أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَلَا يُنۡفِقُوۡنَ نَفَقَةً صَغِيۡرَةً وَّلَا كَبِيۡرَةً وَّلَا يَقۡطَعُوۡنَ وَادِيًا اِلَّا كُتِبَ لَهُمۡ لِيَجۡزِيَهُمُ اللّٰهُ اَحۡسَنَ مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ۞

ترجمہ:

اور وہ جب بھی (اللہ کی راہ میں) کوئی چھوٹا یا بڑا خرچ کرتے ہیں یا کسی مسافت کو طے کرتے ہیں تو ان کا وہ عمل لکھ دیا جاتا ہے تاکہ اللہ ان کو ان کے عمل کی بہترین جزا عطا فرمائے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور وہ جب بھی (اللہ کی راہ میں) کوئی چھوٹا یا بڑا خرچ کرتے ہیں یا کسی مسافت کو طے کرتے ہیں تو ان کا وہ عمل لکھ دیا جاتا ہے تاکہ اللہ ان کو ان کے عمل کی بہترین جزا عطا فرمائے۔ (التوبہ : ١٢١) 

اللہ کے نزدیک ہر چھوٹی اور بڑی نیکی مقبول ہے یعنی اللہ کی راہ میں کوئی چھوٹی سی چیز بھی صدقہ کی جائے یا اللہ کی راہ میں تھوڑی سی مسافت بھی طے کی جائے تو اللہ اس کا اجر عطا فرماتا ہے۔

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص نے پاک کمائی سے ایک کھجور کے برابر بھی صدقہ کیا اور اللہ صرف پاک چیز ہی کو قبول کرتا ہے تو اللہ اس کو اپنے دائیں ہاتھ سے قبول فرماتا ہے، پھر اس کی پرورش کرتا رہتا ہے جس طرح تم میں سے کوئی شخص اپنے بچھڑے کی پرورش کرتا ہے حتیٰ کہ وہ صدقہ پہاڑ جتنا ہوجاتا ہے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ١٤١٠، صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٠١٤، مشکوٰۃ رقم الحدیث : ١٨٨٨)

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہر روز جب سورج طلوع ہوتا ہے تو انسان کے ہر جوڑ کے اوپر ایک صدقہ واجب ہوتا ہے، انسان کسی شخص کو سواری میں سوار ہونے پر مدد کرے یا اس کا سامان سواری پر لاد دے تو یہ صدقہ ہے اور نیک بات کہنا صدقہ ہے اور نیک بات کہنا صدقہ ہے اور نماز کی طرف ہر قدم چلنا صقدہ صدقہ ہے اور راستہ سے کوئی تکلیف دہ چیز ہٹانا صدقہ ہے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٢٩٨٩، صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٠٠٩، مشکوٰۃ رقم الحدیث : ١٨٩٧)

اس آیت میں فرمایا ہے : اللہ تعالیٰ نیک اعمال کی بہترین جزا عطا فرماتا ہے، نیک اعمال میں فرائض، واجبات، سنن، مستحبات سب شامل ہیں۔ بعض علماء نے کہا کہ ان میں مباح کام (مثلاً لذیذ کھانے کھانا، عمدہ لباس پہننا، بہترین مکان میں رہنا) شامل نہیں ہیں لیکن تحقیق یہ ہے کہ مباح کام بھی اچھی نیت کے ساتھ کیے جائیں تو ان پر بھی ثواب ملتا ہے اور اللہ کی نعمتوں کا اظہار کرنا یہ بھی اچھی نیت ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : وہ نیک کاموں پر بہترین جزا عطا فرماتا ہے، بہترین جزا کا ذکر اس حدیث میں ہے :

حضرت خریم بن فاتک (رض) بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو شخص اللہ کی راہ میں کوئی چیز خرچ کرتا ہے اس کے لیے وہ چیز سات سو گنا لکھی جاتی ہے۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث : ١٦٢٥، سنن النسائی رقم الحدیث : ٣١٨٦، مصنف ابن ابی شیبہ ج ٥ ص ٣١٨، مسند احمد ج ٤ ص ٣٤٥، صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ٤٦٤٧، المعجم الکبیر رقم الحدیث : ٤١٥٣، المستدرک ج ٢ ص ٨٧)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 9 التوبة آیت نمبر 121