أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاِذَا مَاۤ اُنۡزِلَتۡ سُوۡرَةٌ نَّظَرَ بَعۡضُهُمۡ اِلٰى بَعۡضٍؕ هَلۡ يَرٰٮكُمۡ مِّنۡ اَحَدٍ ثُمَّ انْصَرَفُوۡا‌ ؕ صَرَفَ اللّٰهُ قُلُوۡبَهُمۡ بِاَنَّهُمۡ قَوۡمٌ لَّا يَفۡقَهُوۡنَ ۞

ترجمہ:

اور جب کوئی سورت نازل ہوتی ہے تو وہ آنکھوں ہی آنکھوں میں ایک دوسرے سے کہتے ہیں کہ تمہیں کوئی دیکھ تو نہیں رہا، پھر وہ پلٹ کر بھاگ جاتے ہیں اللہ نے ان کے دلوں کو پلٹ دیا ہے کیونکہ یہ لوگ سمجھنے والے نہیں تھے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور جب کوئی سورت نازل ہوتی ہے تو وہ آنکھوں ہی آنکھوں میں ایک دوسرے سے کہتے ہیں کہ تمہیں کوئی دیکھ تو نہیں رہا پھر وہ پلٹ کر بھاگ جاتے ہیں اللہ نے ان کے دلوں کو پلٹ دیا ہے کیونکہ یہ لوگ سمجھنے والے نہیں تھے۔ (التوبہ : ١٢٧) 

قرآن مجید سے منافقین کی نفرت اور بیزاری اس سے پہلی آیتوں میں منافقین کے قبیح افعال بیان فرمائے تھے اسی سلسلہ میں یہ آیت بھی ہے اس میں یہ فرمایا ہے کہ جب وہ قرآن مجید کی کوئی سورت سنتے ہیں تو ان کو اس کے سننے سے کوفت اور اذیت ہوتی ہے اور ان کے چہروں پر نفرت اور کدورت کے آثار ظاہر ہوتے ہیں پھر وہ آنکھوں ہی آنکھوں میں ایک دوسرے کی طرف دیکھ کر اشاروں سے یہ کہتے ہیں کہ تمہیں کوئی دیکھ تو نہیں رہا یعنی ان کے چہروں پر قرآن مجید سننے سے نفرت اور بیزاری کے جو آثار ظاہر ہو رہے ہیں ان کو کسی نے جانچ تو نہیں لیا قرآن مجید سننے کے بعد انہوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھ کر قرآن مجید کا مذاق اڑانے کے لیے جو اشارے کیے اور استہزائیہ انداز میں ایک دوسرے کی طرف دیکھا اس کو کسی نے دیکھ تو نہیں لیا یا قرآن مجید سننے سے ان کو جو اذیت اور تکلیف ہوتی تھی اس کی وجہ سے مجلس ہی میں موجود رہتے تھے اور قرآن مجید پر اعتراض کرنے اور زبان طعن دراز کرنے کی طرف متوجہ ہوجاتے تھے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اللہ نے ان کے دلوں کو پلٹا دیا ہے کیونکہ یہ لوگ سمجھنے والے نہیں تھے، اس پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے خود ان کے دلوں کو پھیر دیا ہے تو ان کی مذمت کیوں کی جاتی ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ ان کو ایمان لانے کے بہت مواقع دیئے گئے، معجزات دکھائے گئے اور دلائل پیش کیے گئے، لیکن انہوں نے ان تمام دلائل اور معجزات کا مذاق اڑایا اور ایسا بھاری کفر کیا کہ اس کی سزا میں ان کے دلوں پر اللہ تعالیٰ نے مہر لگادی۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 9 التوبة آیت نمبر 127