أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَوَلَا يَرَوۡنَ اَنَّهُمۡ يُفۡتَـنُوۡنَ فِىۡ كُلِّ عَامٍ مَّرَّةً اَوۡ مَرَّتَيۡنِ ثُمَّ لَا يَتُوۡبُوۡنَ وَلَا هُمۡ يَذَّكَّرُوۡنَ ۞

ترجمہ:

کیا وہ یہ نہیں دیکھتے کہ ان کو ہر سال ایک یا دو مرتبہ آزمائش میں ڈالا جاتا ہے پھر بھی وہ توبہ نہیں کرتے اور نہ ہی نصیحت قبول کرتے ہیں

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : کیا وہ یہ نہیں دیکھتے کہ ان کو ہر سال ایک یا دو مرتبہ آزمائش میں ڈالا جاتا ہے پھر بھی وہ توبہ نہیں کرتے اور نہ ہی نصیحت قبول کرتے ہیں۔ (التوبہ : ١٢٦) 

دنیا اور آخرت میں منافقین کے عذاب کی تفصیل اس سے پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا تھا کہ یہ منافقین کفر پر مریں گے اور اس سے یہ واضح ہوگیا کہ ان کو آخرت میں عذاب ہوگا اور اس آیت میں یہ فرمایا ہے کہ ان کو دنیا میں بھی ایک یا دو عذاب میں مبتلا کیا جاتا ہے۔ دنیا میں ان کو جو عذاب دیا جاتا ہے اس کی کئی تفسیریں کی گئی ہیں۔ حضرت ابن عباس رضی الہ عنہما نے فرمایا کہ یہ ہر سال ایک یا دو مرتبہ بیماری میں مبتلا ہوتے تھے اور پھر بھی اپنے نفاق سے توبہ نہیں کرتے تھے اور نہ اس مرض سے کوئی نصیحت حاصل کرتے تھے جس طرح جب مومن بیمار پڑتا ہے تو وہ اپنے گناہوں کو یاد کرتا ہے اور اس کو یہ خیال آتا ہے کہ اس نے ایک دن اللہ کے سامنے کھڑا ہونا ہے تو اس وقت اس کا ایمان اور اس کے دل میں اللہ کا خوف زیادہ ہوتا ہے اور اس وجہ سے وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کی خوشنودی کا زیادہ امیدوار ہوتا ہے۔ مجاہد نے یہ کہا کہ ان کو ہر سال قحط اور بھوک میں مبتلا کیا جاتا ہے۔ قتادہ نے کہا کہ ان کو ہر سال ایک یا دو بار جہاد کی آزمائش میں مبتلا کیا جاتا ہے کیونکہ اگر وہ جہاد میں نہ شریک ہوتے تو لوگ ان کو لعن طعن کرتے اور اگر وہ جہاد میں شریک ہوتے تو ان کو جہاد میں اپنے مارے جانے کا خوف ہوتا۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 9 التوبة آیت نمبر 126