أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِنَّ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ يَهۡدِيۡهِمۡ رَبُّهُمۡ بِاِيۡمَانِهِمۡ‌ۚ تَجۡرِىۡ مِنۡ تَحۡتِهِمُ الۡاَنۡهٰرُ فِىۡ جَنّٰتِ النَّعِيۡمِ ۞

ترجمہ:

بیشک جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کیے ان کا رب ان کو ان کے ایمان کی وجہ سے دائمی جنتوں کی طرف ہدایت دے گا جن کے نیچے سے دریا بہتے ہیں

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : بیشک جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کیے، ان کا رب ان کو ان کے ایمان کی وجہ سے دائمی جنتوں کی طرف ہدایت دے گا جن کے نیچے سے دریا بہتے ہیں (یونس : ٩)

حشر پر ایمان لانے والوں کا احوال :

اس رکوع کی آخری دو آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے احوال بیان فرمائے ہیں جو اللہ اور رسول اور آخرت پر ایمان رکھتے ہیں اور انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کے احکام کو مانا اور نیک عمل کیے اللہ تعالیٰ ان کے ایمان کے سبب انہیں قیامت کے دن جنت کی طرف ہدایت دے گا بایں طور کہ ان کو سلامتی کے ساتھ پل صراط سے گزار دے گا اور وہ جنت تک پہنچ جائیں گے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ بایمانھم میں با استعانت کے لیے ہو، کیونکہ قتادہ نے اس آیت کی تفسیر میں کہا ہے کہ مومن کے اعمال کو حسین صورتوں میں متمثل کردیا جائے گا جن سے خوشبو آرہی ہوگی، جب وہ قبر سے اٹھے گا تو وہ حسین صورت سے ملاقات کر کے اس کو جنت کی بشارت دے گی۔ مومن پوچھے گا کہ تم کون ہو ؟ وہ صورت کہے گی میں تمہارا عمل ہوں، پھر اس کے سامنے نور بچھا دیا جائے گا حتی کہ وہ جنت میں داخل ہوجائے گا اور یہی اس آیت کا معنی ہے کہ ان کا رب ان کو دائمی جنتوں کی طرف ہدایت دے گا، اور کافر کے اعمال کو بھیانک اور ڈرائونی شکل میں متشکل کردیا جائے گا جس سے بدبو آرہی ہوگی۔ وہ ڈرائونی شکل کافر سے چمٹ جائے گی اور اس کو دوزخ میں ڈال کر آئے گی۔ (جامع البیان رقم الحدیث : ١٣٦١٦، تفسیر امام ابن ابی حاتم رقم الحدیث : ١٠٢٣٧)

جنت میں دخول کا سبب کیا چیز ہے، اس میں اہلسنت اور معتزلہ کا اختلاف ہے۔ معتزلہ کے نزدیک ایمان اور اعمال صالحہ دونوں مل کر جنت میں دخول کا سبب ہیں اور اہلسنت کے نزدیک صرف ایمان دخول جنت کس سبب ہے، اگر کوئی شخص ایمان لایا اور اس نے نیک عمل نہیں کیے یا برے عمل کیے تو وہ محض اللہ تعالیٰ کی رحمت سے یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شفاعت سے یا اپنے گناہوں کی سزاء پا کر جنت میں چلا جائے گا اور یہ آیت اہلسنت کی مؤید ہے کیونکہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : اللہ ان کو ان کے ایمان کے سبب سے دائمی جنتوں کی ہدایت دے گا۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 10 يونس آیت نمبر 9