أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَمَا كَانَ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ لِيَنۡفِرُوۡا كَآفَّةً‌ ؕ فَلَوۡلَا نَفَرَ مِنۡ كُلِّ فِرۡقَةٍ مِّنۡهُمۡ طَآئِفَةٌ لِّيَـتَفَقَّهُوۡا فِى الدِّيۡنِ وَ لِيُنۡذِرُوۡا قَوۡمَهُمۡ اِذَا رَجَعُوۡۤا اِلَيۡهِمۡ لَعَلَّهُمۡ يَحۡذَرُوۡنَ۞

ترجمہ:

اور یہ تو نہیں ہوسکتا کہ (اللہ تعالیٰ کی راہ میں) تمام مسلمان روانہ ہوجائیں تو ایسا کیوں نہ ہوا کہ ان کے ہر گروہ میں سے ایک جماعت روانہ ہوتی تاکہ وہ لوگ دین کی سمجھ حاصل کرتے اور جب وہ اپنی قوم کی طرف لوٹتے تو ان کو (اللہ کے عذاب سے) ڈراتے تاکہ وہ گناہوں سے بچتے۔ ؏

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور یہ تو نہیں ہوسکتا کہ (اللہ کی راہ میں) تمام مسلمان روانہ ہوجائیں تو ایسا کیوں نہ ہوا کہ ان کے ہر گروہ میں سے ایک جماعت روانہ ہوتی تاکہ وہ لوگ دین کی سمجھ حاصل کرتے اور جب وہ اپنی قوم کی طرف لوٹتے تو ان کو (اللہ کے عذاب سے) ڈراتے تاکہ وہ گناہوں سے بچتے۔ (التوبہ : ١٢٢) 

تبلیغ اسلام کے لیے جہاد کا فرض کفایہ ہونا

اس آیت کے شان نزول کے متعلق دو روایتی ہیں، پہلی روایت یہ ہے :

حضرت ابن عباس (رض) سے منقول ہے کہ جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کسی غزوہ کی طرف جاتے تھے تو آپ کے ساتھ نہ جانے والوں میں منافق ہوتے تھے یا معذور لوگ اور جب اللہ سبحانہ نے غزوہ تبوک میں آپ کے ساتھ نہ جانے والے منافقین کی سخت مذمت فرمائی تو مسلمانوں نے کہا اللہ کی قسم ! آئندہ ہم کسی غزوہ سے پیچھے رہیں گے نہ کسی سریہ سے، پھر جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ آئے اور آپ نے کفار کی طرف لشکر بھیجے تو تمام مسلمان لڑنے کے لیے روانہ ہوگئے اور مدینہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تنہا رہ گئے، اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی اور اس کا معنی یہ ہے کہ مسلمانوں کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ سب کے سب جہاد کے لیے روانہ ہوجائیں بلکہ ان پر واجب ہے کہ ان کی دو جماعتیں ہوجائیں : ایک جماعت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر رہے اور جو احکام نازل ہوں اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جو ارشادات فرمائیں ان کو محفوظ اور منضبط کرتے رہیں اور جب پہلی جماعت جہاد سے واپس آئے تو ان کو احکام سکھائیں اور دوسری جماعت جہاد کے لیے روانہ ہوجائے، احکام شرعیہ تدریجاً نازل ہورہے تھے، اس لیے ان احکام کو حاصل کرنے کے لیے مدینہ میں آپ کے پاس رہنا بھی ضروری تھا اور اسلام کی نشر و اشاعت اور تبلیغ دین کے لیے جہاد کرنا بھی ضروری تھا۔ (تفسیر کبیر ج ٦ ص ١٧٠، مطبوعہ بیروت ١٤١٥ ھ، جامع البیان جز ١١ ص ٨٩٠، دارالفکر بیروت ١٤١٥ ھ) 

حصول علم دین کا فرض کفایہ ہونا

اس آیت کے شان نزول کے متعلق دوسری روایت یہ ہے :

