باب الرکوع

رکوع کا باب ۱؎

الفصل الاول

پہلی فصل

۱؎ رکوع کے لغوی معنی ہیں جھکنایا پیٹھ ٹیڑھی کرنا۔اصطلاح میں کبھی عاجزی و پستی کوبھی رکوع کہاجاتا ہے اور کبھی پوری رکعت کو بلکہ پوری نماز کو بھی رکو ع کہہ دیتے ہیں،رب فرماتا ہے:”وَارْکَعُوۡا مَعَ الرّٰکِعِیۡنَ”۔حق یہ ہے کہ پچھلی امتوں کی نمازوں میں رکوع نہ تھا،رکوع صرف اسی امت کی نماز سےمختص ہے۔رب نے حضرت مریم علیھا السلام سے فرمایا:”وَاسْجُدِیۡ وَارْکَعِیۡ”وہاں رکوع بمعنی خضوع و انکسار ہے۔رکوع ہر رکعت کا رکن ہے کہ رکوع مل جانے سے رکعت مل جاتی ہے۔

حدیث نمبر 94

روایت ہےحضرت انس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع سجدے پورےکرو خدا کی قسم میں تم کو اپنے پیچھے سے دیکھتا ہوں ۱؎(مسلم،بخاری)

شرح

۱؎ ظاہر یہ ہے کہ اس میں خطاب تاقیامت سارےمسلمانوں سےہے۔معنی یہ ہیں کہ اے میری امت والو!نماز درست پڑھاکرو،تم کہیں ہو اورکبھی ہو میں تمہاری نمازیں دیکھتا ہوں،بعض روایات میں ہے کہ مجھ پرتمہارے رکوع اور سجدے،دل کےخشوع وخضوع پوشیدہ نہیں۔معلوم ہوا کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم ہمارے دلی رازوں سےبھی خبردار ہیں۔انبیاء و اولیاء آنے والے واقعات کومثل موجود دیکھ لیتے ہیں،حضورصلی اللہ علیہ وسلم نےمعراج میں دوزخ وجنت میں عذاب وثواب پانےوالوں کو ان کےٹھکانوں میں دیکھاحالانکہ یہ عذاب وثواب بعدقیامت ہوں گے۔اور ہوسکتا ہے کہ اس میں خطاب صحابہ سے ہو اور بعد بمعنی خلف ہو یعنی اے صحابہ!تم کسی صف میں اورکہیں ہوں مگر ہماری نگاہیں تمہاری نمازوں کو دیکھتی ہیں۔معلوم ہوا کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہیں اندھیرے اجالے میں کھلی چھپی چیزوں کو بے تکلف دیکھ لیتی ہیں۔عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا تھا کہ جو کچھ تم گھروں میں کھاکر یا بچا کر آتے ہو میں تمہیں بتاسکتا ہوں،یہ بھی حضورصلی اللہ علیہ وسلم کا معجزہ ہے۔مرقات نے فرمایا کہ یہ حدیث اپنے ظاہری معنی پرہے اس میں کسی تاویل وغیرہ کی گنجائش نہیں۔