حج کبھی نہ رکا

فتحِ مکہ اور فرضیتِ حج کے بعد سب سے پہلے جناب عتاب بن اسید کو امیرِ حج بننے کا شرف ملا۔ نویں سالِ ہجرت حضرت ابو بکر صدیق اور دسویں سالِ ہجرت خود رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم حج کی ادائیگی کے لیے تشریف لائے جسے حجۃ الوداع کا نام دیا جاتا ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے وصال کے بعد عالمِ اسلام کے حالات ہمیشہ ایک جیسے نہیں رہے۔ دوسروی قوموں کی طرح اتار چڑھاؤ تاریخِ اسلام کا حصہ رہا۔ لیکن حالات کیسے ہی نا سازگار کیوں نہ ہوئے ، فریضہ حج عملِ پیہم کی طرح برقرار رہا۔

حالات کی سنگینیوں کے سبب بارہا ایسا ہوا کہ کبھی شام والے فریضہ حج کی ادائیگی سے محروم ہو گئے تو کبھی عراق والے ، کبھی خراسان والوں کے رستے میں رکاوٹیں کھڑی کی گئیں تو کبھی مصری حرمینِ طیبین کی زیارت سے محروم کر دئیے گئے۔ کبھی اہلِ مشرق اس سعادت کو پانے میں ناکام رہے تو کبھی یہ حرماں نصیبی اہلِ بغداد کے حصے میں آئی۔

آٹھویں سالِ ہجرت سے تا حال 1433 بار حج کا موقع آیا ، حالات کے نشیب وفراز سے حجاج کی تعداد میں کمی بیشی ہوتی رہی ، لیکن کبھی ایک بار بھی ایسا نہیں ہوا کہ فریضہ حج مکمل طور پر معطل ہوا ہو اور کسی ایک شخص نے بھی حج اداء نہ کیا ہو۔

گزشتہ چند دنوں سے سوشل میڈیا پر یہ باتیں چل رہی ہیں کہ :

“فلاں فلاں سالوں میں حج مکمل طور پر معطل رہا ، لہذا اگر سالِ رواں بھی معطل رہے تو کوئی بڑی بات نہیں”

پھر کسی دوست نے “تحقیق” کا عنوان دے کر بالخصوص مجھے مخاطب کیا ، پھر کچھ اصحابِ علم کو دیکھا کہ “اہم معلومات” کا عنوان دے کر وہ بھی اس قسم کی باتوں کو پھیلانے میں مصروف ہیں۔ اور سب سے زیادہ حیرت اس وقت ہوئی جب ڈاکٹر علی جمعہ کو سنا ، وہ کہہ رہے تھے کہ اب تک 22 ایسے مواقع آئے کہ فریضہ حج اداء نہیں ہو پایا۔

اگر ڈاکٹر علی جمعہ تفصیلی گفتگو نہ کرتے تو میں سمجھتا کہ شاید “حجاج کی کمی” کی بات کر رہے ہیں ، لیکن ڈاکٹر علی جمعہ نے تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ :

“بعض هذه المواسم تم إيقاف الحج إيقافًا كليًا وبعضها تم إيقاف الحج إيقافًا جزئيًا”

اگر بات عام فیس بک یوزرز کی ہوتی تو زیادہ عجیب نہ تھی ، کیونکہ یہاں وقت کے ساتھ ہر طرز کی باتیں گھڑ لی جاتی ہیں ، لیکن جب علمی شخصیات کی طرف سے اس قسم کی باتیں سامنے آنے لگیں تو وضاحت لازمی سمجھی ، فاقول وباللہ التوفیق:

کتبِ تاریخ میں کئی جگہ یہ جملہ ملتا ہے کہ ” کسی نے اس سال حج نہیں کیا”

لیکن بالعموم یہ جملہ مجمل ہوتا ہے اور دیگر کتبِ تاریخ اور بعض اوقات وہی مصنف کسی دوسری جگہ اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہہ دیتا ہے کہ: “عراق والوں میں سے کسی نے اس سال حج نہیں کیا” یا “مصر والوں میں سے کسی نے اس سال حج نہیں کیا”

اور بعض اوقات یہ جملہ محض وہم پر مبنی ہوتا ہے جس کا ازالہ دیگر کتب کی جانب مراجعت سے ہو جاتا ہے۔

