حدیث نمبر99

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نےکہ مجھے رکوع اور سجدے میں تلاوت قرآن سےمنع کیا گیا ہے ۱؎ رکوع میں تو رب کی تعظیم کرو ۲؎ اورسجدے میں دعا میں کوشش کرو کہ وہ دعائیں قبولیت کے لائق ہیں۳؎(مسلم)

شرح

۱؎ ممانعت تنزیہی کیونکہ ان دونوں حالتوں میں انسان کے انتہائی عجز کا اظہارہے،لہذا اس وقت عظیم الشان کتاب کا پڑھنا مناسب نہیں۔بعض علماء فرماتے ہیں کہ رکوع،سجدہ میں قرآن پڑھنے سے نمازٹوٹ جاتی ہے،بعض کےنزدیک واجب الاعادہ ہوتی ہے،یونہی قعدہ میں قرآن پڑھ لینے سے سجدہ سہو واجب ہوتا ہے۔

۲؎ یعنی کہو”سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْمِ”تاکہ عملًا اپنے عجز کا اظہار ہو اور قولًا رب کی عظمت کا اقرار۔

۳؎ یعنی نفل نماز کے سجدوں میں صراحتًا دعائیں مانگو اور دیگرنمازوں کے سجدوں میں رب کی تسبیح و تمحیدکرو کہ یہ بھی ضمنی دعا ہے،کریم کی تعریف بھی دعا ہوتی ہے۔بعض بزرگوں کو دیکھا گیا کہ وہ سجدے میں گرکر دعائیں مانگتے ہیں ان کا ماخذ یہ حدیث ہے کیونکہ سجدے میں بندےکو رب سے انتہائی قرب ہوتا ہے،اس حالت کی دعا ان شاءاﷲ ضرور قبول ہوگی۔