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ عرب کے قبائل میں سے ہر قبیلہ سے مسلمانوں کی ایک جماعت نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہو کر مسائل دین اور احکام شرعیہ سیکھتی تھی اور ان کو اپنے پیش آمدہ مسائل میں جس شرعی رہنمائی کی ضرورت ہوتی تھی آپ سے وہ رہنمائی حاصل کرتی تھی، پھر جب وہ قوم اپنے قبیلہ میں واپس جاتی تو وہ ان کو نماز، زکوٰۃ اور اسلام کے دیگر احکام کی تعلیم دیتی اور اسلام کی تبلیغ کرتی اور اللہ کے عذاب سے ڈراتی اور یہ کہتی کہ جو اسلام لے آیا وہ ہم میں سے ہے حتیٰ کہ ایک شخص اپنے ماں باپ سے جدا ہوجاتا۔ (تفسیر امام ابن ابی حاتم ج ٦ ص ١٩١١، رقم الحدیث : ١٠١٢٢، مطبوعہ مکہ مکرمہ ١٤١٧ ھ)

یہ آیت طلب علم کے وجوب میں اصل ہے اور یہ کہ کتاب اور سنت کا علم اور اس کی فقہ (سمجھ) حاصل کرنا فرض ہے اور یہ فرض عین نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے تمام مسلمانوں پر یہ واجب نہیں کیا کہ وہ علم دین کے حصول کے لیے سفر کریں بلکہ مسلمانوں کی ایک جماعت پر یہ فرض کیا ہے اس لیے یہ فرض کفایہ ہے۔ طلب علم پر یہ آیت بھی دلالت کرتی ہے : فسئلوز اھل الذکر ان کنتم لا تعلمون۔ (النہخ : ٤٣) اگر تم کو علم نہ ہو تو علم والوں سے پوچھو۔ 

حصول علم دین کے فرض عین ہونے کا محمل طلب علم کی دو قسمیں ہیں :

ایک قسم فرض عین ہے، اس کا سیکھنا ہر مسلمان پر فرض ہے، مثلاً نماز ہر شخص پر فرض ہے تو نماز کے احکام اور مسائل کا سیکھنا ہر شخص پر فرض ہے، اسی طرح روزہ بھی ہر مسلمان پر فرض ہے تو اس کے مسائل کا علم حاصل کرنا بھی ہر شخص پر فرض ہے اور جو شخص مالدار ہو اس پر زکوٰۃ کے مسائل کا سیکھنا فرض ہے اور جو حج کے لیے روانہ ہو اس پر حج کے ارکان، فرائض، واجبات اور موانع کا علم حاصل کرنا فرض ہے اور جو شخص نکاح کرے اس پر لازم ہے کہ وہ نکاح، طلاق اور حقوق زوجین کے جملہ مسائل کا پہلے علم حاصل کرے اور اس کی فرضیت پر یہ حدیث دلالت کرتی ہے : حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : علم کا طلب کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے اور نااہل کو علم سکھانا ایسا ہے جیسے خنزیروں کو جوہر، موتی اور سونے کے ہار ڈال دیئے جائیں۔ (سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٢٢٤، المعجم الکبیر رقم الحدیث : ١٠٤٣٩، تہذیب تاریخ دمشق ج ٦ ص ٢٧٨، حلیتہ الاولیاء ج ٨ ص ٣٢٣، تاریخ بغداد ج ١٠ ص ٣٧٥، مشکوٰۃ رقم الحدیث : ٢١٨، المطالب العالیہ رقم الحدیث : ٣٠٦٥، الترغیب و الترہیب ج ١ ص ٩٦، مجمع الزوائد ج ١ ص ١١٩، کنز العمال رقم الحدیث : ٢٨٦٥١) 

