حدیث نمبر 98

روایت ہے انہیں سے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے رکوع سجدہ میں کہتے تھے پاک ہے بے عیب ہے ۱؎ فرشتوں اور روح کا رب ہے۲؎(مسلم)

شرح

۱؎ یہ دونوں صیغےمبالغہ کے ہیں”سُبُّوْحٌ”سے مراد ہے ذاتی عیوب سے پاک”قُدُّوْسٌ”سے مرادہے۔ صفاتی عیوب سے پاک،لہذاکلمے مقرر نہیں۔

۲؎ اگرچہ اﷲ تعالٰی ساری مخلوق کا رب ہے مگر چونکہ فرشتےبے گناہ اور ہمیشہ عبادت کرنے والی مخلوق ہیں،نیز سب سے بڑی مخلوق فرشتے ہی ہیں اس لیےخصوصیت سے ان کا ذکر فرمایا۔روح سے مرادیاجان ہے یاحضرت جبریل علیہ السلام جن کا لقب روح الامین ہےیاخاص فرشتوں کی جماعت یا وہ فرشتہ ہے جس کےسترہزار(۷۰۰۰۰)چہرے ہیں ہر چہرے میں سترہزار زبانیں اور ہر زبان میں ستر ہزارلغتوں سے خدا تعالٰی کی حمد۔مرقات نے فرمایا کہ انسان جنات کا دسواں حصہ ہیں اور جنات کرو بی فرشتوں کا دسواں حصہ اورکروبی فرشتے باقی ملائکہ کا دسواں حصہ۔