أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِنَّ اللّٰهَ لَهٗ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ‌ؕ يُحۡىٖ وَيُمِيۡتُ‌ؕ وَمَا لَـكُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ مِنۡ وَّلِىٍّ وَّلَا نَصِيۡرٍ‏ ۞

ترجمہ:

بیشک آسمانوں اور زمینوں کی سلطنت اللہ ہی کے لیے ہے وہی زندہ کرتا ہے اور وہی مارتا ہے اور اللہ کے سوا تمہارا کوئی مالک اور مددگار نہیں ہے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : بیشک آسمانوں اور زمینوں کی سلطنت اللہ ہی کے لیے ہے، وہی زندہ کرتا ہے اور وہی مارتا ہے اور اللہ کے سوا تمہارا کوئی مالک اور مددگار نہیں ہے۔ (التوبہ : ١١٦) 

آیات سابقہ سے ارتباط کی وجوہ

سابقہ آیات سے اس آیت کے ربط کی حسب ذیل وجوہات ہیں :

(١) گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے زندہ اور مردہ کافروں سے برأت کافروں سے برأت ظاہر کرنے کا حکم دیا ہے ہوسکتا تھا کہ مسلمانوں کو اس سے یہ خوف ہو کہ کافر انہیں کوئی نقصان پہنچائیں تو اللہ تعالیٰ نے ان کو تسلی دی کہ تمام آسمانوں اور زمینوں کا مالک اللہ ہے اور جب وہ تمہارا حامی اور ناصر ہے تو پھر تمہیں کسی سے ڈرنا نہیں چاہیے۔

(٢) جب مسلمان اپنے مشرک قرابت داری سے لاتعلق ہوگئے تو ان کو احساس محرومی ہوا کہ اب وہ کس سے تعلق رکھیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : تم ان سے محروم ہوگئے ہو تو کیا ہوا اللہ جو تمہارا مالک اور مددگار ہے، تم اس سے محبت اور تعلق رکھو۔

(٣) اللہ تعالیٰ جب تمام آسمانوں اور زمینوں کا مالک ہے تو اے مسلمانو ! وہ تمہارا بھی مالک ہے اور تم اس کے مملوک اور بندے ہو، سو اس کے تمام احکام پر عمل کرنا اس کی بندگی کا تقاضا ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 9 التوبة آیت نمبر 116