حصول علم دین کے فرض کفایہ ہونے کا محمل طلب علم کی دوسری قسم فرض کفایہ ہے یعنی تمام احکام شرعیہ اور مسائل دینیہ کا ان کے دلائل کے ساتھ علم حاصل کرنا حتیٰ کہ جس کسی عام شخص کو زندگی میں جو بھی عملی یا اقتصادی مسئلہ درپیش ہو تو وہ عالم دین اس مسئلہ کا حل پیش کرسکے، اس میں عبادات، معاملات، حدود و تعزیرات، قصاص اور حدیث اور تفسیر کا علم شامل ہے۔ اس علم کا حامل رتبہ اجتہاد پر فائز ہوتا ہے اور اس اجتہاد سے مراد مسائل عصر یہ میں اجتہاد ہے جیسے اس زمانہ میں ٹیلی فون پر نکاح، ریڈیو اور ٹیلی وژن پر رمضان اور عید اور سحر اور افطار کا اعلان، خاندانی منصوبہ بندی، اسقاط حمل، ٹیست ٹیوب بےبی، ریل اور ہوائی جہاز میں نماز، الکوحل آمیز دوائیاں، انتقال خون اور ایسے دیگر مسائل میں شرعی حکم بیان کرنا۔ اس آیت میں مسلمانوں کی ایک جماعت کو علم دین کے حصول کے لیے نکلنے کا حکم دیا گیا ہے، اس سے یہی علم مراد ہے اور جب یہ لوگ اس علم کو حاصل کرکے آئیں اور اپنے علاقہ کے لوگوں کو احکام شرعیہ بتائیں تو ان پر ان کے بتائے ہوئے احکام پر عمل کرنا فرض ہے اور یہی تقلید ہے کیونکہ ہر شخص اتنا وسیع علم حاصل نہیں کرسکتا جو تمام احکام شرعیہ اور پیش آمدہ مسائل کے حل کے لیے متکفل ہو اس لیے وہ ان مسائل میں علماء کی طرف رجوع کرے گا اور ان کی تقلید کرے گا۔ 

علم دین کے فضائل

حضرت ابو الدرداء (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جو شخص کسی راستہ پر علم کی تلاش میں نکلتا ہے اللہ اس کو جنت کے راستہ کی طرف لے جاتا ہے اور فرشتے طالب علم کی رضا کے لیے پر جھکاتے ہیں اور بیشک جو آسمانوں میں ہیں اور جو زمینوں میں ہیں اور جو مچھلیاں پانی کی گہرائی میں ہیں یہ سب عالم کے لیے مغفرت کی دعا کرتے ہیں اور بیشک علماء انبیاء کے وارث ہیں اور بیشک انبیاء دینار اور درہم کے وارث نہیں بناتے، وہ صرف علم کے وارث بناتے ہیں، سو جس شخص نے علم کو حاصل کیا اس نے بہت بڑے حصہ کو حاصل کیا۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث : ٢٦٨٢، سنن ابودائود رقم الحدیث : ٣٦٤، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٢٢٣، سنن الدارمی رقم الحدیث : ٣٤٢، صحیح ابن رقم الحدیث : ٨٨، مسند احمد ج ٥ ص ١٩٦، مسند الشامبین رقم الحدیث : ١٢٣) حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ایک فقیہ شیطان پر ایکہزار عابدوں سے زیادہ شدید ہوتا ہے۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث : ٢٦٨١، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٢٢٢، المعجم الکبیر رقم الحدیث : ١١٠٩٩، مسند الشابمبین رقم الحدیث : ١١٠٩، الکالمل لا بن عدی ج ٣ ص ١٠٠٤، تاریخ بغداد ج ١ ص ٢٢٤) حضرت معاویہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : اللہ جس شخص کے ساتھ خیر کا ارادہ کرتا ہے اس کو دین کی فقہ (سمجھ) عطا فرماتا ہے، میں صرف تقسیم کرنے والا ہوں اور اللہ عطا فرماتا ہے اور یہ امت ہمیشہ حق پر قائم رہے گی اور کسی کی مخالفت ان کو نقصان نہیں پہنچا سکے گی حتیٰ کہ قیامت آجائے گی۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٧١، ٧٣١٢، صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٠٣٧، صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ٨٩، مسند احمد ج ٤ ص ١٠١، المعجم الکبیر ج ١٩ ص ٣٢٩، رقم الحدیث : ٧٧٥، شرح السنہ ج ١ ص ٢٨٤، رقم الحدیث : ١٣١) 

