​❈ ​ موت ، چند باتیں❈​

• امام قرطبي رحمه الله تعالى نے لکھا ھے کہ :

• علماء کرام فرماتے ہیں :

• – موت کا مطلب سرے سے معدوم ہو جانا ، بالکل فنا ہو جانا ، نیست و نا بود ہو جانا نہیں ۔

یہ تو نام ھے اس (عارضی ) انقطاع کا جو روح کے بدن کے ساتھ تعلق میں پیدا ہوتا ھے۔ دونوں کے درمیان حائل ہونے والے پردہ کا نام ھے ۔ حالت کے بدلنے کا نام ھے ۔ دار دنیا سے دار آخرت میں انتقال ھے ۔

اور یہ اتنی بڑی مصیبت ھے کہ اللہ نے بھی اسے مصیبت ہی ارشاد فرمایا ھے :

{ فَأَصَابَتْكُمْ مُصِيبَةُ الْمَوْتِ }

• علماء نے تنبیہ مزید کے طور پر فرمایا :

• – موت سے زیادہ بڑی مصیبت بھی ہے اور وہ ھے اس سے غفلت ، اس کی یاد اور تیاری سے اعراض ، اس کی فکر کی قلت ، اور اس کے لیئے اعمال صالحہ کا ذخیرہ نہ بنانا وغیرہ حالانکہ صرف موت ہی عبرت ، فکر ، اور حصول نصیحت کے لیئے کافی ھے

📜【 التذكرة بأحوال الموتى وأمور الآخرة (١١٢) 】

• – حضرت أبو الدرداء رضي الله عنه کا کہنا ھے:

• – ‏ ہر مومن کے لیئے موت خیر ہی خیر ھے ، میری بات کی تصدیق اس ارشاد باری سے کر لو :

{وَمَا عِنْدَ الله خَيْرٌ لِلْأَبْرَارِ}. اللہ کے پاس جو ھے وہ نیکو کاروں کے لیئے خیر ھے

📜【 التذكرة بأحوال الموتى وأمور الآخرة (١١٥) 】

‏• – ہمارے علماء رحمة الله عليهم کا کہنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد

:( أكثروا ذكر هادم اللذات الموت )

{زیادہ ذکر کیا کرو لذتوں کو مٹا کے رکھ دینے والی موت کا ۔}

• – مختصر ، مؤثر ، منضبط ، بلیغ اور جامع کلام ھے جو پند و نصیحت ، یاد دہانی ، عبرت اور تنبیہ و ارشاد کی تمامی صورتوں کو لیئے ہوئے ہے

📜【 التذكرة بأحوال الموتى وأمور الآخرة (١٢٢) 】

• – ‏‏حضرت تيمي اپنے متعلق بتاتے ہیں :

• – دو چیزوں نے مجھے دنیا کی ہر لذت سے محروم کر رکھا ھے :

♤ موت کی یاد

♤ الله تعالى کے سامنے کھڑا ہو نے کی یاد .

• – حضرت عمر بن عبد العزيز رضي الله عنه کبھی علماء کو بلاتے ، سب جمع ہو کر موت، ، قيامت ، آخرت کا ذکر کرتے، اور ایسا لگتا کہ ان کے آگے میت ھے اور سب جنازہ میں ہین.

📜【 التذكرة بأحوال الموتى وأمور الآخرة (١٢٥)

• – ‏امام استاد دقاق نے کیا فوائد بیان فرمائے ہین :

• – ‏جو موت کو زیادہ یاد رکھے اس کو تین عزتیں ملتی ہیں:

• – جلد توبہ کی توفیق ،

دل کی قناعت ،

عبادت میں چستی .

• – اور موت کو بھولے رہنے والے کو تین سزائیں ملتی ہیں :

• – توبہ کرنے میں آج کل ،

۔بقدر ضرورت سامان زندگی مل جانے پر بھی راضی نہ رہنا ،

  • عبادت میں سستی.

    📜【 التذكرة بأحوال الموتى وأمور الآخرة (١٢٦) 】