أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

لَا يَزَالُ بُنۡيَانُهُمُ الَّذِىۡ بَنَوۡا رِيۡبَةً فِىۡ قُلُوۡبِهِمۡ اِلَّاۤ اَنۡ تَقَطَّعَ قُلُوۡبُهُمۡ‌ؕ وَاللّٰهُ عَلِيۡمٌ حَكِيۡمٌ ۞

ترجمہ:

جس عمارت کو انہوں نے بنایا ہے گرنے کے خطرہ کی وجہ سے ہمیشہ ان کے دلوں میں کھٹکتی رہے گی سوا اس کے کہ ان کے دل ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیں اور اللہ بےحد جاننے والا بڑی حکمت والا ہے۔ ؏

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : جس عمارت کو انہوں نے بنایا ہے گرنے کے خطرہ کی وجہ سے ہمیشہ ان کے دلوں میں کھٹکتی رہے گی سوا اس کے کہ ان کے دل ٹکڑے ہوجائیں اور اللہ بےحد جاننے والا بڑی حکمت والا ہے۔ (التوبہ : ١١٠) 

منافقین کے شک میں پڑنے کی وجوہ

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ بیان فرمایا ہے کہ منافقین نے جو مسجد ضرار بنائی تو اس کے بنانے کے بعد ان کے دلوں میں یہ خوف رہا کہ اس مسجد کا راز کھل جائے گا اور اس کو منہدم کردیا جائے گا اور اس کو بنانے کا سبب یہ تھا کہ ان کو دین اسلام کے متعلق شک تھا اور وہ شک ان کے دلوں سے نکل نہیں سکتا تھا تاوقی کہ ان کو موت نہ آجائے اور اس سے مراد یہ ہے کہ یہ مسجد ضرار دین میں شکوک اور شبہات کا مصدر تھی اور کفر اور نفاق کا مظہر تھی اور جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو منہدم کرنے کا حکم دیا تو یہ ان پر بہت شاق گزرا اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ان کا بغض اور زیادہ ہوگیا اور آپ کی نبوت میں ان کے شکوک اور شبہات اور بڑھ گئے اور ان کو اپنے متعلق یہ پریشانی رہتی تھی کہ آیا ان کو اسی نفاق کی حالت میں برقرار رکھا جائے گا یا ان کو قتل کردیا جائے گا تو گویا اس مسجد ضرار کو بنانا بجائے خود ایک شک تھا کیونکہ وہ شک کا سبب تھا۔ اس شک کے پیدا ہونے کی حسب ذیل وجوہ ہیں :

(١) منافقین مسجد ضرار کو بنا کر بہت خوش ہوئے تھے اور جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس مسجد کو گرانے کا حکم دیا تو ان کو یہ حکم بہت ناگوار گزرا اور آپ کی نبوت اور رسالت کے متعلق ان کے شکوک اور شبہات اور زیادہ ہوگئے۔

(٢) جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس مسجد کو منہدم کرنے کا حکم دیا تو انہوں نے یہ گمان کیا کہ آپ نے ان سے حسد کی وجہ سے یہ حکم دیا ہے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نے ان کو جو امان دی ہوئی تھی وہ ان کے خیال میں مرتفع ہوگئی اور ان کو ہر وقت یہ خوف اور خطرہ رہا کہ آیا ان کو ان کے حال پر چھوڑ دیا جائے گا یا ان کو قتل کردیا جائے گا اور ان کے اموال سلب کرلیے جائیں گے۔

(٣) ان کا اعتقاد یہ تھا کہ اس مسجد کو بنانا ایک نیک کام ہے اور جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو گرانے کا حکم دیا تو یہ اس شک میں پڑگئے کہ کس وجہ سے اس مسجد کو گرانے کا حکم دیا گیا ہے۔

(٤) وہ مسلسل اس شک میں رہے کہ اللہ تعالیٰ کے اس جرم کو معاف کر دے گا یا نہیں لیکن صحیح پہلی وجہ ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 9 التوبة آیت نمبر 110