فقہ کا لغوی اور اصطلاحی معنی

اس آیت میں ایک لفظ ہے لنتفقھوا فی الدین اور اس کا مادہ فقہ ہے، فقہ کے لغوی اور اصطلاحی معنی حسب ذیل ہیں : علامہ راغب اصفہانی متوفی ٥٠٢ ھ نے لکھا ہے فقہ کا لغوی معنی ہے علم حاضر سے علم غائب تک پہنچنا اور اس کا اصطلاحی معنی ہے احکام شرعیہ کا علم، (المفردات ج ٢ ص ٤٩٦) میر سید شریف جرجانی متوفی ٨١٦ ھ نے لکھا ہے، فقہ کا لغوی معنی ہے متکلم کے کلام سے اس کی غرض کو سمجھنا اور اس کا اصطلاحی معنی ہے : احکام شرعیہ عملیہ کا علم جو ان کے دلائل تفصیلیہ سے حاصل ہو ایک قول یہ ہے کہ فقہ اس مخفی معنی پر واقف ہونے کو کہتے ہیں جس کے ساتھ حکم متعلق ہے اور یہ وہ علم ہے جو رائے اور اجتہاد سے مسنبط ہوتا ہے اس میں غور و فکر کی ضرورت پڑتی ہے اس وجہ سے اللہ تعالیٰ کو فقیہ نہیں کہا جاتا کیونکہ اس سے کوئی چیز مخفی نہیں ہے۔ (التعریفات ص ١١٩، مطبوعہ بیروت) اور امام اعظم ابوحنیفہ سے یہ تعریف منقول ہے الفقہ معرفۃ النفس مالھا وما علیھا (التوضیح مع التلویح ص ٢٢، مطبوعہ کراچی) ” نفس کا اپنے نفع اور نقصان کی چیزوں کو جان لینا۔ “ 

تقلید شخصی پر دلائل

سورة توبہ کی اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : اور یہ تو نہیں ہوسکتا کہ (اللہ کی راہ میں) تمام لوگ روانہ ہوجائیں تو ایسا کیوں نہ ہوا کہ ان کے ہر گروہ میں سے ایک جماعت روانہ ہوتی تاکہ وہ لوگ دین کی سمجھ حاصل کرتے اور جب وہ اپنی قوم کی طرف لوٹتے تو ان کو (اللہ کے عذاب سے) ڈراتے تاکہ وہ گناہوں سے بچتے۔ (التوبہ : ١٢٢)

اس آیت کی رو سے جب یہ لوگ واپس آکر اپنے علاقہ کے لوگوں کو احکام شرعیہ بتائیں تو ان کے علاقہ والے لوگوں پر ان کے بیان کیے ہوئے احکام پر عمل کرنا فرض ہے اور یہی تقلید ہے کہ عام آدمی جو دلائل شرعیہ کو نہیں جانتا اور قرآن اور حدیث سے براہ راست احکام حاصل نہیں کرسکتا وہ عالم دین کے بتائے ہوئے حکم شرعی پر عمل کرے اور اس کے لیے دلائل شرعیہ کو جاننا ضروری نہیں ہے۔ تقلید پر دوسری دلیل قرآن مجید کی یہ آیت ہے : اگر تم کو علم نہ ہو تو علم والوں سے پوچھو۔ (النحل : ٤٣)

نیز حدیث شریف میں ہے : حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زوجہ حضرت صفیہ بنت حبی (رض) کو حیض آگیا انہوں نے اس کا رسول للہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ذکر کیا آپ نے فرمایا : کیا یہ ہم کو (واپسی سے) روک لیں گی (انہوں نے طواف و داع نہیں کیا تھا) صحابہ نے بتایا کہ وہ طواف زیارت کرچکی ہیں، آپ نے فرمایا : پھر کوئی حرج نہیں۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ١٧٥٧، مطبوعہ بیروت)

عکرمہ بیان کرتے ہیں کہ اہل مدینہ نے حضرت ابن عباس (رض) سے اس عورت کے متعلق سوال کیا جو طواف زیارت کرچکی تھی پھر اس کو حیض آگیا۔ ٠ آیا وہ طواف وداع کیے بغیر اپنے وطن واپس جاسکتی ہے ؟ ) حضرت ابن عباس نے فرمایا : ہاں وہ جاسکتی ہے۔ (حضرت زید بن ثابت یہ کہتے تھے کہ وہ طوفا وداع کیے بغیر نہیں جاسکتی) انہوں نے کہا ہم آپ کے قول پر عمل کر کے حضرت زید کے قول نہیں چھوڑیں گے، حضرت ابن عباس نے فرمایا : جب تم مدینہ جائو تو اس مسئلہ کو معلوم کرلینا، انہوں نے مدینہ پہنچ کر اس سئلہ کو معلوم کیا انہوں نے حضرت ام سلیم سے پوچھا، حضرت ام سلیم نے حضرت صفیہ کی حدیث (مذکور الصدر) بیان کی۔ صحیح البخاری رقم الحدیث : ١٧٥٨، مطبوعہ دار ارقم بیروت)

