أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا قَاتِلُوا الَّذِيۡنَ يَلُوۡنَكُمۡ مِّنَ الۡكُفَّارِ وَلۡيَجِدُوۡا فِيۡكُمۡ غِلۡظَةً‌  ؕ وَاعۡلَمُوۡاۤ اَنَّ اللّٰهَ مَعَ الۡمُتَّقِيۡنَ‏ ۞

ترجمہ:

اے ایمان والو ! ان کافروں سے جنگ کرو جو تمہارے قریب ہیں اور چاہیے کہ وہ تمہارے دلوں میں سختی محسوس کریں اور اچھی طرح یقین رکھو کہ اللہ متقین کے ساتھ ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اے ایمان والو ! ان کافروں سے جنگ کرو جو تمہارے قریب ہیں اور چاہیے کہ وہ تمہارے دلوں میں سختی محسوس کریں اور اچھی طرح یقین رکھو کہ اللہ متقین کے ساتھ ہے۔ (التوبہ : ١٢٣) 

قریب کے کافروں سے جہاد کی ابتدا کرنے کی وجوہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ مومنین سے یہ فرمایا فرما رہا ہے کہ جہاد کی ابتدا ان کافروں سے کرو جو تمہارے درجہ بدرجہ قریب ہیں نہ کہ ان سے جو تم سے درجہ بدرجہ بعید ہوں، اس آیت کے زمانہ نزول میں قریب سے مراد روم کے کافر ہیں کیونکہ وہ شام میں رہتے تھے اور شام عراق کی بہ نسبت قریب تھا اور جب اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے لیے کئی شہر فتح کردیئے تو ہر علاقہ کے مسلمانوں پر فرض ہے کہ وہ اپنے قریبی کافر ملکوں سے جہاد کی ابتداء کریں اور اس کی متعدد وجوہ ہیں :

(١) بیک وقت تمام دنیا کے کافروں سے جہاد کرنا تو عادتاً ممکن نہیں اور جب قریب اور بعید دونوں کافر ہوں تو پھر قرب مرجح ہے۔ (

٢) قرب اس لیے راجح ہے کہ اس میں جہاد کے لیے سواریوں، سفر خرچ اور آلات اور اسلحہ کی کم ضرورت پڑے گی۔

(٣) جب مسلمان قریبی کافروں کو چھوڑ کر بعید کے کافروں سے جہاد کے لیے جائیں گے تو عورتوں اور بچوں کو خطرہ میں چھوڑ جائیں گے۔

(٤) بعید کہ بہ نسبت انسان قریب کے حالات سے زیادہ واقف ہوتا ہے سو مسلمناوں کو اپنے قریبی ممالک کی فوج کی تعداد، ان کے اسلحہ کی مقدار اور ان کے دیگر احوال کی بہ نسبت بعید ممالک سے زیادہ واقفیت ہوگی۔

(٥) اللہ تعالیٰ نے اسلام کی تبلیغ بھی ابتدائا قربین پر فرض کی تھی اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وانذر عشیئرتک الاقربین۔ (الشعراء : ٢١٤) اور آپ اپنے زیادہ قریب رشتہ داروں کو ڈرائیے۔ اور غزوات اسی تریب سے واقع ہوئے کیونکہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پہلے اپنی قوم سے جہاد کیا پھر آپ شام کے غزوہ کی طرف منتقل ہوئے اور صحابہ جب شام کے جہاد سے فارغ ہوئے تو پھر عراق میں داخل ہوئے۔

(٦) جب کوئی کام زیادہ آسانی سے ہوسکتا ہو تو اس سے ابتداء کرنا واجب ہے اور بعید ملک کی بہ نسبت قریب ملک سے جہاد کرنا زیادہ آسان ہے سو اس سے جہاد کی ابتداء کرنا واجب ہے۔

(٧) حضرت عمر بن ابی سلمہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں ایک دن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ کھا رہا تھا اور میں پیالہ کی ہر طرف سے گوشت کو لے رہا تھا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اپنے قریب کی جانب سے کھائو۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٥٣٧٤، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٠٢٢، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٣٦٢٧، مسند احمد ج ٤ ص ٢٧، ٢٦، مجمع الزوائد ج ٥ ص ٢٣، تہذیب تاریخ دمشق ج ٦ ص ٤٣٩، کنز العمال رقم الحدیث : ٤١٦٩٨) سو جس طرح دسترخوان میں اپنے قریب سے کھانا چاہیے اسی طرح جہاد بھی اپنے قریب کے کافروں سے کرنا چاہیے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 9 التوبة آیت نمبر 123