لاکھ تدابیرکریں مگرمُدَبِّرُالاُمُوْرتووہی ہے

☀️اس مُدَبِّرُالاُمُوْر نے اپنی شان یُدَبِّرُالْاَمر (وہی امر کی تدبیر فرماتا ہے) اپنی مقدس کتاب قرآن مجید کے اندر 4 جگہوں پر بیان فرمائی ہے ۔

آیت نمبر : 1

{إِنَّ رَبَّكُمُ اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوَىٰ عَلَى الْعَرْشِ ۖ يُدَبِّرُ الْأَمْرَ ۖ مَا مِن شَفِيعٍ إِلَّا مِن بَعْدِ إِذْنِهِ ۚ ذَٰلِكُمُ اللَّهُ رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوهُ ۚ أَفَلَا تَذَكَّرُونَ}

[ سورة يونس : 3 ]

ترجمہ

یقینا تمہارا رب وہی الله ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا ، پھر وہ عرش پر مستوی ہوا ، امر کی تدبیر فرماتا ہے ، نہیں کوئی بھی شفاعت کرنے والا مگر اس کے اِذن کے بعد ، یہی الله تمھارا رب ہے تو اسی کی عبادت کرو کیا تم نصیحت حاصل نہیں کرتے ؟

آیت نمبر :2

{قُلْ مَن يَرْزُقُكُم مِّنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ أَمَّن يَمْلِكُ السَّمْعَ وَالْأَبْصَارَ وَمَن يُخْرِجُ الْحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَيُخْرِجُ الْمَيِّتَ مِنَ الْحَيِّ وَمَن يُدَبِّرُ الْأَمْرَ ۚ فَسَيَقُولُونَ اللَّهُ ۚ فَقُلْ أَفَلَا تَتَّقُونَ} [ سورة يونس : 31 ]

ترجمہ

آپ بولیں ! کون رزق دیتا ہے تم کو آسمان سے اور زمین سے ؟ ہاں ہاں کون مالک ہے سننے اور دیکھنے کی قوتوں کا ؟ اور کون نکالتا ہے زندہ کو مردہ میں سے اور نکالتا ہے مردہ کو زندہ میں سے ؟ اور کون امر کی تدبیر کرتا ہے ؟ تو وہ سارے فورا کہیں گے کہ الله ! ( ہی کی یہ سب شانیں ہیں ۔ اب ) آپ ( ان سے )کہیےتو پھر تم ڈرتے کیوں نہیں ؟

آیت نمبر :3

{اللَّهُ الَّذِي رَفَعَ السَّمَاوَاتِ بِغَيْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَهَا ۖ ثُمَّ اسْتَوَىٰ عَلَى الْعَرْشِ ۖ وَسَخَّرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ ۖ كُلٌّ يَجْرِي لِأَجَلٍ مُّسَمًّى ۚ يُدَبِّرُ الْأَمْرَ يُفَصِّلُ الْآيَاتِ لَعَلَّكُم بِلِقَاءِ رَبِّكُمْ تُوقِنُونَ} [ سورة الرعد : 2]

ترجمہ

اللہ وہی ہے جس نے بلند کر رکھا ہے آسمانوں کو تمہیں دکھائی نہ دینے والے ستونوں کے بغیر ۔ پھر وہ عرش پر مستوی ہوا ۔ اور مسخر کیا سورج کو اور چاند کو ، ان میں سے ہر ایک مدتِ مقررہ کے لئے چل رہا ہے ، امر کی تدبیر کرتا ہے , آیتیں تفصیل سے بیان کرتا ہے تاکہ تم اپنے رب کی ملاقات پر یقین کرلو

آیت نمبر :4

{يُدَبِّرُ الْأَمْرَ مِنَ السَّمَاءِ إِلَى الْأَرْضِ ثُمَّ يَعْرُجُ إِلَيْهِ فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ أَلْفَ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّونَ}

[ سورة السجدة : 5]

ترجمہ

وہ تدبیر کرتا ہے امر کی آسمان سے زمین کی طرف پھر وہ امر اسی کی طرف اوپر چلا جاتا ہے اس دن کے لیے جس کی مقدار تمہاری گنتی کے مطابق ہزار سال ہے .

