أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَّعَلَى الثَّلٰثَةِ الَّذِيۡنَ خُلِّفُوۡا ؕ حَتّٰۤى اِذَا ضَاقَتۡ عَلَيۡهِمُ الۡاَرۡضُ بِمَا رَحُبَتۡ وَضَاقَتۡ عَلَيۡهِمۡ اَنۡفُسُهُمۡ وَظَنُّوۡۤا اَنۡ لَّا مَلۡجَاَ مِنَ اللّٰهِ اِلَّاۤ اِلَيۡهِ ؕ ثُمَّ تَابَ عَلَيۡهِمۡ لِيَتُوۡبُوۡا ‌ ؕ اِنَّ اللّٰهَ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِيۡمُ  ۞

ترجمہ:

اور اس نے ان تین شخصوں کی توبہ (بھی) قبول فرمائی جن کا معاملہ موخر کردیا گیا تھا حتیٰ کہ جب زمین اپنی وسعت کے باوجود ان پر تنگ ہوگئی اور خود ان کی جانیں بھی ان پر تنگ ہوگئیں اور انہوں نے یہ یقین کرلیا کہ اللہ کے سوا ان کی کوئی جائے پناہ نہیں ہے پھر ان کی توبہ قبول فرمائی تاکہ وہ توبہ پر قائم رہیں بیشک اللہ بہت توبہ قبول فرمانے والا بےرحم فرمانے والا ہے۔ ؏

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور اس نے ان تین شخصوں کی توبہ (بھی) قبول فرمائی جن کا معاملہ موخر کردیا گیا تھا، حتیٰ کہ جب زمین اپنی وسعت کے باوجود ان پر تنگ ہوگئی اور خود ان کی جانیں بھی ان پر تنگ ہوگئیں اور انہوں نے یہ یقین کرلیا کہ اللہ کے سوا ان کی کوئی جانے پناہ نہیں ہے پھر ان کی توبہ قبول فرمائی تاکہ وہ توبہ پر قائم رہیں، بیشک اللہ بہت توبہ قبول فرمانے والا بےحد رحم فرمانا والا ہے۔ (التوبہ : ١١٨) 

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، تبوک کے غازیوں اور تین مخلفین کی توبہ کا باہمی فرق اس آیت کا عطف پچھلی آیت پر ہے اور اس کا معنی اسطرح ہے :

اللہ نے نبی کی توبہ قبول فرمائی اور ان مہاجرین اور انصار کی جنہوں نے تنگی کے وقت میں نبی کی اتباع کی اور اس نے ان تین شخصوں کی توبہ (بھی) قبول فرمائی جن کا معاملہ موخر کردیا گیا تھا اور اس کا فائدہ یہ ہے کہ ان کی توبہ کو نبی کی توبہ کے ساتھ ملا کر بیان کیا جائے تاکہ یہ ان کی تعظیم اور اجلال پر دلالت کرے اور اس عطف کا فائدہ یہ ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی توبہ قبول ہونے اور مہاجرین انصار کی توبہ اور ان تین کی توبہ قبول ہونے کا ایک حکم ہو اور معطوف اور معطوف علیہ میں تغایر ہوتا ہے اور وہ یہاں یہ ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی توبہ بغیر کسی گناہ کے محض اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعلیم میں ہے اور غزوہ تبوک میں جانے والے مہاجرین اور انصار کی توبہ راستہ کی صعوبتوں کی وجہ سے وسوسوں کی بناء پر ہے اور ان تین کی توبہ بغیر عذر کے غزوہ تبوک میں نہ جانے کی وجہ سے ہے۔ وہ تین صحابہ یہ ہیں : حضرت کعب بن مالک، حضرت ہلال بن امیہ اور حضرت مرارہ بن الربیع۔ ان کے غزوہ تبوک میں نہ جانے اور توبہ کی تفصیل اس حدیث میں ہے :

حضرت کعب بن مالک، ہلال بن امیہ اور مرارہ بن بیع کی توبہ قبول ہونے کی تفصیل حضرت کعب بن مالک نے رسول اللہ سے غزوہ تبوک میں پیچھے رہ جانے کا واقعہ بیان کیا حضرت کعب بن مالک نے کہا : میں غزوہ تبوک کے علاوہ کبھی کسی غزوہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پیچھے نہیں رہا، البتہ میں غزوہ بدر میں بھی پیچھے رہ گیا تھا غزوہ بدر میں پیچھے رہ جانے والوں میں سے کسی پر بھی آپ نے عتاب نہیں کیا تھا۔

