فضول خرچی ۔۔۔

تحریر : محمد اسمٰعیل بدایونی

فتوری چڑیل کئی گھنٹوں سے ڈریسنگ ٹیبل پر بیٹھی میک اپ کررہی تھی ۔ کوڈو شیطان کافی دیر سے دیکھ رہا تھا آخر اس سے رہا نہ گیا اور اس نے فتوری چڑیل کو للکار ہی دیا ۔

فتوری چڑیل! تم سارا سارا دن ڈریسنگ ٹیبل پر ہی گزار دیتی ہو، تمہیں میک کے علاوہ کوئی کام بھی ہے یا نہیں ؟

کام کریں میرے دشمن !!!!!!! فتوری چڑیل نے ناک سکوڑتے ہوئے کہا ۔

ہاں تم سدا کی کاہل ، سست اور نکمی جو ٹھہری ۔۔۔کوڈو شیطان کی اس بات پر تو فتوری چڑیل کے تن بدن میں آ گ لگ گئی ۔

تم اپنی حد میں رہو کوڈو شیطان ! فتوری چڑیل نے آگ بگولہ ہوتے ہوئے کہا ۔

ارے سنو ! وہ باس بلا رہے ہیں ۔۔۔جلد باز چھوٹو شیطان نے سب کو اطلاع دی ۔

کیوں اب کیا نیکستان پر کوئی نیا حملہ کرناہے ؟ فتوری چڑیل نے منہ بناتے ہوئے کہا ۔

معلوم نہیں یہ تو باس ہی بتائے گا ۔۔۔چھوٹو شیطان نے کہا ۔

باس کو بول دو میں میک اپ کرنے کے بعد ہی آ ؤں گی ۔۔۔فتوری چڑیل نے کہا ۔

ارے تو میک اپ کرنے سے پہلے یا بعد میں تم کون سا پری بن جاؤ گی ،رہو گی تو چڑیل کی چڑیل ہی نا !!!!!! کوڈو شیطان یہ کہنے کے بعد رکا نہیں اور دوڑتا ہوا شیطانی ہال کی جانب بڑھ گیا۔

ابلیس لعین ہاتھ پیچھے باندھے اِ دھر سے اُدھراور اُدھر سے اِ دھر ٹہل رہا تھا ۔۔۔

سارے چھوٹے بڑے شیطان آ گئے ؟ ابلیس نے پوچھا ۔

باس سب آ گئے سوائے فتوری چڑیل کے ۔۔۔کوڈوشیطان نے چغلی کی ۔

کیوں وہ کیوں نہیں آ ئی ؟

باس وہ میک اپ کا سوا ستیا ناس کررہی ہے ۔۔

میں یہیں ہوں باس ! فتوری چڑیل نے پھولی ہوئی سانس کے ساتھ کہا ۔

سانس پھولی ہوئی ہے لگتاتھا بھاگ کر آئی ہے ۔۔ کوڈو شیطان نے چوٹ کی ۔

تمہیں تو میں بعد میں دیکھ لوں گی ۔فتوری چڑیل نے غصے سے کو ڈو شیطان کو دیکھتے ہوئے کہا ۔

باس اتنا ہنگامی اجلاس ؟ ہامان نے پوچھا ۔

ہاں ! میں چاہتا ہوں نیکستان میں میرے بھائیوں کی تعداد میں اضافہ ہوجائے۔

با س ! یہ انتہائی بکواس قسم کا خیال ؟ میں کچھ سمجھا نہیں چھوٹو شیطان نے کہا ۔

ابلیس نے گھور کر چھوٹو شیطان کو دیکھا تو چھوٹو شیطان نے دوبار ہ کہا : م م ۔۔می۔۔میرا مطلب ہے یہ نادر و نایاب قسم کا خیال ؟میں کچھ سمجھا نہیں ۔

سارے احمق میرے پاس ہی جمع ہو گئے ہیں ۔ابلیس نے بڑ بڑاتے ہوئے کہا ۔

لگتا ہے باس کا دماغ سٹھیا گیا ہے نیکستان میں انہیں بھائی چاہیے ۔ہال میں موجود سارے شیطان چہ میگوئیاں کرنے لگے۔

ہم سب باس کے بھائی ہی تو ہیں ۔۔۔ہال میں ایک شیطان نے قدرے بلند آواز سے کہا ۔

ارےے ے ے نہیں ۔ خاموش !!!چہ میگوئیوں کی آواز بڑھی تو ابلیس نے چیخ کر کہا ۔

جی باس ! نیکستان کےتمام بچوں کو میرا بھائی بنا دو !

