أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَمَا كَانَ اسۡتِغۡفَارُ اِبۡرٰهِيۡمَ لِاَبِيۡهِ اِلَّا عَنۡ مَّوۡعِدَةٍ وَّعَدَهَاۤ اِيَّاهُ‌ ۚ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهٗۤ اَنَّهٗ عَدُوٌّ لِّلّٰهِ تَبَرَّاَ مِنۡهُ‌ ؕ اِنَّ اِبۡرٰهِيۡمَ لَاَوَّاهٌ حَلِيۡمٌ ۞

ترجمہ:

اور ابراہیم کا اپنے (عرفی) باپ کے لیے استغفار کرنا صرف اس وعدہ کی وجہ سے تھا جو اس نے ابراہیم سے کہا تھا اور جب ان پر یہ ظاہر ہوگیا کہ وہ اللہ کا دشمن ہے تو وہ اس سے بیزار ہوگئے بیشک ابراہیم بہت نرم دل اور بہت بردبار تھے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور ابراہیم کا اپنے (عرفی) باپ کے لیے استغفار کرنا صرف اس وعدہ کی وجہ سے تھا جو اس نے ابراہیم سے کیا تھا اور جب ان پر یہ ظاہر ہوگیا کہ وہ اللہ کا دشمن ہے تو وہ اس سے بیزار ہوگئے، بیشک ابراہیم بہت نرم دل اور بہت بردبار تھے۔ (التوبہ : ١١٤) 

آزر کے لیے حضرت ابراہیم کے استغفار کی توجیھ

جب مسلمانوں کو مشرک رشتہ داروں کے لیے دعائے مغفرت کرنے سے منع یا گیا تو انہوں نے کہا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے بھی تو اپنے عرفی باپ آزر کے لیے استغفار کیا تھا، اللہ سبحانہ نے اس کا یہ جواب دیا کہ حضرت ابراہیم کا اپنے (عرفی) باپ آزر کے لیے استغفار کرنا محض اس کے اسلام لانے کے وعدہ کی وجہ سے تھا اور جب ان پر یہ منکشف ہوگیا کہ وہ ایمان لانے والا نہیں ہے تو وہ اس سے بیزار ہوگئے اور ان پر یہ انکشاف اللہ تعالیٰ کے وحی فرمانے کی وجہ سے ہوا تھا یا آزر کی کفر پر موت کی وجہ سے ہوا تھا۔ امام ابن جریر طبری متوفی ٣١٠ ھ نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اپنے (عرفی) باپ کے لیے دعائے مغفرت ؟ ؟ ؟ جب وہ مرگیا تو پھر آپ نے اس کے لیے دعا نہیں کی۔ 

اواہ کا معنی حضرت عبداللہ بن شداد بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا واہ کا کیا معنی ہے ؟ آپ نے فرمایا : اللہ سے ڈرنے والا اور گڑگڑا کر دعا کرنے والا، اور حضرت ابن عباس نے فرمایا : واہ کا معنی ہے بہت زیادہ توبہ کرنے والا اور مجاہد نے کہا جو شخص تنہائی میں گناہ کرے اور پھر تنہائی میں اس گناہ سے توبہ کرے وہ اواہ ہے۔ (تفسیر امام ابن ابن ابی حاتم ج ٦ ص ١٨٩٧۔ ١٨٩٦ ملخصًا، مکہ مکرمہ، جامع البیان جز ١١ ص ٧٠، بیروت)

قیامت کے دن آزر کی شفاعت کی توجیہ

اس آیت میں مذکور ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اپنے عرفی باپ آزر سے بیزار ہوگئے تھے حالانکہ ایک حدیث میں ہے کہ وہ قیامت کے دن اس کے لیے شفاعت کریں گے۔

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی قیامت کے دن اپنے (عرفی) باپ آزر سے اس حال میں ملاقات ہوگی کہ آزر کا چہرہ سیاہ اور غبار آلود ہوگا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اس سے فرمائیں گے کیا میں نے تم سے یہ نہیں کہا تھا کہ تم میری نافرمانی نہ کرو، ان کے (عرفی) باپ کہیں گے میں آج تمہاری نافرمانی نہیں کروں گا، پھر حضرت ابراہیم عرض کریں گے اے میرے رب ! تو نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ تو حشر کے دن مجھے شرمندہ نہیں کرے گا اور اس سے بڑی کون سی شرمندگی ہوگی کہ میرا (عرفی) باپ (جنت سے) دور ہو۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا : میں نے جنت کو کافروں پر حرام کردیا ہے، پھر کہا جائے گا اے ابراہیم دیکھیں آپ کے پیروں کے نیچے کیا ہے۔ آپ دیکھیں گے تو آزر (مسخ ہو کر) گندگی میں لتھڑا ہوا بجو ہوگا پھر اس کو پیروں سے پکڑ کر دوزخ میں ڈال دیا جائے گا۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٣٣٥٠، سنن کبریٰ للنسائی رقم الحدیث : ١١٣٧٥، المستدرک ج ٢ ص ٢٣٨، کنزالعمال رقم الحدیث : ٣٢٢٩٢، مشکوٰۃ رقم الحدیث : ٥٥٣٨)

اللہ تعالیٰ مشرکین کی مغفرت نہیں فرمائے گا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اس اصول سے لالم نہیں تھے پھر انہوں نے آزر کی شفاعت کیوں کی، نیز اس آیت میں یہ تصریح کی گئی ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) آزر سے بیزار ہوگئے تھے پھر قیامت کے دن انہوں نے آزر کی شفاعت کیوں کی۔ اس کے جواب میں علماء نے بہت بحث کی ہے لیکن کوئی شافی جواب نہیں بن سکا اس اشکال کو دور کرنے کے لیے جو قریب ترین بات کہی گئی ہے وہ یہ ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو علم تھا کہ مشرکین کی مغفرت نہیں ہوگی اور ان کے لیے شفاعت کرنا جائز نہیں ہے اور انہوں نے اللہ تعالیٰ سے جو کہا تھا اے میرے رب ! تو نے مجھ سے وعدہ کیا تھا الخ، اس سے آزر کی شفاعت کرنا مقصود نہیں تھا، بلکہ اس سے آزر کے سامنے عذر پیش کرنا مقصود تھا، ان کا اللہ تعالیٰ سے یہ کلام محض صورتاً شفاعت حقیقتاً شفاعت نہیں تھا، حقیقت میں آزر کے سامنے یہ عذر پیش کرنا تھا کہ میں نے تو تمہیں جنت میں داخل کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ سے عرض کیا تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے منع کردیا اور فرمایا : اللہ نے کافروں پر جنت حرام کردی ہے۔ اس کا ایک جواب یہ بھی ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) آزر کے لیے نجات کی دعا کرنے سے بیزار ہوگئے تھے اور اس حدیث میں جس دعا کا ذکر ہے وہ نجات کے لیے نہیں تھی بلکہ تخفیف عذاب کے لیے تھی لیکن اس پر یہ اعتراض ہوگا کہ پھر اللہ تعالیٰ نے یہ کیوں فرمایا کہ میں نے جنت کافروں پر حرام کردی ہے اللہ تعالیٰ کے اس جواب سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے آزر کے لیے حصول جنت کی دعا کی تھی۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 9 التوبة آیت نمبر 114