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور مسلمان، قریش کے قافلہ کے ارادے سے روانہ ہوئے تھے حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے اور ان دشمنوں کے درمیان اچانک مقابلہ کر ادیا اور جب ہم نے اسلام کا عہد کیا تھا اس وقت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس عقبہ کی شب میں بھی حاضر ہوا تھا ہرچند کہ مسلمانوں میں شرکاء بدر کی وقعت بہت زیادہ ہے لیکن میں شب عقبہ کی حاضری کے بدلہ میں اور کوئی فضیلت پسند نہیں کرتا۔ میرا واقعہ یہ ہے کہ جب میں غزوہ تبوک میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پیچھے رہ گیا تھا اس وقت میں جس قدر قوی اور خوش حال تھا اس سے پہلے کبھی اس قدر قوی اور خوشحال نہیں تھا اس وقت جہاد کے لیے میرے پاس دو اونٹنیاں تھیں جو اس سے پہلے کبھی کسی جہاد کے وقت میرے پاس نہیں تھیں۔

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سخت گرمی میں جہاد کے لیے روانہ ہوئے۔ آپ دور دراز سفر کے لیے صحرا میں کثیر دشمنوں سے مقابلہ کے لیے روانہ ہوئے۔ آپ نے مسلمانوں پر پورا معاملہ واضح کردیا تھا تاکہ وہ دشمنوں سے جہاد کے لیے پوری تیاری کرلیں۔ آپ نے مسلمانوں کو اپنے ارادہ سے آگاہ کردیا تھا، اس وقت مسلمانوں کی تعداد بہت زیادہ تھی اور کسی رجسٹر میں مسلمانوں کی تعداد کا اندراج نہیں تھا۔ حضرت کعب نے کہا : بہت کم کوئی ایسا شخص ہوگا جو اس غزوہ سے غائب ہونے کا ارادہ کرے اور اس کا یہ گمان ہو کہ بغیر اللہ کی وحی نازل کرنے کے آپ سے اس کا معاملہ مخفی رہے گا۔ جب درختوں پر پھل آگئے تھے اور ان کے سائے گھنے ہوگئے اس وقت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس غزوہ کا ارادہ کیا میں اس وقت پھلوں اور درختوں میں آجاتا۔ میں کوئی فیصلہ نہیں کرپاتا اور سوچتا کہ میں جس وقت جانے کا ارادہ کروں گا جاسکوں گا، میں یہی سوچتا رہا حتیٰ کہ مسلمانوں نے سامان سفر باندھ لیا اور ایک صبح رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسلمانوں کو لے کر روانہ ہوگئے۔ میں نے ابھی تیاری نہیں کی تھی میں صبح کو پھر گیا اور لوٹ آیا اور میں کوئی فیصلہ نہیں کرسکا، میں یونہی سوچ بچار میں رہا حتیٰ کہ مجاہدین آگے بڑھ گئے اور میں یہی سوچتا رہا کہ میں روانہ ہو کر ان کے ساتھ جا ملوں گا، کاش میں ایسا کرلیتا لیکن یہ چیز میرے مقدر میں نہیں تھی۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے تشریف لے جانے کے بعد مجھے یہ دیکھ کر افسوس ہو تاکہ میں جن لوگوں کے درمیان چلتا تھا یہ صرف وہی لوگ تھے جو نفاق سے متہم تھے یا وہ ضعیف لوگ تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے جہاد سے معذور رکھا تھا، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تبوک پہنچنے سے پہلے میرا ذکر نہیں کیا جس وقت آپ تبوک میں صحابہ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے آپ نے فرمایا : کعب بن مالک کو کیا ہوا ؟ بنو سلمہ کے ایک شخص نے کہا : یا رسول اللہ ! اس دو چادروں اور اپنے پہلوئوں کو دیکھنے نے روک لیا۔ حضرت معاذ بن جبل نے کہا : تم نے بری بات کہی ہے۔ بخدا ! یا رسول اللہ ! ہم اس کے متعلق خیر کے سوا اور کچھ نہیں جانتے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خاموش ہوگئے ابھی یہ بات ہو رہی تھی کہ آپ نے ایک سفید پوش شخص کو ریگستان سے آتے ہوئے دیکھا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” تو ابو خیثمہ ہوجا “ تو وہ ابو خیثمہ انصاری ہوگیا۔ یہ وہی شخص تھے جنہوں نے ایک صاع (چار کلوگرام) چھوارے صدقہ کیے تھے تو منافقین نے انہیں طعنہ دیا تھا۔ حضرت کعب بن مالک بیان کرتے ہیں کہ مجھے یہ خبر پہنچی کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تبوک کے واپس آرہے ہیں تو میری پریشانی پھر تازہ ہوئی میں چھوٹی باتیں بنانے کے لیے سوچنے لگا اور یہ سوچنے لگا کہ میں کل حضور کی ناراضگی سے کیسے بچوں گا اور اپنے گھر کے اصحاب رائے سے اس سلسلہ میں مشورہ لینے لگا پھر جب مجھے یہ بتایا گیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عنقریب تشریف لارہے ہیں تو میرے ذہن سے وہ سب جھوٹے بہانے نکل گئے اور میں نے یہ جان لیا کہ میں کسی (جھوٹی) بات سے کبھی نجات نہیں پاسکوں گا پھر میں نے سچ بولنے کا پختہ ارادہ کرلیا۔ صبح کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لے آئے اور آپ جب سفر سے آتے تھے تو پہلے مسجد میں جاتے تھے اور وہاں دو رکعت نماز پڑھتے تھے پھر لوگوں کی طرف متوجہ ہوتے تھے۔ جب حضور معمول کے مطابق فارغ ہوگئے تو جو لوگ غزوہ تبوک میں نہیں گئے تھے وہ آآکر عذر پیش کرنے لگے اور قسمیں کھانے لگے۔ یہ لوگ اسی سے زیادہ تھے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ظاہری اعتبار سے ان کے عذر کو قبول کرلیا تھا۔ آپ نے ان سے بیعت لی اور ان کے لیے استغفار کیا اور ان کے باطنی معاملہ کو اللہ تعالیٰ پر چھوڑ دیا، حتیٰ کہ میں آیا۔ جب میں نے سلام کیا تو آپ مسکرائے جیسے کوئی ناراض شخص مسکراتا ہے آپ نے فرمایا : آئو ! میں آکر آپ کے سامنے بیٹھ گیا۔ آپ نے فرمایا : تمہارے نہ آنے کی کیا وجہ ہے ؟ کیا تم نے سواری نہیں خریدی تھی ؟ میں نے کہا : یا رسول اللہ ! بخدا ! اگر میں آپ کے علاوہ کسی دنیادار کے پاس بیٹھا ہوتا تو مجھے معلوم ہے کہ میں کوئی عذر پیش کرکے اس کی ناراضگی سے بچ جاتا کیونکہ مجھے کلام پر قدرت عطا کی گئی ہے لیکن بخدا مجھے معلوم ہے کہ اگر میں نے آج آپ سے کوئی جھوٹی بات کہہ دی حتیٰ کہ آپ اس سے راضی ہو بھی گئے تو عنقریب اللہ تعالیٰ آپ کو مجھ سے ناراض کر دے گا اور اگر میں آپ سے سچی بات کہوں تو آپ مجھ سے ناراض ہوں گے اور بیشک مجھ کو سچ میں اللہ تعالیٰ سے حسن عاقبت کی امید ہے بخدا میرا کوئی عذر نہیں تھا اور جس وقت آپ کے پیچھے رہ گیا تھا تو مجھ سے زیادہ خوش حال کوئی نہیں تھا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بہرحال اس شخص نے سچ بولا ہے تم یہاں سے اٹھ جائو حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ تمہارے متعلق کوئی فیصلہ کر دے۔ میں وہاں سے اٹھا اور بنو سلمہ کے لوگ بھی اٹھ کر میرے پاس آئے، انہوں نے مجھے کہا بخدا ہم کو یہ معلوم نہیں ہے کہ اس سے پہلے تم نے کوئی گناہ کیا ہو کیا تم سے یہ نہیں ہوسکتا تھا کہ تم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے اس قسم کا عذر پیش کرتے جس طرح دیگر نہ جانے والوں نے عذر پیش کیے تھے، تمہارے گناہ کے لیے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا تمہارے لیے استغفار کرنا کافی تھا، بخدا وہ مجھ کو مسلسل ملامت کرتے رہے حتیٰ کہ میں نے یہ ارادہ کیا کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس دوبارہ جائوں اور اپنے پہلے قول کی تکذیب کردوں، پھر میں نے یہ ارادہ کیا کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس دوبارہ جائوں اور اپنے پہلے قول کی تکذیب کردوں پھر میں نے ان سے پوچھا : کیا کسی اور کو بھی میرے جیسا معاملہ پیش آیا ہے ؟ انہوں نے کہا : دو اور شخصوں نے بھی تمہاری مثل کہا ہے، ان سے بھی حضور نے وہی فرمایا ہے جو تم سے فرمایا تھا۔ میں نے پوچھا : وہ کون ہیں ؟ انہوں نے کہا : وہ مرارہ بن ربیع عامرہ اور ہلال بن امیہ واقفی ہیں۔ انہوں نے مجھ سے ان دو نیک شخصوں کا ذکر کیا جو غزوہ بدر میں حاضر ہوئے تھے، وہ میرے لیے نمونہ (آئیڈیل) تھے جب ان لوگوں نے ان دو صاحبوں کا ذکر کیا تو میں اپنے پہلے خیال پر قائم رہا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مسلمانوں کو ہم تینوں سے گفتگو کرنے سے منع فرمایا دیا جو آپ سے پیچھے رہ گئے تھے، پھر مسلمانوں نے ہم سے اجتناب کرلیا اور ہمارے لیے اجنبی ہوگئے، حتیٰ کہ زمین بھی میرے لیے اجنبی ہوگئی۔ یہ وہ زمین نہیں تھی جس کو میں پہلے پہچانتا تھا، ہم لوگوں کو اسی حال پر پچاس راتیں گزر گئیں، میرے دوساتھی تو خانہ نشین ہوگئے تھے، وہ اپنے گھروں میں ہی پڑے روتے رہتے تھے لیکن ان کی بہ نسبت میں جو ان اور طاقتور تھا، میں باہر نکلتا تھا، نمازوں میں حاضر ہوتا تھا اور بازاروں میں گھومتا تھا، مجھ سے کوئی شخص بات نہیں کرتا تھا۔ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں آتا اور نماز کے بعد جب آپ اپنی نسشت پر بیٹھتے تو میں آپ کو سلام عرض کرتا۔ میں اپنے دل میں سوچتا کہ آیا حضور نے سلام کا جواب دینے کے لیے اپنے ہونٹ ہلائے ہیں یا نہیں، پھر میں آپ کے قریب نماز پڑھتا اور نظریں چرا کر آپ کو دیکھتا، سو جب میں نماز کی طرف متوجہ ہوتا تو آپ میری طرف دیکھتے اور جب میں آپ کی طرف متوجہ ہوتا تو مجھ سے اعراض کرتے، حتیٰ کہ جب مسلمانوں کی بےرخی زیادہ بڑھ گئی تو میں ایک روز اپنے عم زاد حضرت ابوقتادہ کے باغ کی دیوار پر چڑھ گیا، وہ مجھ کو لوگوں میں سب سے زیاہد محبوب تھے۔ میں نے ان کو سلام کیا، بخدا انہوں نے میرے سلام کا جواب نہیں دیا۔ میں نے ان سے کہا : ابوقتادہ ١ میں تم کو اللہ کی قسم دیتا ہوں کیا تم کو علم ہے کہ میں اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے محبت کرتا ہوں وہ خاموش رہے۔ میں ان کو قسم دے کر سوال کیا وہ پھر خاموش رہے۔ میں نے پھر ان کو قسم دی تو انہوں نے کہا : اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو زیادہ علم ہے۔ میری آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے، میں نے دیوار پھاندی اور واپس آگیا۔ ایک دن میں مدینہ کے بازار میں جارہا تھا، تو اہل شام کا ایک شخص مدینہ میں غلہ بیچنے کے لیے آیا تھا۔ وہ کہہ رہا تھا کہ کوئی ہے جو مجھے کعب بن مالک سے ملا دے۔ لوگوں نے میری طرف اشارہ کیا۔ وہ میرے پاس آیا اور اس نے مجھے غسان کے بادشاہ کا ایک خط دیا، میں چونکہ پڑھا لکھا تھا اس لیے میں نے اس کو پڑھا، اس میں لکھا تھا : ” ہمیں معلوم ہوا ہے کہ تمہارے صاحب نے تم پر ظلم کیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے تم کو ذلت اور رسوائی کی جگہ میں رہنے کے لیے پیدا نہیں کیا تم ہمارے پاس آجائو ہم تمہاری دلجوئی کریں گے۔ “ میں نے جب یہ خط پڑھا تو میں نے کہا یہ بھی میرے لیے ایک آزمائش ہے، میں نے اس خط کو تنور میں پھینک کر جلا دیا حتیٰ کہ جب پچاس میں سے چالیس دن گزر گئے اور وحی رکی رہی تو ایک دن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ایک قاصد میرے پاس آیا، اس نے کہا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تم کو یہ حکم دیتے ہیں کہ تم اپنی بیوی سے علیحدہ ہوجائو۔ میں نے پوچھا : آیا میں اس کو طلاق دے دوں یا کیا کروں ؟ اس نے کہا : نہیں بلکہ تم اس سے علیحدہ ہو جائو اور اس کے قریب نہ جائو۔ حضرت کعب نے کہا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرے ساتھیوں کو بھی یہی حکم بھیجا۔ میں نے اپنی بیوی سے کہا : تم اپنے میکہ چلی جائو اور وہیں رہو حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ میرے متعلق کوئی حکم نازل فرمائے۔ حضرت کعب نے کہا : پھر حضرت ہلال بن امیہ کی بیوی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئی اور اس نے کہا : یا رسول اللہ ! بیشک حضرت ہلال بن امیہ بہت بوڑھے ہیں اور ان کے خدمت کرنے والا کوئی نہیں ہے، کیا آپ اس کو ناپسند کرتے ہیں کہ میں ان کی خدمت کروں۔ آپ نے فرمایا : نہیں، لیکن وہ تم سے مقاربت نہ کرے۔ ان کی بیوی نے کہا : بخدا وہ تو کسی چیز کی طرف حرکت بھی نہیں کرسکتے اور جب سے یہ معاملہ ہوا ہے بخدا وہ اس دن سے مسلسل روتے رہتے ہیں۔ مجھ سے میرے بعض گھر والوں نے کہا : تم بھی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اسی طرح اجازت لے لو، کیونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت ہلال بن امیہ کی بیوی کو ان کی خدمت کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ میں نے کہا : میں اس معاملہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اجازت نہیں لوں گا، مجھے پتا نہیں کہ اگر میں اجازت طلب کی تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس معاملہ میں کیا فرمائیں گے اور میں ایک جوان شخص ہوں، پھر میں اسی حال پر دس راتیں ٹھہرا رہا۔ پھر جب سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہم سے گفتگو کی ممانعت کی تھی، اس کو پچاس دن گزر چکے تھے۔ حضرت کعب کہتے ہیں کہ پچاس روز کے بعد ایک صبح کو میں اپنے گھر کی چھت پر صبح کی نماز پڑھ رہا تھا، پھر جس وقت میں اسی حال میں بیٹھا ہوا تھا جس کا اللہ عزوجل نے ہمارے متعلق ذکر کیا ہے کہ مجھ پر میرا نفس تنگ ہوگیا اور زمین اپنی وسعت کے باوجود مجھ پر تنگ ہوگئی اچانک میں نے سلع پہاڑ کی چوٹی سے ایک چلانے والے کی آواز سنی، جو بلند آواز سے کہہ رہا تھا : اے کعب بن مالک ! بشارت ہو (مبارک ہو) حضرت کعب نے کہا : میں اسی وقت سجدہ میں گرپڑا اور میں نے جان لیا کہ اب کشادگی ہوگئی، پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صبح کی نماز پڑھنے کے بعد لوگوں میں اعلان کیا کہ اللہ تعالیٰ نے ہماری توبہ قبول کرلی ہے پھر لوگ آکر ہم کو مبارک باد دیتے تھے، پھر میرے ان دوساتھیوں کی طرف لوگ مبارک باد دینے کے لیے گئے اور ایک شخص گھوڑا دوڑاتا ہوا میری طرف روانہ ہوا اور قبیلہ اسلم کے ایک شخص نے پہاڑ پر چڑھ کر بلند آواز سے مجھے ندا کی اور اس کی آواز گھوڑے سوار کے پہنچنے سے پہلے مجھ تک پہنچی۔ جب میرے پاس وہ شخص آیا جس کی بشارت کی آواز میں نے سنی تھی، میں نے اپنے کپڑے اتار کر اس شخص کو بشارت کی خوشی میں پہنا دیئے، بخدا اس وقت میرے پاس ان کپڑوں کے علاوہ اور کوئی چیز نہیں تھی اور میں نے کسی سے عاریتا کپڑے لے کر پہنے، پھر میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہونے کے قصد سے روانہ ہوا ادھر میری توبہ قبول ہونے پر فوج در فوج لوگ مجھ کو مبارک باد دینے کے لیے آرہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ تم کو اللہ تعالیٰ کا توبہ قبول کرنا مبارک ہو۔ جب میں مسجد داخل ہوا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسجد میں تشریف فرما تھے اور آپ کے اردگرد صحابہ بیٹھے تھے۔ حضرت طلحہ بن عبید اللہ جاری سے اٹھے اور مجھ سے مصافحہ کیا اور مبارک باد دی۔ بخدا مہاجرین میں سے ان کے علاوہ اور کوئی نہیں اٹھا تھا۔ حضرت کعب طلحہ کو نہیں بھولتے تھے، حضرت کعب نے کہا : جب میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سلام کیا تو خوشی سے آپ کا چہرہ چمک رہا تھا اور آپ فرما رہے تھے : مبارک ہو، جب سے تم کو تمہاری ماں نے جنا ہے، اس سے زیادہ اچھا دن تمہارے لیے نہیں آیا۔ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! یہ (قبولیت توبہ) آپ کی طرف سے ہے یا اللہ کی طرف سے ہے ؟ آپ نے فرمایا : نہیں بلکہ یہ حکم اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خوش ہوتے تھے تو آپ کا چہرہ اس طرح منور ہوجاتا تھا جیسے وہ چاند کا ٹکڑا ہو۔ حضرت کعب نے کہا : ہم اس علامت کو پہچانتے تھے۔ انہوں نے کہا : جب میں آپ کے سامنے بیٹھا تو میں نے کہا : یا رسول اللہ ! میں اپنی توبہ کی خوشی میں اپنے مال کو اللہ اور اس کے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی راہ میں صدقہ کرتا ہوں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فمرایا : اپنے لیے کچھ مال کو رکھ لو وہ تمہارے لیے بہتر ہے۔ میں نے کہا : میں اپنے اس مال کو رکھ لیتا ہوں جو خیبر میں ہے اور میں نے کہا : یا رسول اللہ ! اللہ تعالیٰ نے مجھے صدق کی وجہ سے نجات دی ہے اور اب میری توبہ یہ ہے کہ میں اپنی باقی زندگی میں ہمیشہ سچ بولوں گا۔ انہوں نے کہا : بخدا ! مجھے یہ معلوم نہیں کہ مسلمانوں میں سے کسی شخص کو اللہ تعالیٰ نے سچ بولنے کی وجہ سے اس طرح سزا میں مبتلا کیا ہو اور جب سے میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس بات کا ذکر کیا تھا اس وقت سے لے کر آج تک میں نے جھوٹ نہیں بولا، اور آئندہ کے لیے بھی مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھے جھوٹ سے محفوظ رکھے گا، تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل کیں : (ترجمہ :) بیشک اللہ تعالیٰ نے نبی کی توبہ قبول کی اور ان مہاجرین اور انصار کی جنہوں نے سختی کی وقت نبی کا ساتھ دیا اس کے بعد کہ قریب تھا کہ ان میں سے ایک گروہ کے دل اپنی جگہ سے ہل جائیں پھر اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرمائی، بیشک وہ ان پر نہایت مہربان بےحد رحم فرمانے والا ہے اور اللہ تعالیٰ نے