🌲سورة النازعات کی آیت نمبر 5

فَالْمُدَبِّرَاتِ أَمْرًا میں فرشتوں اور سات کواکب کو بھی مُدَبِّرَاتِ أَمْر قرار دیا ہے تو چونکہ ان سب کی تدابیر اسی جل و علا کے امر و مشیت کے تابع ہیں تو ان کی عطائی تدابیر بھی اسی عز و جل کی ہی قرار پائیں گی ۔ چنانچہ

سورہ یونس کی تیسری آیت میں

بتایا کہ تدبیرِ امور کے اندر اس کی اتھارٹی اتنی بلند و بالا ہے کہ سفارش کرنا بھی اس کی اجازت پر ہی موقوف ہے ۔ اس آیت میں یہ ہدایت بھی دے دی کہ جب سب اسی کی مشیت کے محتاج ہیں تو تم اس کی عبادت میں مشغول ہو کر اپنے معاملات کو اسی کے حوالے کر دو ۔

*سورہ یونس کی آیت نمبر 31 میں تو اعلانیہ پوچھا جا رہا ہے کہ کون ہے جو امر کی تدبیر کرتا ہے ؟

🔎سبحان الله العظيم، اللہ کی قدرت اور علم کہ اس چیلنج کا جو جواب ان سب نے دینا تھا وہ اللہ نے پہلے ہی بتا دیا کہ سب یعنی کافر بھی کہیں گے اللہ ہی مُدَبِّرُالاُمُوْر ہے ۔ ( اٹلی کے صدر کا بیان تازہ مثال ہے )

اے اہل اسلام ، اے اہل پاکستان!

اپنی موجودہ روش کو دیکھو اور آیت کے آخری حصے کو سمجھو ۔ جس میں اللہ تبارک و تعالی ان کو کہہ رہے ہیں

مدبر الامور بھی اس کو مانتے ہو اور پھر اس سے تقوی بھی نہیں کرتے ۔

کہیں ایسا تو نہیں کہ باوجود کلمہ گو ہونے کے ہمارا کردار ان کفار سے مشابہ بلکہ ان سے بھی گیا گذرا ہو کہ ہمارا دھیان صرف تدابیر اور حفظان صحت کے اصولوں پر ہی ہو اور مُدَبِّرُالاُمُوْر کو بس زبانی کلامی ۔۔۔۔۔۔

سورہ الرعد کی دوسری آیت میں آسمانوں کی ، عرش کی ، سورج کی، چاند کی بات کرکے، ان کی حرکات کی مدت کی بات کر کے پھر اپنی شان مُدَبِّرُالاُمُوْر بیان فرما کر اس سب کا مقصد یہ بتایا کہ تم اپنے رب کی ملاقات یعنی مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے پر یقین کرلو ۔

سوچیں! ہمارا یقین کیسا ہے؟

اور یہ غور بھی کریں کہ اللہ تعالی نے چار جگہوں پر یہ بات بیان فرمائی ہے

تو گویا منشائے خداوندی اس عقیدہ کی انتہائی پختگی ہے ۔۔

اس پختگی سے یہ تسلی ملتی ہے کہ جب تمام امور کی تدبیر کرنے والا وہی اللہ ہے جو رحمٰن ہے رحیم ہے غفور ہے ،۔اس کے علم میں ہے وہ دیکھ رہا ہے ، سن رہس ہے تو پھر ما شاء الله تبارك وتعالى جو بھی گذر رہی ہے ، اس کی رحمت واسعہ کی کوئی صورت ضرور اس کے اندر موجود ہے تو بمطابق ارشاد انا عند ظن عبدي بي ،۔اللہ تعالی ضرور اس کو رحمت سے نوازتے ہیں ۔