حافظ ابن حجر عسقلانی متوفی ٨٥٢ ھ نے سنن ابودائود طیالسی کے حوالے سے لکھا ہے کہ انصار نے کہا اے ابن عباس ! جب آپ زید کی مخالفت کریں گے تو ہم آپ کی اتباع نہیں کریں گے اور سنن نسائی کے حوالے سے لکھا ہے کہ جب حضرت زید بن ثابت کو حضرت صفیہ کی حدیث کا علم ہوا تو انہوں نے اپنے موقف سے رجوع کرلیا۔ (فتح الباری ج ٣ ص ٥٨٨، مطبوعہ لاہور ١٤٠١ ھ)

خلاصہ یہ ہے کہ اہل مدینہ پیش آمدہ مسائل میں حضرت زید بن ثابت (رض) کی تقلید کرتے تھے اور حضرت زید بن ثابت کے قول کے خلاف جب حضرت ابن عباس نے فتویٰ دیا تو انہوں نے حضرت ابن عباس کے قول پر عمل نہیں کیا اور یہی تقلید شخصی ہے۔ امام غزالی متوفی ٥٠٥ ھ مسئلہ تقلید پر گفتگو کرتے ہوئے لکھتے ہیں : عام آدمی کے لیے عالم دین کی تقلید پر دلیل یہ ہے کہ صحابہ کرام کا اس پر اجماع ہے کہ عام آدمی احکام شرعیہ کا مکلف ہے اور اگر ہر آدمی درجہ اجتہاد کا علم حاصل کرنے کا مکلف ہو تو زراعت، صنعت و حرفت اور تجارت بلکہ دنیا کے تمام کاروبار معطل ہوجائیں گے کیونکہ ہر شخص مجتہد بننے کے لیے دن رات علم کے حصول میں لگا رہے گا اور نہ کسی کے لیے کچھ کھانے کو ہوگا نہ پہننے کو اور دنیا کا نظام برباد ہوجائے گا اور حرج عظیم واقع ہوگا اور یہ بداہتاً باطل ہے اور یہ بطلان اس بات کے ماننے سے لازم آیا کہ عام آدمی درجہ اجتہاد کا مکلف ہے لہٰذا ثابت ہوا کہ عام آدمی درجہ اجتہاد کا مکلف نہیں ہے اور عام آدمی پر مجتہدین کی تقلید لازم ہے۔ (المستصفیٰ ج ٢ ص ٣٨٩، مطبوعہ مصر)

امام غزالی کی اس تقریر سے یہ اور واضح ہوگیا کہ سورة توبہ : ١٢٢ میں اللہ تعالیٰ نے تفقہ فی الدین صرف ایک جماعت میں لازم کیا ہے اور تمام مسلمانوں تفقہ فی الدین حاصل کرنا ان کی ذمہ داری ہے باقی تمام عام لوگوں پر صرف ان کی تقلید لازم ہے۔

شیخ احمد بن تیمیہ حنبلی متوفی ٧٢٨ ھ لکھتے ہیں : امام احمد بن حنبل نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت کے بارے میں ایک کتاب لکھی ہے اور یہ چیز تمام ائمہ مسلمین کے درمیان اتفاقی ہے کہ اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت، اللہ اور اس کے رسول کے حلال کردہ کو حلال قرار دینا اور اس کے رسول کے حرام کردہ کو حرام قرار دینا اور جس چیز کو اللہ اور اس کے رسول نے واجب قرار دیا ہے اس کو واجب ماننا تمام جن و انس پر واجب ہے اور یہ ہر شخص پر ہرحال میں واجب ہے، ظاہر ہو یا باطن، لیکن چونکہ بہت سے احکام ایسے ہیں جن کو عام لوگ نہیں جانتے اس وجہ سے عام لوگ ان احکام میں ان علماء کی طرف رجوع کرتے ہیں جو ان کو یہ احکام بتلا سکیں کیونکہ علماء رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی احادیث کا زیادہ علم رکھتے ہیں، پس مسلمان جن ائمہ کی اتباع کرتے ہیں وہ عام لوگوں اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے درمیان وسیلہ، راستہ اور رہ نما ہیں۔ وہ عام لوگوں تک رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی احادیث پہنچاتے ہیں اور اپنے اجتہاد سے بقدر استطاعت احادیث کا مفہوم اور مراد بیان کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ان علماء کو ایسا علم اور ایسا فہم عطا فرماتا ہے جو دوسروں کو نہیں دیتا اور بسا اوقات یہ علماء کسی مسئلہ کو اس طرح جانتے ہیں جس طرح دوسرے اس مسئلہ کو نہیں جانتے۔ (مجموعہ الفتاوی ج ٢٠ ص ٢٢٤۔ ٢٢٣، مطبوعہ سعودی عربیہ

