أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَمَا كَانَ اللّٰهُ لِيُـضِلَّ قَوۡمًۢا بَعۡدَ اِذۡ هَدٰٮهُمۡ حَتّٰى يُبَيِّنَ لَهُمۡ مَّا يَتَّقُوۡنَ‌ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَىۡءٍ عَلِيۡمٌ ۞

ترجمہ:

اور اللہ کی یہ شان نہیں ہے کہ کی قوم کو ہدایت دینے کے بعد اس کو گمراہ کر دے حتیٰ کہ ان کے لیے یہ بیان کر دے کہ انہیں کسی چیز سے بچنا چاہیے۔ بیشک اللہ ہر چیز کو جاننے والا ہے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور اللہ کی یہ شان نہیں ہے کہ کسی قوم کو ہدایت دینے کے بعد گمراہ کر دے حتیٰ کہ ان کے لیے یہ بیان کر دے کہ انہیں کس چیز سے بچنا چاہیے بیشک اللہ ہر چیز کو جاننے والا ہے۔ (التوبہ : ١١٥) 

اشیاء میں اصل اباحت ہے جب اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو فوت شدہ مشرک قرابت داروں کے لیے مغفرت کی دعا کرنے سے منع فرما دیا تو انہوں نے یہ سوچا کہ اس ممانعت سے پہلے جو وہ ان کے لیے دعائے مغفرت کرتے رہے تھے کیا اس پر ان سے مواخذہ ہوگا اور جو مسلمان اس ممانعت سے پہلے فوت ہوگئے اور وہ اس طرح کی دعائیں کرتے رہے تھے آیا ان پر بھی گرفت ہوگی تو اللہ تعالیٰ یہ آیت نازل فرمائی کہ اللہ تعالیٰ جب کوئی حکم نازل کر دے اور پھر اس کے بعد اس کی خلاف ورزی کی جائے تو اللہ اس پر مواخذہ فرماتا ہے اور اس کی یہ شان نہیں ہے کہ وہ اس حکم کے نازل کرنے سے پہلے کیے ہوئے کاموں پر مواخذہ فرمائے اس سے معلوم ہوا کہ ممانعت سے پہلے مشرکین کے لیے دعائے مغفرت جائز تھی اور اس میں یہ دلیل ہے کہ اصل اشیاء میں اباحت ہے۔ اور یہ جو فرمایا کہ کسی قوم کو ہدایت دینے کے بعد گمراہ کر دے اس کی کئی تفسیریں ہیں : (١) اللہ کی یہ شان نہیں ہے کہ وہ کسی قوم کو جنت کا راستہ دکھانے کے بعد اس کو اس راستہ سے گمراہ کر دے۔ (٢) اللہ کی یہ شان نہیں ہے کہ وہ کسی قوم کے ہدایت دینے کے بعد اس پر گمراہی کا حکم لگا دے۔ (٣) اللہ کی یہ شان نہیں ہے کہ کسی قوم کو ہدایت دینے کے بعد ان کے دلوں میں گمراہی پیدا کر دے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 9 التوبة آیت نمبر 115