أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَقُلِ اعۡمَلُوۡا فَسَيَرَى اللّٰهُ عَمَلَكُمۡ وَرَسُوۡلُهٗ وَالۡمُؤۡمِنُوۡنَ‌ؕ وَسَتُرَدُّوۡنَ اِلٰى عٰلِمِ الۡغَيۡبِ وَالشَّهَادَةِ فَيُنَبِّئُكُمۡ بِمَا كُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ‌ۚ ۞

ترجمہ:

اور آپ کہیے کہ تم عمل کرو پس عنقریب اللہ تمہارے عمل کو دیکھ لے گا اور اس کا رسول اور مومنین (بھی) اور عنقریب تم اس کی طرف لوٹائے جائو گے جو ہر غیب اور ہر ظاہر کو جاننے والا ہے، پھر وہ تم کو ان کاموں کی خبر دے گا جن کو تم کرتے رہے تھے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور آپ کہیے کہ تم عمل کرو پس عنقریب اللہ تمہارے عمل کو دیکھ لے گا اور اس کا رسول اور مومنین (بھی) اور عنقریب تم اس کی طرف لوٹائے جائو گے، جو ہر غیب اور ہر ظاہر کو جاننے والا ہے، پھر وہ تم کو ان کاموں کی خبر دے گا جن کو تم کرتے رہے تھے (التوبہ : ١٠٥)

نیک اعمال کا حکم دینے اور برے اعمال سے روکنے کی وجہ :

آیاتِ سابقہ سے اس آیت کے ارتباط کی دو صورتیں ہیں :

(١) اس آیت کا تعلق ان مسلمانوں سے ہے جنہوں نے توبہ کی تھی یعنی کیا یہ مسلمان نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ توبہ صحیحہ کو قبول کرتا ہے۔ اور خلوص نیت سے جو صدقات دئیے جاتے ہیں ان کو قبول فرماتا ہے۔

(٢) اس سے مراد دوسرے لوگ ہیں جنہوں نے توبہ نہیں کی تھی تاکہ ان کو توبہ کی ترغیب دی جائے۔

امام رازی نے لکھا ہے کہ معبودِ برحق کو ایسا ہونا چاہیے کہ اس میں زیادتی اور کمی محال ہو۔ مخلوق کی عبادت سے اس میں کسی چیز کا زیادہ ہونا اور مخلوق کی نافرمانی سے اس میں کسی چیز کا کم ہونا محال ہو۔ عبادت کی طرف اس کی رغبت اور معصیت سے اس کی نفرت محال ہو۔ حتیٰ کہ یہ کہا جائے کہ اس کی نفرت اور اس کا غضب اس کو انتقام پر برانگیختہ کرتا ہے۔ بلکہ اس کا معصیت سے منع کرنا اور عبادت کی طرف راغب کرنا اس لیے ہے تاکہ مخلوق کو نیک لوگوں کے مقامات حاصل ہوں اور وہ برے لوگوں کے انجام سے بچیں۔ پس نافرمانی کرنے والا صرف اپنے آپ کو نقصان پہنچاتا ہے اور اطاعت کرنے والا صرف اپنے آپ کو فائدہ پہنچاتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : اگر تم نیک کام کرو گے تو ہو نیک کام تمہارے نفع کے لیے ہیں۔ اور اگر تم برے کام کرو گے تو ان کا نقصان تمہیں پہنچے گا۔ (الاسراء : ٧) پس اللہ تعالیٰ نے جو یہ فرمایا ہے : تم عمل کرو اللہ تمہارے عمل کو دیکھ لے گا۔ اس میں نیک کام کرنے والوں کے لیے ترغیب ہے۔ اور نافرمانی کرنے والوں کو ڈرایا ہے۔ گویا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : تم مستقبل کے لیے جدوجہد کرو کیونکہ تمہارے اعمال کا ایک ثمرہ دنیا میں ہے اور ایک ثمرہ آخرت میں ہے۔ دنیا میں ثمرہ یہ ہے کہ اللہ اور اس کا رسول اور مسلمان تمہارے اعمال کو دیکھ رہے ہیں۔ اگر تم اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو گے تو دنیا میں تمہاری بہت تعریف ہوگی اور دنیا اور آخرت میں تمہیں اجرِ عظیم ملے گا۔ اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے تو تمہاری بہت تعریف ہوگی اور دنیا اور آخرت میں تمہیں اجر عظیم ملے گا اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرو گے تو دنیا میں تمہاری مذمت ہوگی اور آخرت میں تمہیں شدید عذاب ہوگا۔ (تفسیر کبیر ج ٦ ص ١٤٢، مطبوعہ دار احیاء التراث العربی بیروت، ١٤١٥ ھ) ۔