) نیز شیخ ابن تیمیہ حنبلی لکھتے ہیں : جس شخص نے کسی مذہب معین کا التزام کرلیا اور پھر بغیر کسی شرعی عذر یا بغیر کسی دلیل مرجح کے کسی اور عالم کے فتویٰ پر عمل کیا تو وہ شخص اپنی خواہش کا پیروکار ہے۔ وہ مجتہد ہے نہ مقلد اور وہ بغیر عذر شرعی کے حرام کام کا ارتکاب کررہا ہے اور یہ چیز لائق مذمت ہے۔ شیخ نجم الدین کے کلام کا یہی خلاصہ ہے۔ نیز امام احمد اور دیگر ائمہ نے اس کی تصریح کی ہے کہ پہلے کوئی شخص کسی چیز کو حرام یا واجب اعتقاد کرے اور پھر اس کو غیر حرام یا غیر واجب اعتقاد کرے تو یہ اصلاً جائز نہیں ہے مثلاً پہلے کوئی شخص پڑوس کی بناء پر شفعہ کا مطالبہ کرے (جیسا کہ حنفی مذہب میں ہے) اور جب اس پر پڑوس کی وجہ سے شفعہ ہو تو کہے یہ ثابت نہیں ہے (جیسا کہ شافعی مذہب میں ہے) اسی طرح نبیذ پینے، شطرنج کھیلنے، یا بھائی کے ساتھ دادا کی میراث کے تقسیم کرنے کے اختلافی مسائل میں کبھی ایک پہلو اختیار کرے اور کبھی محض اپنی خواہش سے دوسر اپہلو اختیار کرے یہ شخص محض اپنی خواہش کا پیروکار ہے اور امام احمد اور دیگر ائمہ نے اس کو ناجائز قرار دیا ہے (اور یہی تقلید شخصی ہے) (مجموعہ التفاوی ج ٢٠ ص ٢٢١۔ ٢٢٠، مطبوعہ سعودی عربیہ) 

مسائل فقہیہ میں ائمہ مجتہدین کے اختلاف کے اسباب علامہ عبدالوہاب الشعرانی المتوفی ٩٧٣ ھ لکھتے ہیں : تمام ائمہ مجتہدین اپنے اصحاب کو اس پر برانگیختہ کرتے تھے کہ وہ کتاب اور سنت کے ظاہر پر عمل کریں اور وہ یہ کہتے تھے کہ جب تم ہمارے کلام کو ظاہر کتاب اور سنت کے خلاف دیکھو تو تم ظاہر کتاب اور سنت پر عمل کرو اور ہمارے کلام کو دیوار پر مار دو ان کا یہ کہنا احتیاط پر مبنی ہے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ادب کا تقاضا ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ شریعت میں کسی چیز کا اضافہ کردیں جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نہ کیا ہو اور جس سے آپ راضی نہ ہوں۔ (میزان الشریعتہ الکبریٰ ج ١ ص ٦٧، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت، ١٤١٨ ھ)

بعض فقہی مسائل میں ائمہ مجتہدین کا باہم اختلاف ہوتا ہے اس اختلاف کی وجہ یہ ہے کہ ان کے اصول اجتہاد میں اختلاف ہوتا ہے اور اس اختلاف کے اور بھی اسباب ہیں، ہم ان میں سے بعض کا یہاں ذکر کر رہے ہیں :