مثلا 326ھ کو لے لیں۔ حافظ ذہبی کہتے ہیں “لم يحجّ أحد” (تاریخ الاسلام 24/52) یعنی اس سال کسی نے حج نہیں کیا۔

شفاء الغرام وغیرہ میں اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہا:

في سنة ست وعشرين بطل الحج من العراق، على ما ذكره الذهبي (شفاء الغرام بأخبار البلد الحرام 2/262)

(تین سو) چھبیس ہجری میں “عراق” سے حج معطل ہوا۔ جیسا کہ ذہبی رحمہ اللہ تعالی نے ذکر کیا۔

آپ دیکھ سکتے ہیں کہ حافظ ذہبی کی کلام میں اجمال ہے ، ایسے لگ رہا ہے کہ جیسے اُس سال حج ہوا ہی نہیں لیکن “شفاء الغرام” کی گفتگو نے واضح کر دیا کہ یہ بات صرف عراقیوں کی کی جا رہی ہے کہ وہ لوگ اس سال حج نہیں کر پائے۔

پھر جب آپ “شفاء الغرام” کے اگلے جملے دیکھتے ہیں جو درر الفرائد میں بھی موجود ہیں ، تو بات مزید کھل کے سامنے آتی ہے کہ حافظ ذہبی رحمہ اللہ تعالی نے مطلقا حج کی نفی نہیں کی ، بلکہ صرف عراقیوں کی بات کی اور اس میں بھی “عمومِ نفی” مقصود نہیں بلکہ عمومی حالات کا سلب مقصود ہے۔ جسے آپ کہہ سکتے ہیں کہ “عام حالات میں حج کا جیسا اہتمام ہوتا تھا ، اس لحاظ سے 326ھ میں نہ ہونے کے برابر تھا”

درر الفرائد اور شفاء الغرام کی گفتگو ملاحظہ ہو:

وأما العتيقي فقال في أخبار هذه السنة: وخرج من بغداد نفر يسير من الحجاج رجالة، وقوم أكثروا من العرب، ونحروا في مكة، وحجوا وعادوا من طريق الشام (درر الفرائد ص 241 ، شفاء الغرام بأخبار البلد الحرام 2/262)

عتیقی نے اس سال کی اخبار میں ذکر کیا:

اس سال بغداد سے بہت تھوڑے حاجی پیدل نکلے۔ اور عرب سے بکثرت لوگ ، مکہ میں قربانی کی ، حج کیا اور شام کے رستے واپس ہوئے۔

مرآۃ الزمان میں 321ھ (مرآة الزمان في تواريخ الأعيان 17/45) ، 330ھ (مرآة الزمان في تواريخ الأعيان 17/197) ، 331ھ (مرآة الزمان في تواريخ الأعيان 17/197) کے حج کے بارے میں ان لوگوں کی گفتگو ذکر کی جنہوں نے کہا کہ ان سالوں میں بھی حج نہیں ہوا ، لیکن ساتھ ہی اس گفتگو کے ضعف کی طرف اشارہ بھی کیا اور اس بات کی تصریح بھی کر دی کہ ان سالوں میں حج اداء کیا گیا تھا۔

یونہی 338ھ کے بارے میں دونوں قسم کے اقوال ذکر کیے۔ (مرآة الزمان في تواريخ الأعيان 17/269)

حافظ ذہبی نے 335ھ اور 337ھ کے بارے میں صاف الفاظ میں کہا:

ولم يحج أحد (تاریخ الاسلام 25/36) (تاریخ الاسلام 25/40)

یعنی ان دو سالوں میں کسی نے حج نہیں کیا۔

لیکن 335ھ سے 339ھ تک کے تمام سالوں کے بارے میں اتحاف الوری اور شفاء الغرام وغیرھما میں ہے:

وحج بالناس في سنة خمس وثلاثين، وست وثلاثين، وسبع وثلاثين، وثمان وثلاثين، وتسع وثلاثين، عمر بن يحيى العلوي(إتحاف الورى 2/ 393، 394 ، شفاء الغرام بأخبار البلد الحرام 2/263)

(تین سو) پینتیس ، چھتیس ، سینتیس ، اڑتیس ، انتالیس میں عمر بن یحیی علوی نے لوگوں کو حج اداء کروایا۔

عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ کسی ایک مؤرخ کا کوئی ایک مجمل جملہ لے کر یہ زور دینا کہ فلاں فلاں سالوں میں حج معطل رہا ، بالکل نا مناسب ہے۔

فریضہ حج عظیم شعائرِ اسلام سے ہے ، اس کا تعطل معمولی بات نہیں کہ اس سلسلے میں ہر کس وناکس کی بات پر کان دھرے جائیں۔ بلکہ اگر تاریخی حقائق سے ایسا ثابت ہو بھی جائے کہ فلاں فلاں سالوں میں فریضہ حج معطل رہا تو اس سے یہ بات کہاں سے ثابت ہو جائے گی کہ “حج کی معطلی جائز بھی ہے؟؟؟”

میں سمجھتا ہوں کہ حجاج کے لیے 317ھ جیسا کٹھن سال کبھی نہ آیا۔ بد بخت قرامطہ کی جانب سے 7 یا 8 ذو الحجہ کو حجاج کرام پر حملہ ہوتا ہے ، مسجدِ حرام کی حرمتوں کی پائمالی کی جاتی ہے ، ہزاروں لوگ مکہ کی گلیوں اور عین مسجدِ حرام میں شہید کر دئیے جاتے ہیں ، مقتولین کو چاہِ زمزم میں ڈال دیا جاتا ہے ، میزابِ رحمت اکھاڑنے کی کوشش کی جاتی ہے ، بابِ کعبہ اکھاڑ دیا جاتا ہے ، غلافِ کعبہ اتار کر اس کے ٹکڑے کر دئیے جاتے ہیں ، حجرِ اسود نکال کر بحرین لے جایا جاتا ہے ، آیاتِ الہیہ کا مذاق اڑایا جاتا ہے ، مسجدِ حرام کی حرمتوں کی ایسی پائمالی کی جاتی ہے کہ کبھی یہود ونصاری کی طرف سے نہ ہوئی۔۔۔۔

تاریخ کے اوراق میں صرف یہی ایک سال ایسا ملتا ہے جس کے بارے میں سوچا جا سکتا ہے کہ شاید اس سال حج کی ادائیگی مکمل طور پر معطل رہی ہو گی۔۔۔ حتی کہ شفاء الغرام میں کہ بھی دیا:

ولم يقف أحد تلك السنة بعرفة، ولا وافى نسكا (شفاء الغرام بأخبار البلد الحرام 2/261)

اس سال کسی شخص نے نہ تو وقوفِ عرفات کیا اور نہ ہی افعالِ حج میں سے کوئی فعل اداء کیا۔

العبر فی خبر من غبر میں کہا:

ولم يحج أحد (العبر فی خبر من غبر 1/474)

کسی نے بھی حج نہیں کیا۔

التاريخ المعتبر میں ہے:

فلم يحج أحد سنة سبع عشرة وثلاث مئه (التاريخ المعتبر في أنباء من غبر 1/382)

تین سو سترہ میں کسی نے حج نہیں کیا۔

اسلامی حج کی تاریخ میں یہی ایک ایسا سال آیا جس کے بارے میں یہ تصور کیا جا سکتا ہے کہ اس سال مکمل طور پر حج موقوف رہا ہو گا ، ورنہ وباء کا اندیشہ ، دشمن کا خوف ، اسلامی حکومتوں کے باہمی تنازعات اور دیگر اسی قسم کے امور حجاج کی تعداد پر تو اثر انداز ہوتے رہے ، لیکن حج کا ایقافِ کلی ، یعنی مکمل تعطل کبھی بھی نہ ہوا۔

لیکن یہ سانحہ چونکہ عین ایامِ حج میں مسجدِ حرام کے اندر ہوا ، اور قرامطہ کا حملہ حاجیوں پر ہی تھا اور ان بدبختوں کا مقصد حج ہی کو روکنا تھا۔ اس لیے اس سال کے بارے میں سوچا جا سکتا ہے کہ اس سال حج مکمل طور پر معطل ہوا ہو گا ، لیکن اس ایک سال کے علاوہ کسی دوسرے سال کے بارے میں ایسا نہیں کہا جا سکتا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ مسعودی نے التنبيه والإشراف میں کہا:

ولم يبطل الحج منذ كان الإسلام غير تلك السنة (التنبيه والإشراف 1/329 لأبی الحسن على بن الحسين بن على المسعودي المتوفى: 346ه)