انسان کے اعمال کو زندہ اور مردہ لوگ دیکھتے رہتے ہیں :

حضرت ابو سعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر تم کسی بند چٹان کے اندر عبادت کرو جس کا نہ کوئی دروازہ ہو نہ کھڑی کی تب بھی لوگوں کے لیے عمل ظاہر ہوجائیں گے خواہ وہ عمل بھی ہوں۔ (مسنداحمد ج ٣ ص ٢٨، مجمع الزوائد ج ١٠ ص ٢٢٥، مواروالظمآن رقم الحدیث : ١٩٤٢، شیخ احمد شاکر نے کہا اس حدیث کی سند حسن ہے۔ مسند احمد رقم الحدیث : ١١٧٣، مطبوعہ دارالحدیث قاہرہ، ١٤١٦ ھ) ۔

حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تمہارے اعمال تمہارے مرے ہوئے قرابت داروں اور رشتہ داروں پر پیش کیے جاتے ہیں۔ اگر وہ نیک اعمال ہوں تو وہ ان سے خوش ہوتے ہیں اور اگر وہ نیک اعمال نہ ہوں تو وہ دعا کرتے ہیں ؛ اے اللہ ! تو ان پر اس وقت تک موت طاری نہ کرنا جب تک تو ان کو اس طرح ہدایت نہ دے جس طرح تو نے ہمیں ہدایت دی ہ۔ (مسند احمد ج ٣ ص ١٦٥، مجمع الزوائد ج ٢ ص ٣٢٨، الطیالسی رقم الحدیث : ١٥٦، حافظ الہیشمی اور شیخ احمد شاکر نے کہا ہے کہ یہ حدیث صحیح ہے۔ مسند احمد رقم الحدیث : ١٢٦١٩، مطبوعہ دارالحدیث قاہرہ) ۔

حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم پر کوئی حرج نہیں ہے اگر تم کسی شخص پر اس وقت تک تعجب نہ کرو جب تک کہ اس کا خاتمہ نہ ہوجائے۔ کیونکہ ایک عمل کرنے والا ایک زمانہ تک ایسے عمل کرتا رہتا ہے کہ اگر وہ ان اعمال پر مرجائے تو وہ جنت میں داخل ہوجائے گا پھر وہ پلٹتا ہے اور برے عمل کرتا ہے۔ اور ایک بندہ ایک زمانہ تک برے عمل کرتا ہے اگر وہ ان اعمال پر مرجائے تو وہ دوزخ میں داخل ہوجائے گا۔ پھر وہ پلٹتا ہے اور نیک عمل کرتا ہے اور جب اللہ کسی بندہ کے ساتھ نیکی کا ارادہ کرتا ہے تو موت سے پہلے اس سے (نیک) عمل کرا لیتا ہے۔ صحابہ نے پوچھا : یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! وہ اس سے کیسے عمل کراتا ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : وہ اس کو نیک عمل کی توفیق دیتا ہے پھر اس کی روح قبض کرلیتا ہے۔ (مسند احمد ج ٣ ص ١٢٠، صحیح البخاری رقم الحدیث : ٢٢٠٨، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٦٤٣، سنن الترمذی رقم الحدیث : ٢٧٨١، امام ترمذی اور شیخ شاکر نے تصریح کی ہے کہ اس کی سند صحیح ہے۔ مسند احمد رقم الحدیث : ١٢١٥٣، مطبوعہ دارالحدیث، قاہرہ) ۔

حضرت عائشہ (رض) نے فرمایا : جب تمہیں کسی شخص کا عمل اچھا لگے تو یہ آیت پڑھو : تم عمل کرو عنقریب اللہ تمہارے عمل کو دیکھ لے گا اور اس کا رسول اور مومنین بھی۔ (التوبہ : ١٠٥) (صحیح البخاری کتاب التوحید، باب : ٤٦ )

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 9 التوبة آیت نمبر 105