*ایک سے زائد بار فرمان یہ یقین بھی مزید پختہ کرتا ہے کہ انسانی تدابیر جتنی بھی ہیں وہ ساری کی ساری درست اور مؤثر صرف اس صورت میں ہوسکتی ہیں جبکہ اس مدبرِ حقیقی کی تدبیر کے ساتھ ہم آہنگ ہوں ،

اس کی مرضی اور منشاء کے مطابق ہوں

اگر اس کی مرضی اور منشاء کے خلاف ہوں گی تو بجائے فائدہ مند ہونے کے الٹا زیادہ ہلاکتوں ، مصیبتوں اور نقصانات کا باعث بنیں گی ۔

یہ یقین کہ میری اس تدبیر میں مدبر حقیقی کی منشاء اور مشیت بھی شامل ہو گئی ہے تو اب اس انسان کی وہ تدبیر مزید کارگر اور مفید ہو جاتی ہے ۔

اللہ تبارک و تعالی کے مدبر حقیقی ہونے کا یقین انسان کے دل کو تسلیم و رضا کا خُلق (وصف) بخش دیتا ہے ۔

الفتح الربانی میں حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمة اللہ علیہ اپنا ایک واقعہ بیان فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ میں ایک ابتلاء میں گرفتار ہوگیا ، اللہ تبارک وتعالی سے اس کے ختم فرما دینے کی دعا کی تو بجائے اس کے کہ وہ دور ہوتی الٹا اور زیادہ ہوگئی

فرماتے ہیں میں بہت حیران ہوا ۔ اس معاملے میں جب زیادہ ہی سوچنا شروع کیا تو ندا آئی کہ کیا آپ نے ابتداء میں یہ نہیں کہا تھا” یا الله میری حالت تسلیم کی حالت ہوگی” ۔

حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اب ساری بات اور ادب آداب مجھے سمجھ آ گئے ۔

🌺 حضرت سیدنا ابراہیم خلیل الله على نبينا و عليه الصلوة و السلام

آسمان سے باتیں کرتی آگ کا الاؤ آپ کے سامنے تھا، منجنیق بھی نظر آرہی تھی لیکن آپ کو یہ یقین تھا کہ یہ لاکھ تدبیریں کرتے پھریں ، اصل مدبر اللہ تبارک و تعالیٰ ہی ہے

اوپر آسمان میں حضرت جبریل نے اللہ تبارک و تعالی کی جناب میں عرض کیا

اللہ تبارک و تعالی نے فرمایا ۔ جائیں، بات کر کے دیکھ لیں ۔

اِذن ملنے کے بعد حضرت ابراہیم سے آکر کہا کہ ہم آپ کی ہر وہ مدد کر سکتے ہیں جو آپ فرمائیں ۔ یہ عذاب کا فرشتہ یہ بارش کا فرشتہ یہ سارے میرے ساتھ ہیں بس آپ حکم فرمائیں ۔

تو خلیل نے فرمایا

اَمَّا إلَیك فلا

مجھے تیری مدد کی کوئی ضرورت نہیں

اب حضرت جبرائیل نے عرض کی کہ ابراہیم اگر آپ ہم سے ہماری مدد نہیں لیتے تو اللہ تبارک و تعالی سے دعا کیجئے تو آپ نے فرمایا

علمه بحالی حسبي من سوالي

میرے رب کو میری اس حالت کا علم ہے اور یہ مجھے کافی ہے بجائے اس کے کہ میں اپنے رب سے دعا کروں ۔

آج بھی جو ہو ابراہیم کا ایماں پیدا

آگ کر سکتی ہے انداز گلستاں پیدا ۔

✒ از قلم شیخ الحدیث و التفسیر حضرت مولانا مفتی خالد محمود صاحب مہتمم ادارہ معارف القران کشمیر کالونی کراچی خادم جامع مسجد حضرت سیدہ خدیجہ الکبری رضی اللہ تعالی عنہا مصطفی آباد پھالیہ منڈی روڈ منڈی بہاؤالدین