(١) بعض اوقات مجتہد کو وہ حدیث نہیں ملتی اور جس کو ایک حدیث نہیں پہنچی وہ اس کا مکلف نہیں ہے کہ وہ اس کے مقتضیٰ پر عمل کرے اور ایسی صورت میں وہ کسی ظاہر آیت پر عمل کرتا ہے یا کسی اور حدیث پر یا استصحاب حال کے موافق اجتہاد کرتا ہے اور بعض اوقات اس کا یہ اجتہاد اس حدیث کے موافق ہوتا ہے یا مخالف اور یہی سبب غالب ہے کیونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تمام احادیث کا احاطہ امت کے کسی شخص نے نہیں کیا حتیٰ کہ خلفاء راشدین نے بھی اس کا احاطہ نہیں کیا تھا جو امت میں سب سے زیادہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ارشادات اور آپ کی سنن کو جاننے والے تھے۔ جیسا کہ مندرجہ ذیل احادیث سے ظاہر ہوتا ہے :

حضرت ابوسعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں مدینہ میں انصار کی ایک مجلس میں بیٹھا ہوا تھا، ہمارے پاس حضرت ابوموسیٰ (رض) خوف زدہ حالت میں آئے، ہم نے پوچھا کیا ہوا ؟ انہوں نے کہا کہ حضرت عمر نے مجھے بلوایا تھا، میں ان کے دروازے پر گیا، میں نے ان کو تین مرتبہ سلام کیا، انہوں نے مجھے کوئی جواب نہیں دیا تو میں لوٹ آیا۔ حضرت عمر نے پوچھا تم ہمارے پاس کیوں نہیں آئے تھے ؟ میں نے کہا میں آیا تھا اور میں نے دروازہ پر کھڑے ہو کر تین مرتبہ سلام کیا، کسی نے میرے سلام کا جواب نہیں دیا تو میں لوٹ آیا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے : جب تم میں سے کوئی شخص تین مرتبہ سلام کرے پھر اس کو اجازت نہ دی جائے تو وہ واپس چلا جائے۔ حضرت عمر نے کہا تم اس حدیث پر گواہ پیش کرو، ورنہ میں تم کو سزا دوں گا۔ حضرت ابی بن کعب نے کہا اس حدیث کی گواہی قوم کا سب سے کم عمر دے گا۔ حضرت ابوسعید نے کہا میں سب سے کم سن ہوں۔ انہوں نے کہا تم ان کے ساتھ جائو۔ دوسری روایت (مسلم : ٥٥٢٣) میں ہے حضرت ابوسعید نے کہا پھر میں گیا اور میں نے حضرت عمر کے سامنے گواہی دی۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٦٢٤٥، صحیح مسلم، الادب : ٣٣ (٢١٥٣) ٥٥٢٢، سنن ابودائود رقم الحدیث : ٥١٨٠)

عکرمہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت علی (رض) کے پاس چند زندیقوں کو لایا گیا۔ حضرت علی نے ان کو جلا ڈالا۔ حضرت ابن عباس (رض) کو یہ خبر پہنچی تو انہوں نے کہا اگر میں وہاں ہوتا تو ان کو نہ جلاتا، کیونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے : جو شخص اپنا دین بدلے اس کو قتل کردو۔ امام ابودائود کی روایت میں ہے جب حضرت علی تک حضرت ابن عباس کی حدیث پہنچی تو انہوں نے حضرت ابن عباس کی تعریف فرمائی۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٦٩٢٢، سنن ابودائود رقم الحدیث : ٤٣٥١، سنن الترمذی رقم الحدیث : ١٤٥٨، سنن النسائی رقم الحدیث : ٤٠٧٠، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٢٥٣٥، صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ٥٦٠٦، مسند احمد ج ١ ص ٢٨٢، مسند ابو یعلیٰ رقم الحدیث : ٢٥٣٢)

اور بہت احادیث ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ متعدد کبار صحابہ کو بعض احادیث کا علم نہیں تھا اور جب ان پر وہ احادیث پیش کی گئیں تو انہوں نے اس حدیث کی موافقت کی۔ اس کی ایک مثال اس مسئلہ میں گزر چکی ہے کہ طواف زیارت کے عبد اگر عورت کو حیض آجائے تو وہ طواف وادع کے بغیر اپنے گھر کے لیے روانہ ہوسکتی ہے۔