ان تینوں کی بھی توبہ قبول فرمائی جن کا معاملہ موخر کیا گیا تھا یہاں تک کہ جب زمین اپنی وسعت کے باوجود ان پر تنگ ہوگئی اور ان کی جانیں بھی ان پر تنگ ہوگئی تھیں اور ان یہ یہ یقین ہوگیا تھا کہ اللہ کے سوا ان کی کوئی جائے پناہ نہیں ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول کرلی بیشک اللہ تعالیٰ بہت توبہ قبول کرنے والا بےحد رحم فرمانا والا ہے اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرو اور سچوں کے ساتھ رہو۔ (التوبہ : ١١٩۔ ١١٧)

حضرت کعب نے کہا : جب سے اللہ تعالیٰ نے مجھے ہدایت اسلام کی نعمت دی ہے اس وقت سے لے کر اللہ تعالیٰ نے میرے نزدیک مجھے اس سے بڑی کوئی نعمت نہیں دی کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سچ بولا کیونکہ میں نے آپ سے جھوٹ بولا ہوتا تو میں بھی اسی طرح ہلاک ہوجاتا جس طرح وہ لوگ ہلاک ہوگئے جنہوں نے جھوٹ بولا تھا۔ جب اللہ تعالیٰ نے وحی نازل کی تو جتنی ان جھوٹوں کی مذمت فرمائی ہے کسی کیا اتنی مذمت نہیں کی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : جب تم ان کی طرف لوٹ کر جائو گے تو وہ تمہارے سامنے اللہ کی قسمیں کھائیں گے تاکہ تم ان (کی بداعمالیوں) سے اپنی توجہ ہٹائے رکھو، تو تم ان کی طرف التفات نہ کرو بیشک وہ ناپاک ہیں اور ان کا ٹھکانا جہنم ہے۔ یہ ان کے کاموں کی سزا ہے وہ تم کو راضی کرنے کے لیے قسمیں کھائیں گے، سو اگر تم ان سے راضی ہو (بھی) جائو تو بیشک اللہ نافرمانی کرنے والوں سے راضی نہیں ہوگا۔ حضرت کعب نے کہا : ہم لوگوں کا معاملہ ان لوگوں سے موخر کیا گیا تھا جن لوگوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے قسمیں کھائی تھیں اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کا عذر قبول کرلیا تھا ان سے بیعت کرلی تھی اور ان کے لیے استغفار کیا تھا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمارے معاملہ کو موخر کردیا تھا حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے نے اس معاملہ کا فیصلہ کردیا اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے ان تینوں کی توبہ بھی قبول فرمائی جن کا معاملہ موخر کیا گیا تھا۔ اس آیت کا یہ مطلب نہیں ہے کہ غزوہ تبوک میں جو پیچھے رہ گئے تھے اس کا ذکر ہے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ قسم کھانے والوں کی بہ نسبت ہمارے معاملہ کو موخر کیا گیا تھا جنہوں نے قسمیں کھائیں اور آپ نے ان کے عذر کو قبول فرما لیا تھا۔ (صحیح مسلم التوبہ ٥٣، (٢٧٦٩) ٦٨٨٣، صحیح البخاری رقم الحدیث : ٢٧٥٧، سنن ابودائود رقم الحدیث : ٢٢٠٢، سنن الترمذی رقم الحدیث : ٣١٠٢، سنن النسائی رقم الحدیث : ٤٣٢٢، سنن کبریٰ للنسائی رقم الحدیث : ٨١٠، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ١٣٩٣، مسند احمد ج ٦، ص ٣٩٠، صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ٣٣٧٠، دلائل النبوۃ للبیہقی ج ٥ ص ٢٧٩۔ ٢٧٣، مصنف عبدالرزاق رقم الحدیث : ١٩٧٤٤، مصنف ابن ابی شیبہ ج ١٤ ص ٥٤٥۔ ٥٤٠، صحیح ابن خزیمہ رقم الحدیث : ٢٢٤٢، سنن کبریٰ للبیہقی ج ٤ ص ١٨١، شرح السنہ رقم الحدیث : ١٦٧٦، المعجم الکبیر ج ١٩ ص ٥٦۔ ٥٣ )

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 9 التوبة آیت نمبر 118