ٹھیک ہےباس ! میں آج ہی نیکستان پہنچتی ہوں اوروہاں کے ہر بچے سے کہوں گی وہ آپ کا یعنی شیطان کا بھائی بن جائے۔ فتوری چڑیل نے کہا تو شیطانوں سے بھرا ہال ٹھٹھے مار کر ہنسنے لگا ۔

اس میں ہنسنے کی کیا بات ہے ؟؟؟ فتوری چڑیل نے چڑتے ہوئے کہا ۔

تمہیں معلوم ہے نیکستان میں مسلمانوں کے بچے کیا پڑھتے ہیں ؟ کو ڈو شیطان نے فتوری چڑیل سے کہا ۔

فتوری چڑیل :کیا پڑھتے ہیں ؟

کوڈو شیطان : أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ ، نیکستان کے بچے باس سے پناہ مانگتے ہیں اور تم باس کا بھائی بنانے جا رہی ہو ۔

فتوری چڑیل : تو پھر وہ باس یعنی شیطان کے بھائی کیسے بنیں گے ؟

ارے تم لوگ ۔۔۔جن کےپاس نہ عقل ہے نہ شعور ہے دماغ میں فتور ہے اور اس پر غرور ہے ۔۔۔ابلیس لعین نےقافیہ ملایا ۔

واہ واہ !!! واہ کیا شاعری کی ہے باس نے ۔۔۔ایک چاپلوس شیطان نے چاپلوسی کرتے ہوئے کہا ۔

ارے یہ مشاعرہ نہیں ہو رہا کہ تم سارے ملعون مجھےداد دے رہے ہو ۔۔۔ابلیس چیخ پڑا ۔

ارےباس !آپ نے شعر سنانا شروع کیے تو ہم سمجھے مشاعرہ ہی ہو رہاہوگا ۔۔۔کوڈو شیطان نے کہا۔

سنو ! غور سے میری بات ۔مجھےنیکستان کا ہر بچہ اپنا بھائی بنانا ہے ۔۔۔۔شیطان نے کہا ۔

باس کیا آپ اسمبلی کا الیکشن لڑ رہے ہیں جو آپ کو بھائیوں کی ضرورت پڑ گئی ؟ ایک شیطان نے پوچھا ۔

لیکن باس ! یہ بچے آپ کے بھائی بننے کے لیے راضی تو نہیں ہوں گے کیونکہ شیطان کا بھائی بننا تو کوئی بھی پسند نہیں کرتا ۔چھوٹو شیطان نے کہا ۔

چھوٹا شیطان ہے پر بات توٹھیک ہی کررہاہے ۔۔۔ہال میں موجود شیطانوں نےپھر کھسر پھسر شروع کر دی ۔

دیکھو ! تم لوگوں نے صرف اتنا کرناہے کہ ان بچوں سے فضول خرچی کرانی ہے۔ابلیس نے شیطانوں کی بڑبڑاہٹ کو نظر انداز کرتے ہوئے کہا

“فضول خرچی ” تمام شیطان ایک ساتھ چیخ پڑے ۔

ہاں “فضول خرچی ” کیونکہ جو فضول خرچ ہے وہ میرا بھائی ہے ۔ابلیس نے کہا ۔

اس دفعہ فتوری چڑیل تمہیں کامیاب لوٹنا ہے اور نیکستان کے بچوں اور بڑوں کو فضول خرچ بنا نا ہے ۔

اس دفعہ آپ کے بھائیوں کی تعداد میں بڑا اضافہ ہو گا باس ! فتوری چڑیل نے اترا کر کہا۔

شاباش ! فتوری چڑیل مجھے تم سے یہ ہی امید تھی ۔شیطان نے فتوری چڑیل سے کہا ۔

پورا شیطان گینگ تمہارے ساتھ ہو گا اور تم جیسے حکم دو گی یہ ویسے تمہاری مدد کرے گا ۔

