧٢) حضرت جابر بن عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : افضل الذکر لا الہ الا اللہ ہے اور افضل الدعا الحمد للہ ہے۔ (شعب الایمان رقم الحدیث : ٤٣٧١) حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : سب سے پہلے جنت میں ان لوگوں کو بلایا جائے گا جو راحت اور تکلیف میں اللہ کی حمد کرتے ہیں۔ (شعب الایمان رقم الحدیث : ٤٣٧٣) حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ دعا فرماتے تھے : اے اللہ ! تو نے مجھے جو علم عطا کیا ہے اس سے مجھے نفع عطا فرما اور مجھے نفع آور علم عطا فرما اور میرے علم کو زیادہ فرما، ہرحال میں اللہ کی حمد ہے اور اے میرے رب ! میں دوزخ کے حال سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔ (شعب الایمان رقم الحدیث : ٤٣٧٦) 

السائحون کا معنی الساحۃ کا معنی ہے وسیع جگہ، ساحۃ الدار کا معنی ہے مکان کا صحن، السائح : مسلسل جاری رہنے والے پانی کو کہتے ہیں، سائح اور سیاح کا معنی ہے زمین میں سفر کرنے والا، السائحون (التوبہ : ١١٢) کا معنی ہے روزہ رکھنے والے۔ روزہ کی دو قسمیں ہیں : حقیقی اور حکمی۔ حقیقی روزہ یہ ہے کہ طلوع فجر سے غروب آفتاب تک کھانے پینے اور عمل ازدواج کو ترک کردیا جائے اور حکمی روزہ یہ ہے کہ تمام اعضاء اللہ کی معصیت کو ترک کردیں اور اس آیت میں السائحون سے یہی معنی مراد ہے۔ (المفردات ج ١ ص ٣٢٤) عبید بن عمیر کہتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے السائحون کے متعلق دریافت کیا گیا، آپ نے فرمایا : وہ روزہ دار ہیں۔ امام ابن جریر نے حضرت ابوہریرہ، حضرت عبداللہ بن مسعود، حضرت عبداللہ بن عباس (رض) ، سعید بن جبیر، مجاد، حسن بصری، ضحاک اور عطا سے بھی اسی طرح روایت کیا ہے بلکہ حضرت ابن عباس سے یہ بھی روایت ہے کہ قرآن مجید میں جہاں بھی السیاحت کا ذکر آیا ہے اس سے مراد روزہ دار ہیں۔ (جامع البیان جز ١١ ص ٥٣۔ ٥١، مطبوعہ دارالفکر بیروت ١٤١٥ ھ) حضرت ابو امام (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے کہا یا رسول اللہ ! مجھے سیاحت کی اجازت دیجیے ! آپ نے فرمایا : میری امت کی سیاحت اللہ عزوجل کی راہ میں جہاد کرنا ہے۔ (سنن ابودائود رقم الحدیث : ٢٤٨٦، المعجم الکبیر رقم الحدیث : ٧٧٦٠، مسند الشامبین رقم الحدیث : ١٥٢٢، المستدرک ج ٢ ص ٧٣) 

الراکعون الساجدون کا معنی رکوع اور سجدہ سے مراد نمازوں کا قائم کرنا ہے، نماز کی اشکال میں قیام، قعود، رکوع اور سجود ہیں یہاں پر باقی شکلوں میں سے صرف رکوع اور سجود کا ذکر فرمایا ہے کیونکہ کھڑے ہونا اور بیٹھنا یہ وہ حالتیں ہیں جو نماز کے ساتھ مخصوص نہیں ہیں، انسان عادتاً اپنے معمولات میں کھڑا ہوتا ہے اور بیٹھتا ہے، اس کے برخلاف رکوع اور سجود کی حالت نماز کے ساتھ مخصوص ہے، لہٰذا جب رکوع اور سجدہ کا ذکر کیا جائے تو ذہن صرف نماز کی طرف منتقل ہوگا اور یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ ہاتھ باندھ کر کھڑے ہونا اللہ عزوجل کی بارگاہ میں تواضع اور تذلل کا پہلا مرتبہ ہے اور تواضع اور تذلل کا متوسط درجہ رکوع میں ہے اور غایت تواضع اور تذلل سجدہ میں ہے پس رکوع اور سجدہ کا بالخصوص اس لیے ذکر فرمایا ہے کہ یہ غایت عبودیت پر دلالت کرتے ہیں تاکہ اس پر تنبیہہ ہو کہ نماز سے مقصود انتہائی خضوع اور تعظیم ہے۔ حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص نے وقت پر نماز پڑھی، پورا وضو کیا اور مکمل رکوع، سجود اور خشوع کیا تو وہ نماز سفید روشن صورت میں پیش ہوتی ہے اور کہتی ہے اللہ تیری حفاظت کرے، جس طرح تو نے میری حفاظت کی ہے۔ (المعجم الاوسط، رقم الحدیث : ٣١١٩، الترغیب و الترہیب ج ١ ص ٢٥٨، المغنی عن حمل الاسفار علی الاحیاء ج ١ ص ١٤٢) معدان بن ابی طلحہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت ثوبان (رض) سے پوچھا : مجھے ایسا عمل بتلائیے جس کو کرنے کے بعد میں جنت میں داخل ہو جائوں، وہ خاموش رہے، جب وہ تین بار یہ سوال کیا تو انہوں نے کہا میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ سوال کیا تھا، آپ نے فرمایا : تم بکثرت اللہ کے لیے سجدے کیا کرو کیونکہ جب تم اللہ کے لیے ایک سجدہ کرتے ہو تو اللہ اس کی وجہ سے تمہارا ایک درجہ بلند کرتا ہے اور تمہارا ایک گناہ مٹا دیتا ہے۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث : ٤٨٨، سنن الترمذی رقم الحدیث : ٣٨٩، ٣٨١، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ١٤٢٣، صحیح ابن خزیمہ رقم الحدیث : ٣١٦، مسند احمد ج ٢ ص ٥١، سنن کبریٰ للبیہقی ج ٢ ص ٤٥٨، شرح السنہ رقم الحدیث : ٣٨٨) حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بندہ اپنے رب کے سب سے زیادہ قریب سجدہ میں ہوتا ہے، سو تم (سجدہ میں) بکثرت دعا کیا کرو۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث : ٤٨٢، سنن ابودائود رقم الحدیث : ٨٧٥، سنن النسائی رقم الحدیث : ١١٣٧) حضرت ابو الدرداء (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص نے عمداً نماز کو ترک کیا اس نے کفر کیا۔ (تلخیص الحسیر ج ١ ص ٧١٩، اتحاف السادۃ المنتقین ج ٣ ص ١٠، کنز العمال رقم الحدیث : ٥٠٠٨، الترغیب و الترہیب ج ١ ص ٣٨٢) یہ حدیث اس پر محمول ہے جب کوئی شخص نماز کے ترک کو جائز سمجھے یا معمولی سمجھ یا اس کی فرضیت کا انکار کرے۔ 

الامرون بالمعروف و الناھون عن المنکر کا معنی ابو العالیہ نے کہا کہ قرآن مجید میں جہاں بھی امر بالمعروف کا ذکر ہے، اس سے مراد اسلام کی طرف دعوت دینا ہے اور جہاں بھی نہی عن المنکر کا ذکر ہے اس سے مراد بتوں کی عبادت سے منع کرنا ہے۔ امام ابن جریر نے کہا : امر بالمعروف سے مراد ہر اس نیک کام کا حکم دینا ہے جس کا اللہ اور اس کے رسول نے حکم دیا ہے اور نہی عن المنکر سے مراد ہر اس برائی سے روکنا ہے جس سے اللہ اور اس کے رسول نے منع فرمایا ہے۔ (جامع البیان جز ١١ ص ٥٥، مطبوعہ دارالفکر، بیروت ١٤١٥ ھ) طارق بن شہاب بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سوال کیا گیا کون سا جہاد افضل ہے ؟ آپ نے فرمایا : ظالم حاکم کے سامنے انصاف کا کلمہ کہنا۔ (سنن ابودائو رقم الحدیث : ٤٣٤٤، سنن الترمذی رقم الحدیث : ٢١٧٤، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٤٠١١، مسند احمد ج ٥ ص ٢٥٦، شعب الایمان رقم الحدیث : ٧٥٨٢۔ اس حدیث کی تمام سندیں صحیح ہیں۔ حضرت ابوسعید (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کسی کا کو ف تمہیں اس حق بات کو کہنے سے منع نہ کرے جس کا تمہیں علم ہو۔ اما بیہقی کی روایت میں ہے کیونکہ کوئی شخص تمہاری موت کو مقدم کرسکتا ہے نہ تمہیں رزق سے محروم کرسکتا ہے۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث : ٢١٩١، سننا بن ماجہ رقم الحدیث : ٢٠٠٧، مسند احمد ج ٣ ص ٥، شعب الایمان رقم الحدیث : ٧٥٨٠) حضرت حذیفہ بن یمان (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس ذات کی قسم جس کے قبضہ وقدرت میں میری جان ہے تم ضرور نیکی کا حکم دیتے رہنا اور برائی سے روکتے رہنا ورنہ عنقریب تم پر عذاب بھیجا جائے گا پھر تم دعا کرو گے اور تمہاری دعا قبول نہیں ہوگی۔ (شعب الایمان رقم الحدیث : ٧٥٥٨، سنن کبریٰ للبیہقی ج ١٠ ص ٩٣) حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ ہم نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! ہم نیکی کا اس وقت تک حکم نہیں دیں جب تک اس پر عمل نہ کرلیں اور کسی برائی سے نہ روکیں حتیٰ کہ تمام برائیوں سے اجتناب نہ کرلیں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بلکہ نیکی کا حکم دیتے رہو، خواہ تم اس نیکی پر عمل نہ کرو اور برائی سے منع کرتے رہو خواہ تم تمام برائیوں سے اجتناب نہ کرو۔ (المعجم الصغیر ٩٨١، المعجم الاوسط ٦٦٢٤، شعب الایمان ٧٥٧٠، حافظ الہیثمی نے کہا اس حدیث کی سند میں دو راوی ضعیف ہیں، مجمع الزوائد ج ٢ ص ٢٧٧) 

الحافظون لحدود اللہ کا معنی اللہ تعالیٰ نے بندوں کو جن احکام کا مکلف کیا ہے وہ بہت زیادہ ہیں، ان کو دو قسموں میں منضبط کیا جاسکتا ہے : عبادات اور معاملات۔ عبادات جیسے نماز، روزہ، زکوٰۃ اور حج وغیرہ اور معاملات جیسے خریدو فروخت، نکاح، طلاق وغیرہ اور جن چیزوں سے اللہ تعالیٰ نے منع کیا ہے : قتل، زنا، چوری، ڈاکہ، شراب نوشی اور جھوٹ وغیرہ، یہ تمام امور اللہ تعالیٰ کی حدود ہیں۔ جن چیزوں کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے ان کو مکمل طریقہ سے ادا کرنا اور جن سے منع کیا ہے ان سے باز رہنا یہ اللہ تعالیٰ کی حدود کی حفاظت ہے۔ پہلے اللہ تعالیٰ نے آٹھ امورکو تفصیلاً بیان فرمایا اور نواں اور آخری امر یعنی حدود اللہ کی حفاطت ان سب امور کو جامع ہے۔ حضرت نعمان بن بشیر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : حلال ظاہر ہے اور حرام ظاہر ہے اور ان کے درمیان کچھ امور مشتبہ ہیں، جن کو اکثر لوگ نہیں جانتے، پس جو شخص مشبہات سے بچا اس نے اپنے دین اور اپنی عزت کو محفوظ کرلیا اور جو شخص شبہات کا مرتکب ہوگیا، اس کی مثال اس چرواہے کی طرح ہے جو شاہی چراگاہ کے گرد اپنے جانوروں کو چراتا ہے، قریب ہے کہ وہ جانور اس چراگاہ میں بھی منہ ماریں، سنو ! ہر بادشاہ کی ایک مخصوص چراگاہ ہوتی ہے، اللہ کی مخصوص چراگاہ زمین پر اس کی حرام کی ہوئی چیزیں ہیں، سنو ! جسم میں ایک گوشت کا ٹکڑا ہے جب وہ ٹھیک ہو تو پورا جسم ٹھیک ہوتا ہے اور جب وہ خراب ہو تو پورا جسم خراب ہوتا ہے۔ سنو وہ دل ہے ! (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٥٢، صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٥٩٩، سنن ابودائود رقم الحدیث : ٣٣٢٩، سنن الترمذی رقم الحدیث : ١٢٠٥، سنن النسائی رقم الحدیث : ٤٤٥٣، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٣٩٨٤، مسند احمد ج ٤ ص ٣٦٩، سنن دارمی رقم الحدیث : ٢٥٣٤، صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ٧٢١، المعجم الاوسط رقم الحدیث : ٢٢٨٥، حلیتہ الاولیاء ج ٤ ص ٢٧٠)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 9 التوبة آیت نمبر 112