أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِلَيۡهِ مَرۡجِعُكُمۡ جَمِيۡعًا ‌ؕ وَعۡدَ اللّٰهِ حَقًّا‌ ؕ اِنَّهٗ يَـبۡدَؤُا الۡخَـلۡقَ ثُمَّ يُعِيۡدُهٗ لِيَجۡزِىَ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ بِالۡقِسۡطِ‌ؕ وَالَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا لَهُمۡ شَرَابٌ مِّنۡ حَمِيۡمٍ وَّعَذَابٌ اَلِيۡمٌۢ بِمَا كَانُوۡا يَكۡفُرُوۡنَ ۞

ترجمہ:

اسی کی طرف تم سب نے لوٹ کر جانا ہے، یہ اللہ کا برحق وعدہ ہے، بیشک وہ مخلوق کو ابتداء پیدا کرتا ہے پھر اس کو دوبارہ پیدا کرے گا، تاکہ ان لوگوں کو انصاف کے ساتھ جزا دے جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کیے اور جن لوگوں نے کفر کیا ان کے لیے کھولتا ہوا پانی اور دردناک عذاب ہے کیونکہ وہ کفر کرتے تھے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اسی کی طرف تم سب نے لوٹ کر جانا ہے، یہ اللہ کا برحق وعدہ ہے، بیشک وہ مخلوق کو ابتدائً پیدا کرتا ہے پھر اس کو دوبارہ پیدا کرے گا، تاکہ ان لوگوں کو انصاف کے ساتھ جزا دے جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل اور جن لوگوں نے کفر کیا ان کے لیے کھولتا ہوا پانی اور درد ناک عذاب ہے کیونکہ وہ کفر کرتے تھے (یونس : ٤) 

حشر اجساد پر دلائل :

کفار اور مشرکین مرنے کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے، حشر اور جزاء اور سزاء کا انکار کرتے تھے، اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں حشر اجساد پر بہت زور دیا ہے اور دوبارہ زندہ کرنے پر بہت دلائل قائم کیے ہیں، ان میں سے چند دلائل حسب ذیل ہیں :

(١) ہم دیکھتے ہیں کہ زمین ایک موسم (خزاں) میں مردہ ہوتی ہے اس پر خشکی غالب ہوتی ہے، پھر ہم دیکھتے ہیں کہ دوسرے موسم (بہار) میں اس پر بارش ہوتی ہے اور وہ زمین زندہ ہوجاتی ہے، اس میں کھیتیاں لہلہانے لگتی ہیں اور بکثرت پھل، پھول اور غلہ پیدا ہوتا ہے، پھر پہلا موسم لوٹ آتا ہے اور وہ زمین مردہہ ہوجاتی ہے اور دوسرے موسم میں پھر بارشیں ہوتی ہیں اور پھر وہ زمین زندہ ہوجاتی ہے اور یہ سلسلہ یونہی چلتا رہتا ہے تو جو زمین کو ایک بار زندہ کرتا ہے پھر مار دیتا ہے اور پھر زندہ کردیتا ہے تو کیا اس میں یہ نشانی نہیں ہے کہ وہ انسانوں کو بھی مار کر پھر زندہ کرے گا۔ واللہ الذی ارسل الر یح فتثیر سحابًا فسقنہ الی بلدٍ میتٍ فاحیینا بہ الارض بعد موتھا ط کذلک النشور۔ (فاطر : ٩) اور اللہ جو ہوائوں کو بھیجتا ہے جو بادل اٹھا لاتی ہیں، پھر ہم بادل کو مردہ شہر کی طرف لے جاتے ہیں، پھر ہم اس کے سبب سے زمین کے مردہ ہونے کے بعد اس کو زندہ کردیتے ہیں، اسی طرح (قبروں) اٹھنا ہے۔

