ایک فرضی مثال

شوہر کے حق کی اہمیت اس سے بھی جانی جا سکتی ہے،حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم نور مجسم ﷺ نے ارشاد فرمایا لو کنت آمر احدا ان یسجد لاحد لامرت المراٗۃ ان تسجد لزوجھا،میںکسی کو کسی کے لئے سجدہ کرنے کا حکم دیتا تو عورت کو حکم دیتا کہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے

(ترمذی ج۱ ص ۳۸ا)

اسلام میں سجد ۂ عبادت اور سجدۂ تعظیمی اللہ تعالیٰ کے لئے خاص ہے،غیر خدا کو کسی بھی طرح کا سجدہ کرنا جائز نہیں،سجدۂ عبادت غیر خداکو شرک ہے اور سجدۂ تعظیم حرام ہے،اس سے یہ واضح ہوا کے اسلام میں جھک کرتعظیم کرنے کی یہ انتہائی حد ہے،اور یہ اللہ تعالیٰ کے لئے خاص ہو چکا ہے،سجدۂ تعظیمی کی حرمت کی وجہ یہ کہ ہمارے پیارے آقا و مولا ﷺ نے فرمایا میں کسی کو کسی کے لئے سجدہ کرنے کا حکم دیتا تو میں عورت کو حکم دیتا کہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے اس لئے کہ اس کے نزدیک اس کے شوہر کا درجہ بہت بڑا ہے،لیکن یہ جائز نہیں اس لئے اس اعلیٰ ترین تعظیم کا حکم نہیں دیا 

سجدہ کیا مطلوب

سجدہ حرام ہو گیا اس لئے غیر خدا کو نہیں کیا جا سکتا مگر سجدہ کا مقصود یہ ہے کہ مسجود کی برتری کے اقرار کے ساتھ اپنی فروتنی کا اعلان،اور اس حدیث سے اسی بات کی طرف اشارہ کیا گیا کہ عورت کو اپنے شوہر کی برتری مان لینی چاہیئے اور اس کے آگے منکسر اور متواضع بنا رہنا چاہیئے،دوسری بات یہ بتانی مقصود ہے کہ شوہر کا درجہ بیوی کے لئے بہت بلند بالا ہے اسکا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ جہاں شوہر کا پاؤں ہے وہاں بیوی کی پیشانی،یعنی عورت کا آخری درجہ یہ شوہر کے مقام کی ابتداء ہے،پھر اس شوہر کے لئے کیا نہ کیا جائے اسکا اندازہ آنے والی حدیث سے لگایا جائے