( )

اِس نشان کو قَوسَین کہتے ہیں ۔

یہ اُردو تحریر میں تقریباً آٹھ جگہوں پر استعمال ہوتا ہے ۔

ہمارے ہاں عام طور پر اس کا استعمال یہ ہے کہ:

جب ہم کسی فرد ، یا کتاب کی عبارت نقل کرتے ہیں اور وضاحت کے طور پر کچھ اپنی طرف سے بھی کہنا چاہتے ہیں ، تو قوسَین میں اپنی بات کہتے ہیں ؛ تاکہ پڑھنے والے کو معلوم ہوجائے کہ یہ ہماری طرف سے اضافہ ہے ۔

اِسے مثال سے یوں سمجھیے:

سیدنا و مولانا امام محمد غزالی نوراللہ مرقدہ‌ لکھتے ہیں:

” حضرت ابراہیم تِیمی رحمہ‌اللہ سےجب کوئی مسئلہ پوچھتا تو رو پڑتے اور کہتے:

تجھے میرے علاوہ کوئی نہیں ملا ، جو میری ضرورت پیش آگئی !! “

( احیاء علوم الدین ، ربع العبادات ، کتاب العلم ، 91 ، ط دارالکتاب العربی بیروت ، س1429ھ )

اب ہم اس عبارت کو واضح کرنے کے لیے ، قوسین سے اس طرح مدد لیں گے:

” حضرت ابراہیم تِیمی رحمہ‌اللہ سے جب کوئی مسئلہ پوچھتا تو ( خوفِ خُدا سے ) رو پڑتے ، اور ( بہ طورِ عاجزی ) کہتے:

تجھے میرے عِلاوہ کوئی ( دوسرا عالِم ) نہیں ملا ، جو میری ضرورت پیش آگئی !! “

یہاں قوسین کے ذریعے ہم‌ نے بات واضح کردی ، اور اصل عبارت کا مفہوم بھی نہیں بدلنے دیا ؛ بلکہ اِس میں مزید حُسن پیدا کردیا ۔

یہاں ایک بات اچھی طرح یاد رہنی چاہیے کہ:

عبارت کے دوران قوسین کا برمحل استعمال کرنا ہے ، اور اس طرح کرنا ہے کہ:

” اگر قوسین کو ہٹادیا جائے تو عبارت کی روانی میں فرق نہ آئے ، اور قوسین کو لگا دیا جائے تو بھی عبارت کی روانی برقرار رہے ۔ “

مثلاً: حضرت ابراہیم تِیمی رحمہ‌اللہ سےجب کوئی مسئلہ پوچھتا تو ( خوفِ خدا سے ) رو پڑتے ۔

غور فرمائیں ، کہ یہ عبارت لفظی و معنوی اعتبار سے بالکل رواں ہے ۔

لیکن اگر اسی عبارت کو یوں کردیا جائے:

حضرت ابراہیم تِیمی رحمہ‌اللہ سےجب کوئی مسئلہ پوچھتا ( تو خوفِ خدا کرتے ) رو پڑتے ۔

اب اگر قوسین کو ہٹا دیا جائے تو عبارت کی وہ روانی نہیں رہتی ، جو ” تَو ” سے ہے ۔

اسی طرح قوسین کو لگادیا جائے پھر بھی فصاحت ختم ہوجاتی ہے ، کیوں کہ:

” سے ” کی جگہ ” کرتے ” لانا ، غیر فصیح ہے ۔

اگر طوالت کا اندیشہ نہ‌ہوتا تو مزید مثالیں دے کر بات واضح کرتا ، لیکن امید ہے اسی ایک مثال سے بہت سارے احباب پر بات واضح ہوگئی ہو گی ۔

اللہ‌کریم ہمیں خلوصِ نیت کے ساتھ اِملا و انشا کی دُرُستی کی بھی توفیق بخشے اور ہمارے کلام کو موثر بنائے ۔

✍️لقمان شاہد