(٢) ہم میں سے ہر شخص اپنا مشاہدہ کرتا ہے کہ کسی بیماری یا عارضہ کی وجہ سے اس کا جسم دبلا ہوجاتا ہے، پھر صحت مند ہونے کے بعد مقوی غذائیں اور فربہ کرنے والی خوراک کھانے سے وہ پھر موٹا اور فربہ ہوجاتا ہے اور پھر کسی عارضہ کی وجہ سے کمزور اور دبلا ہوجاتا ہے اور پھر دوبارہ موٹا ہوجاتا ہے اور کمزوری بمنزلہ موت اور فربہی بمنزلہ حیات ہے تو اللہ تعالیٰ ہمارے جسموں کو کمزور اور دبلا کرنے کے بعد دوبارہ موٹا اور طاقتور کرنے پر قادر ہے اسی طرح وہ ہم کو مارنے کے بعد پھر دوبارہ زندہ کردینے پر بھی قادر ہے، اسی طرح ہم دیکھتے ہیں کہ برسات کے موسم میں مینڈک اور دوسرے برساتی جانور اچانک مٹی سے پیدا ہوجاتے ہیں اور برسات کا موسم ختم ہوتے ہیں مر کھپ جاتے ہیں پھر دوبارہ برسات آنے پر وہی جانور دوبارہ پھر پیدا ہوجاتے ہیں، تو کیا ان نشانیوں سے واضح نہیں ہوجاتا کہ وہ تمام انسانوں کو مارنے کے بعد دوبارہ پھر پیدا کر دے گا !

(٣) اللہ تعالیٰ نے بغیر کسی سابق مثال اور نمونہ کے ابتدائً انسانوں کو پیدا فرمایا ہے تو دوبارہ پیدا کرنا اس کے لیے کیا مشکل ہے ! اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : قل اللہ یبدئوا الخلق ثم یعیدہ فانی تئو فکون (یونس : ٣٤) آپ کہئے کہ اللہ ہی ابتداء پیدائش کرتا ہے، پھر وہی اس کا اعادہ فرمائے گا سو تم کہاں بھٹک رہے ہو۔ قال من یحی العظام وھی رمیم ’‘ قل یحییھا الذی ٓ انشاھا اول مرۃٍ ۔ (یس : ٧٩۔ ٧٨) اس (مشرک) نے کہا ہڈیوں کے بوسیدہ ہوجانے کے بعد ان کو، کون زندہ کریگا ؟ آپ کہئے کہ وہی ان کو زندہ کرے گا جس نے ان کو پہلی بار پیدا کیا تھا۔

(٤) اللہ تعالیٰ نے بہت بڑے بڑے پہاڑ اور آسمان اور زمین پیدا کیے تو وہ مردہ انسانوں کو دوبارہ پیدا کرنے پر کیوں قادر نہیں ہے ! اولم یروا ان اللہ الذی خلق السموت والارض ولم یعی بخلقھن بقادرٍ علیٓ ان یحی، الموتی۔ (الاحقاف : ٣٣) کیا وہ نہیں دیکھتے کہ اللہ جس نے آسمانوں اور زمینوں کو پیدا کیا اور ان کو پیدا کرنے کے بعد تھکا نہیں وہ (ضرور) مردوں کو زندہ کرنے پر قادر ہے۔ ء انتم اشد خلقًا ام السمآء بنھا۔ (النازعات : ٢٧) کیا (تمہارے نزدیک) تمہارا بنانا زیادہ سخت ہے یا آسمان کا بنانا

(٥) نیند ایک قسم کی موت ہے، انسان پر نیند کے بعد بیداری اور بیداری کے بعد موت کے احوال طاری ہوتے رہتے ہیں تو جو سوئے ہوئے شخص کو دوبارہ بیدار کردیتا ہے وہ مردہ کو دوبارہ زندہ کیوں نہیں کرسکتا ! اللہ یتوفی الانففس حین موتھا والتی لم تمت فی منا مھا فیمسک التی قضی علیھا الموت و یر سل الاخریٓ الیٓ اجلٍ مسمًی ط ان فی ذلک لایتٍ لقو مٍ یتفکرون (الزمر : اللہ موت کے وقت روحوں کو قبض کرتا ہے اور جن کی موت نہیں آئی ان کی نیند میں روح قبض کرتا ہے، پھر جس کی موت کا حکم فرما دیا اس کی روح کو روک لیتا ہے اور دوسرے کی روح کو ایک میعاد مقرر تک چھوڑ دیتا ہے، بیشک اس میں غور و فکر کرنے والوں کے لیے ضرور نشانیاں ہیں

(٦) حیات موت کی ضد ہے، اور اللہ تعالیٰ ایک چیز کی ضد کو پیدا کرنے پر قادر ہے جس طرح نور کے بعد ظلمت اور ظلمت کے بعد نور اور دن کے بعد رات اور رات کے بعد دن، اسی طرح وہ موت کے بعد حیات پیدا کرنے پر قادر ہے۔ 

عدل کے ساتھ جزا دینے کی توجیہ :

