أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

مَا كَانَ لِاَهۡلِ الۡمَدِيۡنَةِ وَمَنۡ حَوۡلَهُمۡ مِّنَ الۡاَعۡرَابِ اَنۡ يَّتَخَلَّفُوۡا عَنۡ رَّسُوۡلِ اللّٰهِ وَ لَا يَرۡغَبُوۡا بِاَنۡفُسِهِمۡ عَنۡ نَّـفۡسِهٖ ‌ؕ ذٰ لِكَ بِاَنَّهُمۡ لَا يُصِيۡبُهُمۡ ظَمَاٌ وَّلَا نَصَبٌ وَّلَا مَخۡمَصَةٌ فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ وَلَا يَطَئُــوۡنَ مَوۡطِئًا يَّغِيۡظُ الۡكُفَّارَ وَلَا يَنَالُوۡنَ مِنۡ عَدُوٍّ نَّيۡلاً اِلَّا كُتِبَ لَهُمۡ بِهٖ عَمَلٌ صَالِحٌ‌ ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُضِيۡعُ اَجۡرَ الۡمُحۡسِنِيۡنَۙ ۞

ترجمہ:

اہل مدینہ اور اس کے گرد رہنے والے بدووں (اعراب) کے لیے یہ جائز نہ تھا کہ وہ رسول اللہ کے ساتھ نہ جاتے اور نہ ان کے لیے یہ جائز تھا کہ وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جان سے زیادہ اپنی جانوں کی فکر کرتے یہ حکم اس لیے ہے کہ انہیں جب بھی اللہ کی راہ میں کبھی پیاس لگے گی یا کوئی تھکاوٹ ہوگی یا بھوک لگے گی اور وہ جب بھی کسی ایسی جگہ جائیں گے جس سے کفار غضب ناک ہوں اور وہ جب بھی دشمن سے مال غنیمت حاصل کریں گے تو ان کے لیے اس کے سبب سے نیک عمل لکھا جائے گا بیشک اللہ نیک کام کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتا

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اہل مدینہ اور اس کے ساتھ رہنے والے بدوئوں (اعراب) کے لیے یہ جائز نہ تھا کہ وہ رسول اللہ کے ساتھ نہ جاتے اور نہ ان کے لیے یہ جائز تھا کہ وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جان سے زیادہ اپنی جانوں کی فکر کرتے، یہ حکم اس لیے ہے کہ انہیں جب بھی اللہ کی راہ میں کبھی پیاس لگے گی یا کوئی تھکاوٹ ہوگی یا بھوک لگے گی اور وہ جب بھی کسی ایسی جگہ جائیں گے جس سے کفار غضب ناک ہوں اور وہ جب بھی دشمن سے مال غنیمت حاصل کریں گے تو ان کے لیے اس سبب سے نیک عمل لکھا جائیں گا بیشک اللہ نیک کام کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔ (التوبہ : ١٢٠) 

لشکر اسلام کے ساتھ تمام مسلمانوں کے روانہ ہونے کے وجوب کی تحقیق اس سے پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ سچوں کے ساتھ رہو، اس کا تقاضا یہ تھا کہ تمام غزوات اور مشاہد میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ رہنا واجب ہے اسی حکم کی تاکید کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ساتھ چھوڑنے سے منع فرما دیا۔

حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا اس آیت میں جن اعراب کا ذکر کیا گیا ہے وہ یہ ہیں : مزینہ، جہینہ، اشجع، اسلم اور غفار اور ایک قول یہ ہے کہ اس آیت میں مدینہ کے گرد رہنے والے تمام اعراب مراد ہیں کیونکہ لفظ من عام ہے۔ بہرحال اس آیت میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ نہ جانے کی ممانعت کردی ہے اور اب کسی کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ اپنے آپ کو دھوپ، گرمی، بھوک اور پیاس، سفر کی مشقت اور دشمن کے حملوں سے محفوظ اور مامون رکھنے کے لیے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ نہ جائے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس سخت گرمی کے سفر میں بھوک، پیاس اور دشمن کے حملوں کی زد میں جاتا ہوا دیکھتا رہے گویا اس کی جان رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جان سے زیادہ قیمتی اور حفاظت کے قابل ہے۔ اس آیت کے ظاہر کا تقاضا یہ ہے کہ ہر شخص پر امیر لشکر کے ساتھ جہاد کے لیے جانا واجب ہو لیکن دیگر شرعی دلائل سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ہر شخص پر جہاد کے لیے روانہ ہونا واجب نہیں ہے کیونکہ بیماروں، کمزوروں اور عاجزوں پر جہاد کے لیے جانا واجب نہیں ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : لا یکلف اللہ نفسا الا وسعھا (البقرہ : ٢٨٦) اللہ تعالیٰ کسی شخص کو اس کی طاقت سے زیادہ مکلف نہیں کرتا۔ لیس علی الاعمی حرج ولا علی الاعرج حرج ولا علی المریض حرج۔ (الفتح : ١٧) اندھے پر کوئی حرج نہیں ہے اور نہ لنگڑے پر کوئی گرفت ہے اور نہ بیمار سے کوئی مواخذہ ہوگا۔ نیز جب مسلمانوں کی تعداد کم تھی تو ہر شخص پر واجب تھا کہ وہ جہاد میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ جائے لیکن جب مسلمانوں کی تعداد زیادہ ہوگئی تو یہ حکم اس آیت سے منسوخ ہوگیا : وما کان المومنون لینفروا کافۃ۔ (التوبہ : ١٢٢) اور یہ تو نہیں ہوسکتا کہ تمام مسلمان (اللہ کی راہ میں) روانہ ہوجائیں۔ قتادہ نے کہا ہے کہ تمام مسلمانوں پر جہاد کے لیے نکلنے کا وجوب اس وقت تھا جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بنفسہٖ جہاد کے لیے روانہ ہوں اور اس وقت بغیر عذر کے کسی کے لیے آپ کا ساتھ چھوڑنا جائز نہ تھا اور ابن عطیہ نے یہ کہا کہ تمام مسلمانوں پر جہاد کے لیے روانہ ہونا اس وقت واجب تھا جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تمام مسلمانوں کو روانہ ہونے کا حکم دیں اور یہی قول صحیح ہے کیونکہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حکم دیں اور بلائیں تو آپ کے حکم کی اطاعت کرنا اور آپ کے بلانے پر جانا واجب ہے اسی طرح بعد میں مسلمانوں کے حکمران جب مسلمانوں کو لشکر اسلام میں شامل ہونے کے لیے بلائیں تو ان کے حکم کی اطاعت کرنا اور ان کے بلانے پر جہاد کے لیے جانا واجب ہے۔ (تفسیر کبیر ج ٦ ص ١٦٩، مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت، اللباب ج ١٠ ص ٢٣٧۔ ٢٣٦، بیروت ١٤١٩ ھ)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 9 التوبة آیت نمبر 120