جب سے اسلام کی روشنی نمودار ہوئی ، اس سال یعنی 317ھ کے علاوہ کبھی حج نہ رکا۔

لیکن مسعودی کے بارے میں کہاجا سکتا ہے کہ یہ چوتھی صدی کی شخصیت ہیں ، اور لازمی بات ہے کہ ان کی گفتگو اپنے دور تک بلکہ کتاب کی تصنیف تک ہی کی ہو سکتی ہے۔

لیکن اگر آپ ” مجير الدين العليمي عبد الرحمن بن محمد بن عبد الرحمن المقدسي الحنبلي” کو سنیں ، جن کا تعلق دسویں صدی ہجری سے جڑا ہوا ہے اور ان کی کتاب ” التاريخ المعتبر” بھی دسویں صدی ہجری کی بنیادوں تک پہنچی ہوئی ہے ، ان کا کہنا بھی بالکل ایسا ہی ہے:

ولم يبطل الحج منذ كان الإِسلام غير تلك السنة. (التاريخ المعتبر في أنباء من غبر 1/382 لمجير الدين العليمي عبد الرحمن بن محمد بن عبد الرحمن المقدسي الحنبلي المولود بالقدس سنة 860 هـ والمتوفى بها سنة 928 هـ)

یعنی اسلام کے آنے کے بعد اس ایک سال کے علاوہ کبھی حج نہیں رکا۔

یعنی مسعودی کے مطابق چوتھی صدی تک اور مجير الدين عليمي کے مطابق دسویں صدی ہجری یعنی سولہویں صدی عیسوی کی ابتداء تک حج کبھی بھی معطل نہ ہوا سوائے 317ھ مطابق 930ء کے۔

اور اگر معاملے کی مزید باریک بینی سے دیکھا جائے تو اندازہ ہو گا کہ حج کا مکمل تعطل اس سال بھی نہیں ہوا والحمد للہ حمدا کثیرا۔۔۔۔

مسلمان کہلانے والے زندیقوں نے عین مسجدِ حرام میں حاجیوں کو قتل کیا۔ لیکن وہ لوگ مرنے سے ڈرنے والے نہیں تھے ، وہ جانتے تھے کہ حرمینِ طیبین کی موت شہادت ہے ، اور ظلما قتل تو ہر جگہ شہادت ہے ، پھر حرم محترم میں مرنے سے کون ڈرے گا؟؟؟ یہ بات اپنی جگہ ہے کہ احترامِ حرم میں جوابی کاروائی نہیں کی گئی ، لیکن قتل کے ڈر سے کسی شخص نے اپنے معمولات میں کوتاہی نہیں آنے دی۔

علی بن بابویہ صوفی طوافِ کعبہ میں مصروف ہیں ، تلواریں انہیں نوچ رہی ہیں اور ان کی زبان پہ یہ شعر جاری ہے:

ترى المحبّين صَرْعَى في ديارهم … كَفِتْية الكهْفِ لا يدرون كم لبثوا (تاریخ الاسلام 23/385)

ان بد بختوں نے 7 یا 8 ذو الحجہ کو حملہ کیا ، ابھی ایک یا دو دن گزرے کہ بدبخت ابو طاہر قرمطی نشے میں دھت ہو کر ایک بار پھر مسجدِ حرام میں داخل ہوتا ہے ، کیا دیکھتا ہے کہ طوافِ کعبہ پھر سے جاری ہے۔۔۔!!!

بدبخت تلوار نکال لیتا ہے اور جو ہاتھ آئے اسے شہید کرنا چاہتا ہے ، ایک طائف کو شہید کر کے رکا پھر آیہ مقدسہ کا مذاق اڑاتے ہوئے چلایا:

تم لوگ تو کہتے تھے کہ جو یہاں آ گیا اسے امن مل گیا ، کہاں ہے امن ؟ دیکھو میں نے اس شخص کو ابھی تمہارے سامنے مار ڈالا ہے؟؟؟

راوی کا کہنا ہے کہ ایک لمحے مجھے ڈر لگا کہ اگر میں نے اس کی بات کا جواب دیا تو یہ بدبخت مجھے بھی مار ڈالے گا ، لیکن اگلے ہی لمحے شوقِ شہادت غالب آ گیا اور میں اس کی سواری کے پاس آ گیا اور اس کے لگام پکڑ کر بولا:

