أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

الٓر‌ ۚ تِلۡكَ اٰيٰتُ الۡكِتٰبِ الۡحَكِيۡمِ ۞

ترجمہ:

الف لام را، یہ اس کتاب کی آیت ہیں جو حکمت سے معمو رہی

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : الف لام را ‘ یہ اس کتاب کی آیات ہیں جو حکمت سے معمور ہے (یونس : ١) 

سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت پر دلیل

حضرت ابن عباس (رض) نے الر کی تفسیر میں فرمایا : انا اللہ اری ” میں اللہ دیکھتا ہوں “

حضرت ابن عباس سے دوسری روایت یہ ہے کہ الر، حم اور نون مل کر اللہ تعالیٰ کا نام ” الرحمن “ بنتا ہے اور

قتادہ سے یہ روایت ہے کہ یہ حروف قرآن مجید کے اسماء ہیں، ان کی مکمل تفسیر البقرہ : ١، میں گزر چکی ہے۔ (جامع البیان جز ١١ ص ١٠٥، تفسیر امام ابن ابی حاتم ج ٦ ص ١٩٢١)

کتاب حکیم کی تفسیر میں حسب ذیل اقوال ہیں :

(١) اس سے مراد تورات اور انجیل ہے اور اس کا معنی یہ ہے : اس سورت میں جو قصص بیان کیے گئے ہیں وہ تورات اور انجیل کے موافق ہیں، حالانکہ (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کتابوں کو پڑھا تھا نہ کسی عالم سے ان کو سنا تھا تو پھر اس موافقت کا حصول اس کے سوا ممکن نہیں ہے کہ سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر اللہ تعالیٰ نے وحی نازل فرمائی تھی اور یہ آپ کی نبوت اور رسالت پر دلیل ہے۔

(٢) الر میں یہ اشارہ ہے کہ یہ کتاب حروف تہجی کا مرکب ہے، اگر یہ اللہ کا کلام نہیں ہے اور کسی انسان کو کلام ہے تو تم بھی ان حروف تہجی سے اس کی مثل کلام بنا کرلے آئو اور یہ بھی آپ کی نبوت اور رسالت پر دلیل ہے۔

(٣) اس آیت میں حکیم بہ معنی حاکم ہے، یعنی یہ کتاب اس بات کا حکم دیتی ہے کہ سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے دعوی نبوت میں صادق ہیں، کیونکہ آپ کی نبوت کی دلیل قرآن مجید ہے جس کی مثال لانے سے پوری دنیا عاجز ہے۔

(٤) حکیم بہ معنی محکم ہے یعنی یہ کتاب م نسوخ نہیں ہے، اس میں کذب، تناقض اور تضاد نہیں ہے اور حادثات زمانہ سے یہ کتاب مٹ نہیں سکتی اور یہ بھی آپ کی نبوت کی دلیل ہے کیونکہ آپ کا دعوی ہے کہ آپ قیامت تک کے نبی ہیں۔ اس لیے آپ کی کتاب بھی بلا کسی تغیر کے قیامت تک باقی رہے گی، اس کے برخلاف دوسرے انبیاء (علیہم السلام) کیونکہ ایک مخصوص زمانہ کے لیے نبی تھے اس لیے ان کی کتابیں بھی انکے بعد تغیرات سے محفوظ نہیں رہیں حتی کہ اب وہ زبان بھی موجود نہیں جس زبان میں یہ کتابیں نازل ہوئی تھیں۔

(٥) حکیم کا معنی ہے یہ کتاب حکمت پر مشتمل ہے، حکمت کا معنی ہے علم اور عقل سے حق تک پہنچنا، اللہ تعالیٰ کی حکمت کا معنی یہ ہے کہ اس کو تمام اشیاء کا علم ہے اور اس نے ان اشیاء کو انتہائی خوبی اور بہتری کے ساتھ پیدا کیا ہے اور انسان کی حکمت یہ ہے کہ اس کو موجودات کی معرفت ہو اور وہ نیک کام کرے اور قرآن مجید کی حکمت یہ ہے کہ اس نے صحیح اور برحق باتیں بیان کی ہیں۔ (المفردات ج ١ ص ١٦٨ )

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 10 يونس آیت نمبر 1