(٢) دوسرا سبب یہ ہے کہ ایک حدیث کی دو سندیں ہوتی ہیں : ایک سند صحیح ہوتی ہے اور دوسری غیر صحیح۔ ایک مجتہد کے علم میں وہ حدیث سند غیر صحیح کے ساتھ ہوتی ہے اس لیے وہ اس کو ترک کردیتا ہے اور دوسرے مجتہد کے علم میں وہ حدیث سند صحیح کے ساتھ ہوتی ہے اور وہ اس حدیث پر عمل کرتا ہے۔ اس کی مثال ناف کے نیچے ہاتھ باندھنے کی حضرت علی سے منقول حدیث ہے۔ (سنن ابودائود رقم الحدیث : ٧٥٤) امام ابوحنیفہ اور امام احمد نے اس پر عمل کیا ہے اور امام شافعی کے نزدیک یہ حدیث ضعیف ہے۔

(٣) حدیث کی ایک ہی سند ہوتی ہے لیکن ایک مجتہد کے نزدیک اس حدیث کے متن یا اس کی سند میں کلام ہوتا ہے اس لیے وہ اس کو ترک کردیتا ہے اور دوسرے مجتہد کے نزدیک اس میں کوئی کلام نہیں ہوتا اس لیے وہ حدیث پر عمل کرتا ہے۔ اس کی مثال حدیث مصراۃ (جس جانور کے تھنوں میں دودھ روک لیا جائے اس کو ایک صاع کھجور دے کر واپس کرنا) ہے ائمہ ثلاثہ اس حدیث پر عمل کرتے ہیں اور امام ابوحنیفہ کے نزدیک یہ حدیث مضطرب اور معلل ہے اور صریح قرآن کے خلاف ہے اس لیے وہ اس حدیث پر عمل نہیں کرتے۔

(٤) ایک مجتہد کے نزدیک خبر واحد عموم قرآن کو منسوخ کرسکتی ہے اور دوسرے کے نزدیک نہیں کرسکتی، مثلاً حضرت عبادہ بن الصامت رضی الہ عنہ سے مروی ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو شخص سورة فاتحہ نہ پڑھے اس کی نماز نہیں ہوگی۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٧٥٦، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٣٩٤) ائمہ ثلاثہ اس حدیث کے موافق یہ کہتے ہیں کہ نماز میں سورة فاتحہ کا پڑھنا فرض ہے اور امام ابوحنیفہ کے نزدیک یہ حدیث قرآن مجید کی اس آیت کے عموم کے خلاف ہے : فاقرء واما تیسر من القرآن۔ (المزمل : ٢٠) سو قرآن سے جس قدر آسان لگے اتنا پڑھو۔ اس لیے امام ابوحنیفہ نے نماز میں سورة فاتحہ کے پڑھنے کو اس آیت کے بموجب فرض نہیں کہا اور اس حدیث کے مقتضیٰ سے واجب کہا ہے۔

(٥) ایک مجتہد کے نزدیک وہ حدیث منسوخ ہے اور دوسرے کے نزدیک معمول ہے۔ اس کی مثال رکوع سے پہلے اور رکوع کے بعد رفع یدین کی حدیث ہے ائمہ ثلاثہ کے نزدیک یہ حدیث معمول ہے اور امام ابوحنیفہ کے نزدیک یہ حدیث منسوخ ہے کیونکہ اس حدیث کے راوی حضرت ابن عمر (رض) خود رفع یدین نہیں کرتے تھے۔ مجاہد بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر کو تکبیر افتتاح کے علاوہ رفع یدین کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔ (مصنف ابن ابی شیبہ ج ١ ص ٢٣٧، طبع کراچی، الحاوی فی بیان آثار الطحاوی ج ١ ص ٥٣٤، دارالکتب العلمیہ بیروت، ١٤١٩ ھ) ہم نے یہ چند مثالیں اس مسئلہ کو سمجھانے کے لیے ذکر کی ہیں، ورنہ ائمہ مجتہدین کے اصول ہائے اجتہاد کی تعداد بہت زیادہ ہے اس کی بقدر کفایت مثالیں ہم نے تذکرۃ المحدثین میں ذکر کی ہیں۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 9 التوبة آیت نمبر 122