سن۔۔۔!!! اس کا مطلب وہ نہیں جو تو کہہ رہا ہے ، اس آیت کا مطلب ہے کہ جو یہاں آ جائے اسے امن دے دو۔۔۔!!! (المنتظم 13/282)

یہ مانا کہ حاجیوں کے لیے یہ سال انتہائی کٹھن تھا ، لیکن وہ حاجی ہم جیسے بہانہ تراش نہ تھے۔ ان کے پاس قوتِ ایمانی تھی اور دلوں میں شوقِ شہادت موجزن تھا ، وہ موت کو حیات سمجھنے والے کیسے گوارا کر سکتے تھے کہ :

دن رات حرمینِ طیبین میں مرنے کی دعائیں التجائیں کرنے کے بعد جب یہاں مرنے کا موقع مل رہا ہے تو موت کے ڈر سے حج ہی چھوڑ دیا جائے۔۔۔۔

ہاں اتنا ضرور ہوا کہ حجاج کرام کی اکثریت کو شہید کر دیا گیا ، بہت ہی تھوڑے لوگ بچے جو حج کر سکے ، لیکن پھر بھی حج اداء کیا گیا۔

اتحاف الوری میں ہے:

ولم یقف احد ھذہ السنۃ بعرفۃ ولا وفی نسکا الا قوم یسیر غرورا اتموا حجھم دون امام وکانوا رجالۃ (اتحاف الوری باخبار ام القری 2/377)

اس سال نہ تو کسی نے عرفہ میں وقوف کیا اور نہ ہی دیگر اعمال حج کسی نے اداء کیے ، سوائے تھوڑے سے لوگوں کے جنہوں نے حیلے بہانے سے اپنا حج بغیر امام کے مکمل کیا اور یہ لوگ پا پیادہ تھے۔

مروج الذہب میں ہے:

ولم يتم حج في موسم سنة سبع عشرة وثلثمائة هذه من أجل حادثة القرامطة، لعنهم الله، إلا لقوم يسير(مروج الذهب ومعادن الجوهر لأبی الحسن على بن الحسين بن على المسعودي (المتوفى: 346هـ) 4/312)

تین سو سترہ ہجری میں قرامطہ لعنھم اللہ تعالی کے اس حادثہ کی وجہ سے کسی کا حج مکمل نہ ہو سکا ، سوائے تھوڑے سے لوگوں کے۔

کتبِ تاریخ کے مطابق اس سال تیس ہزار آدمیوں کو شہید کیا گیا ، لیکن ان حالات میں بھی پختہ ایمان والوں نے موت کے ڈر سے حج کو معطل نہیں کیا۔ 357ھ مطابق 968ء میں ایسی وباء پھیلی کہ چند لوگوں کے سوا کوئی شخص مکہ تک نہیں پہنچ پایا۔ اور جو پہنچے ان کی بھی اکثریت حج کی ادائیگی کے بعد اس دنیا سے چل بسی ، لیکن موت کا خوف حج کی ادائیگی میں رکاوٹ نہیں بن پایا۔ (البدایۃ والنھایۃ 11/301)

اس گفتگو کا مقصد حج کے تعطل کا جواز یا عدمِ جواز نہیں ، مقصد محض اس بات کی وضاحت ہے کہ :

آٹھویں سالِ ہجرت سے 1440ھ سمیت 1433 بار حج کا موقع آیا ، وقت نے کئی کروٹیں بدلیں ، امت نے مختلف نشیب وفراز دیکھے ، حاجیوں کی تعداد کبھی کم رہی تو کبھی زیادہ ، لیکن کبھی ایک بار بھی ایسا نہیں ہوا کہ حج مکمل طور پر معطل وموقوف ہوا ہو۔

ہم اپنے رب کریم سے دعا کرتے ہیں کہ وہ رؤف ورحیم اپنے حبیبِ کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے صدقے عالم کو اس وباء سے نجات بخشے ، اور حج کا جو سلسلہ اب تک نہیں رکا ، اس سال بھی اسے رکنے سے محفوظ فرمائے۔

آمین

بحرمۃ النبی الامین

صلی اللہ تعالی علیہ وسلم

✍️ چمن زمان

جامعۃ العین ۔ سکھر (سندھ)

13 شعبان المعظم 1441ھ / 07 اپریل 2020ء

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