حشر اجساد قائج کرنے سے مقصود یہ ہے کہ مسلمان اور کافر اور نیک اور بد کے درمیان فرق کو ظاہر کیا جائے، نیک شخص کو اس کی نیکی پر اجر دیا جائے اور بدکار کو اس کی بدی پر سزاء دی جائے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : بیشک وہ مخلوق کو ابتداء ً پیدا کرتا ہے پھر وہ اس کو دوبارہ پیدا کرے گا تاکہ وہ ان لوگوں کو عدل و انصاف کے ساتھ جزا دے جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کیے اور جن لوگوں نے کفر کیا ان کے لیے کھولتا ہوا پانی اور دردناک عذاب ہے کیونکہ وہ کفر کرتے تھے۔ اس آیت میں فرمایا ہے کہ نیک مسلمانوں کو اجر عطا فرمانا اللہ تعالیٰ کا عدل ہے یعنی ان کو ان کی نیکیوں کا پورا پورا اجر ملے گا اور ان کے اجر میں کوئی کمی نہیں کی جائے گی، اسی طرح قرآن مجید کی اور آیتوں میں بھی ہے : وتلک الجنۃ التیٓ اور تتموھا بما کنتم تعملون۔ (النحل : ٣٢)

اور یہ ہے وہ جنت جس کے تم ان (نیک) کاموں کے سبب سے وارث کیے گئے ہو جو تم دنیا میں کرتے تھے۔ الذین تتوفھم الملئکۃ طیبین یقولون سلم ’‘ علیکم ادخلو الجنۃ بما کنتم تعملون۔ (النحل : ٣٢) وہ (نیک مسلمان) جن کی فرشتے روحیں قبض کرتے ہیں در آں حالیکہ وہ خوش ہوتے ہیں، کہتے ہیں کہ تم ان (نیک) کاموں کے سبب سے جنت میں داخل ہو جائو جن کی تم کرتے تھے۔ ان المتقین فی طللً و عیونٍ و فواکہ مما یشتھون کلوا واشربوا ھنیٓئٍا بما کنتم تعملونانا کذلک نجزی المحسنین (المرسلات : ٤٤۔ ٤١) بیشک نیک مسلمان سائے اور چشموں میں ہوں گے اور اپنی خواہش سے پھلوں میں مزے سے کھائو پیو ان (نیک) کاموں کے سبب سے جو تم کرتے تھے بیشک ہم نیک کام کرنے والوں کو ایسا ہی بدلہ دیتے ہیں۔ اس جگہ یہ سوال ہوتا ہے کہ ایک حدیث ان آیات کے معارض ہے :

حضرت جابر (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تم میں سے کسی شخص کو اس کا عمل جنت میں داخل نہیں کرے گا۔ اور نہ دوزخ سے پناہ میں رکھے گا اور نہ مجھ کو، سوا اس کے اللہ رحم فرمائے، ایک اور روایت میں ہے سوا اس کے کہ اللہ فضل فرمائے۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٨١٧، مسند احمد ج ٢ ص ٥٠٩، مشکوۃ رقم الحدیث : ٢٣٧٢، کنزالعمال رقم الحدیث : ١٠٣٨٤) اور متکلمین اہلسنت نے کہا ہے کہ نیکوں کو ثواب دینا اللہ تعالیٰ کا فضل ہے اور کافروں کو عذاب دینا اللہ تعالیٰ کا عدل ہے، اس کا جواب یہ ہے کہ نیکیوں پر اجر وثواب عطا کرنا حقیقت میں اللہ تعالیٰ کا فضل ہے اور حدیث اسی معنی پر محمول ہے، اور ان آیات میں نیک کاموں کو جو اجر وثواب کا سبب قرار دیا ہے یہ اسناد بہ اعتبار ظاہر کے ہے اور بندے کی نیکیوں کو اجر وثواب کا سبب قار دینا یہ بھی اللہ تعالیٰ کا کرم اور اس کا فضل ہے تاکہ بندہ خوش رہے اور نیک کاموں کے لیے اس کا جذبہ برقرار رہے اور اس کا حوصلہ بڑھتا رہے کہ وہ جو نیک کام کر رہا ہے وہ بےثمر اور بےمقصد نہیں ہے، اللہ تعالیٰ ان نیکیوں سے خوش ہوتا ہے اور ان پر انواع اقسام کی جنت کی دائمی نعمتیں عطا فرماتا ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 10 يونس آیت نمبر 4