أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَكَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا اَنۡ اَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى رَجُلٍ مِّنۡهُمۡ اَنۡ اَنۡذِرِ النَّاسَ وَبَشِّرِ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَنَّ لَهُمۡ قَدَمَ صِدۡقٍ عِنۡدَ رَبِّهِمۡ ؕ قَالَ الۡكٰفِرُوۡنَ اِنَّ هٰذَا لَسٰحِرٌ مُّبِيۡنٌ‏ ۞

ترجمہ:

کیا لوگوں کو اس پر تعجب ہے کہ ہم نے ان ہی میں سے ایک (مقدس) مرد پہ وحی نازل کی ہے کہ آپ (غافل) لوگوں کو ڈرائیں اور ایمان والوں کو یہ بشارت دیں کہ ان کے لیے ان کے رب کے پس (ان کے نیک اعمال کا) بہترین اجر ہے۔ (اس پر) کافروں نے کہا بیشک یہ شخص تو کھلا جادوگر ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : کیا لوگوں کو اس پر تعجب ہے کہ ہم نے ان ہی میں سے ایک (مقدس) مرد پر یہ وحی نازل کی ہے کہ آپ (غافل) لوگوں کو ڈرائیں اور ایمان والوں کو یہ بشارت دیں کہ ان کے لیے ان کے رب کے پاس (ان کے نیک اعمال کا) بہترین اجر ہے (اس پر) کافروں نے کہا بیشک یہ شخص تو کھلا جادوگر ہے۔ (یونس : ٢) 

آپ کی نبوت پر مشرکین کا تعجب اور اس کا ازالہ

مشرکین مکہ حسب ذیل وجوہ سے سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے رسول ہونے پر تعجب کرتے تھے۔

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ مشرکین مکہ کہتے تھے کہ اللہ کی شان اس سے بہت بلند ہے کہ وہ ایک بشر کو رسول بنائے۔ (جامع البیان جز ١١ ص ١٠٧، تفسیر امام ابن ابی حاتم ج ٦ ص ١٩٢٢) قالوٓا ابعث اللہ بشرًا رسولًا۔ (بنی اسرائیل : ٩٤) کفار نے کہا کیا اللہ نے بشر کو رسول بنایا ؟ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس تعجب کو حسب ذیل آیتوں میں زائل فرمایا : ولو جعلنہ ملکًا لجعلنہ رجلًا و للبسنا علیھم ما یلبسون (الانعام : ٩) اور اگر ہم فرشتہ کو رسول بناتے تو اسے مرد ہی بناتے اور ان پر وہی شبہ ڈال دیتے جو شبہ وہ اب کر رہے ہیں۔ قل لو کان فی الارض ملٓئکۃ ’‘ یمشون مطمئنین لنزلنا علیھم من السمآء ملکًا رسولًا (بنی اسرائیل : ٩٥) آپ کہیئے اگر زمین میں (رہنے والے) فرشتے ہوتے جو اس میں اطمینان سے چلنے والے ہوتے تو ہم ضرور ان کے اوپر آسمان سے فرشتہ کو رسول بنا کر نازل کرتے۔

خلاصہ یہ ہے کہ جس قوم کی طرف رسول بنا کر بھیجا جائے وہ اسی قوم کی جنس سے ہوتا ہے تاکہ اس رسول کا عمل اس قوم کے لیے نمونہ اور حضت ہو، نیز اگر رسول کسی اور جنس سے ہو تو قوم اس سے استفادہ نہیں کرسکتی جیسا کہ عام انسان فرشتوں کو دیکھ سکتے ہیں نہ ان کا کلام سن سکتے ہیں نہ ان کو مس کرسکتے ہیں، اس لیے اللہ تعالیٰ کی حکمت کا تقاضا یہ تھا کہ انسان اور بشر کی طرف انسان اور بشر ہی کو رسول بنا کر بھیجا جائے اور اللہ تعالیٰ کی ہمیشہ سے سنت رہی ہے چناچہ اس نے فرمایا ہے : ومآارسلنا من قبلک الا رجالًا نوحئیٓ الیھم۔ (یوسف : ١٠٩) اور ہم نے آپ سے پہلے (بھی) مردوں ہی کو رسول بنایا ہے جن کی طرف ہم وحی کرتے تھے۔ نیز ان کو اس بات پر بھی تعجب ہوتا تھا کہ ایک غریب اور یتیم شخص کو کیوں رسول بنایا، کسی امیر کبیر شخص کو رسول کیوں نہیں بنایا ؟ چناچہ وہ کہتے تھے : لولا نزل ھذا القران علی رجلٍ من القریتین عظیمٍ ۔ (الزخرف : ٣١)

مشرکین نے کہا یہ قرآن ان دو شہروں (مکہ اور طائف) کے کسی بڑے آدمی پر کیوں نازل نہیں کیا گیا۔ اس شبہ کا جواب یہ ہے کہ فقر نیک صفات کے منافی نہیں ہے اور غنا نیک صفات کا موجب نہیں ہے، سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فقر کے باوجود اپنی نیکی، خیر، تقوی، امانت، دیانت، صلہ رحم اور ایثار غربا کے ساتھ معروف اور مشہور تھے اور آپ کا یتیم ہونا کسی نقصان کا موجب نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو یتیم اس لیے رکھا کہ آپ پر والدین کی پرورش کا احسان نہ ہو، کیونکہ آپ کو تمام دنیا پر فضل اور احسان کرنے کے لیے بھیجا تھا کسی کا احسان اٹھانے کے لیے نہیں بھیجا تھا اور مالدار اور غنی ہونا کسی خوبی اور نیکی کو مستلزم نہیں ہے، مکہ میں کتنے مال دار اور غنی تھے لیکن ان کی نیکی اور پرہیز گاری کی شہرت نہیں تھی اور نہ مال اور دولت اللہ تعالیٰ کے قرب کا ذریعہ ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : وما اموالکم ولآولادکم بالتی تقربکم عندنا زلفی۔ (سبا : ٣٧) اور نہ تمہارے مال اور تمہاری اولاد ایسی چیزیں ہیں جو تم کو ہمارے قریب کردیں۔ 

قدم صدق کے متعدد محامل اس آیت میں فرمایا ہے کہ آپ ایمان والوں کو بشارت دیجئے کہ ان کے لیے ان کے رب کے پاس قدم صدق ہے، قدم صدق کی حسب ذیل تفسیریں کی گئی ہیں۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ قدم صدق سے مراد منزل صدق ہے، یعنی بہترین مقام اور یہ تفسیر اس آیت سے ماخوذ ہے : وقل رب ادخلنی مدخل صدقٍ و اخر جنی مخرج صدقٍ ۔ (بنی اسرائیل : ٨٠) آپ کہئے کہ اے میرے رب مجھے بہترین مقام میں داخل فرما اور مجھے بہترتین مقام سے باہر لا۔ رجاج نے کہا قدم صدق سے مراد بلند مرتبہ ہے۔ (معانی القرآن للز جاج، ج ٣، ص ٦، مطبوعہ عالم الکتب بیروت) ماوردی نے کہا اس سے مراد نیک بیٹا ہے جو بچپن میں فوت ہوگیا، کیونکہ قدم کا معنی ہے مقدم اور پیش رو، اور نابالغ بچے قیامت کے دن ماں باپ کے لیے مقدم اور پیش رو ہوں گے۔ حدیث میں ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مسلمانوں کو یہ تلقین کی کہ وہ اپنے نابالغ بیٹے کی نماز جنازہ میں یہ دعا مانگیں : اے اللہ ! اس کو ہمارے لیے مقدم اور پیش رو بنا دے اور اس کو (نیکیوں کا) ذخیرہ اور اجر بنا دے۔ (صحیح البخاری کتاب الجنائز باب : ٦٥)

حسن اور قتادہ نے کہا اس سے مراد سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں کیونکہ آپ مسلمانوں کی شفاعت کرنے والے اور ان پر مقدم ہیں : حضرت سہل بن سعد (رض) نے روایت کیا ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں حوض پر تمہارا پیشرو اور ٥ مقدم ہوں۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٦٥٨٣، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٤٩، موطا امام مالک رقم الحدیث : ٥٩) یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں کیونکہ آپ میدان محشر میں سب پر مقدم ہوں گے، حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہم (بعثت میں) میرے پانچ نام ہیں : میں محمد اور احمد ہوں اور ماحی (منانے والا) ہوں، اللہ میرے سبب سے کفر کو مٹادے گا اور میں حاشر ہوں لوگوں کا حشر میرے قدموں پر ہوگا اور میں عاقب (سب نبیوں کے بعد آنے والا خاتم النبین) ہوں۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٣٥٣٢، موطا امام مالک رقم الحدیث : ١٨٩١) مجاہد نے کہا : قدم صدق سے مراد نیک اعمال ہیں۔ ضحاک نے کہا : اس سے مراد نیک اعمال کا اجر ہے۔ یہ تمام محامل امام ابن ابی حاتم نے بیان کیے ہیں۔ تفسیر امام ابن ابی حاتم ج ٦ ص ١٩٢٤۔ ١٩٢٢) 

آپ کو ساحر کہنے کا جواب اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا (اس پر کافروں نے کہا یہ تو کھلا جادوگر ہے۔ کافروں کی مراد یہ تھی کہ قرآن مجید اپنی فصاحت و بلاغت میں اتنے عطیم مرتبہ پر ہے کہ اس جیسا کلام بنانا غیر ممکن ہے اور اسی وجہ سے یہ جادو ہے اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جادوگر ہیں، ان کے اس کلام کا فاسد اور باطل ہونا بالکل بدیہی اور ظاہر تھا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کا جواب نہیں دیا، کیونکہ سب کو معلوم تھا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نشو و نما ان کے درمیان ہوئی، اور آپ کا کبھی جادوگروں سے واسطہ نہیں پڑا اور نہ ہی مکہ میں جادو سکھانے والے تھے حتی کہ یہ کہا جاتا کہ آپ نے ان سے جادو سیکھ لیا، پھر آپ کا ایسا کلام پیش کرنا جس کی نظیر لانے سے سب عاجز تھے معجزہ کے سوا اور کچھ نہیں۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 10 يونس آیت نمبر 2