فتوری چڑیل نے ساری رات پلاننگ کی اور اگلے دن نیکستان پر دھاوا بول دیا ۔

۔۔۔۔۔۔

نیکستان میں شیطان کے شیطانی دہشت گرد پھیل چکے تھے ۔

فتوری چڑیل تاک میں تھی کہ کوئی بچہ جس کے ہاتھ میں پیسے ہوں اور وہ اسے نظر آجائے بس تاکہ وہ اس کا شکار کر سکے ۔

ایک بچہ اسے بازار جاتا دکھائی دیا اور وہ اس کے پاس پہنچ گئی ۔۔۔

فواد کے پاس پچاس روپے تھے اور وہ بازار میں کھڑا سوچ رہا تھا کہ کیا لے اور کیا نہ لے ۔

ارے وہ دیکھو فتوری چڑیل نے اسے ایک پٹاخے والے کی ریڑھی دکھائی بس ان پچاس روپے کے پٹاخے لے لو ۔۔۔

فواد ریڑھی کے پاس کھڑا سوچ رہا تھا کہ وہ پٹاخے لے یا نہیں ؟

ارے لے لو شب برات میں پٹاخے پھوڑنا ۔۔۔فتوری چڑیل نے فواد کے کان میں سرگوشی کی ۔

ہاں یہ ٹھیک رہے گا فواد نے سوچا ۔اور جا کر پٹاخے خرید نے کے لیے پٹاخے والے کی ریڑھی پر کھڑا ہو گیا ۔

اوہو یہ لو جی ! باس کا یعنی شیطان کا بھائی تو بنا دیا ایک بچے کو ۔۔۔فتوری چڑیل نے کہا ۔

ابھی رک جاؤ فتوری چڑیل وہ دیکھو !کوڈو شیطان نے کہا۔

کیا دیکھو!

وہ دیکھو عبد اللہ اور اس کے دوست آ رہے ہیں ۔۔۔ارے یہ کہاں آ گیا یہاں !فتوری چڑیل نے اپناسر پیٹ لیا ۔

عبد اللہ اور عبداللہ کے دوست نیکستان میں کسی بھی برائی کو دیکھتے تو اس کے خاتمے تک چین سے نہیں بیٹھتے تھے ۔

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ فواد بھائی !

وعلیکم السلام ورحمۃا للہ وبرکاتہ عبد اللہ بھائی

ارے فواد بھائی ! آپ یہاں پٹاخوں کی دکان پر کھڑے ہیں ؟ عبد اللہ نے فواد سے پوچھا ۔

ہاں عبد اللہ بھائی ! میں سوچ رہاہوں کہ شب برات کے لیے پٹاخے لے لوں ۔ فواد نے کہا

ارے نہیں فواد بھائی ! یہ کیا کررہے ہیں آپ ؟ آپ نے قرآن کی وہ آیت تو سُنی ہو گی ۔ عبد اللہ نے اپنے حافظے پر زور دیتے ہوئے کہا ۔

فواد: کونسی آیت ؟

عبد اللہ :ہاں

اِنَّ الْمُبَذِّرِیْنَ كَانُوْۤا اِخْوَانَ الشَّیٰطِیْنِؕ- بنی اسرائیل 27

بیشک فضول خرچی کرنے والے شیطانوں کے بھائی ہیں

کیا آپ چاہتے ہیں آپ بھی فضول خرچی کرکے شیطان کے بھائی بن جائیں ؟

فواد :نہیں عبد اللہ بھائی ! ہر گز نہیں

عبد اللہ : تو پھر آپ اس ریڑھی والے کے پاس سے ہٹ جائیے اور یہاں آنے والے ہر بچے کو پیار محبت سے سمجھائیے کہ پٹاخے نہیں خریدے یہ فضول خرچی ہے اور فضول خرچ شیطان کا بھائی ہو تا ہے ۔

لگتا ہے اس دفعہ ابلیس کے دہشت گرد مسلمان بچوں کو فضول خرچی پرلگا رہے ہیں : عبد اللہ نے اپنے دوست جنید سے کہا ۔

ہاں عبد اللہ بھائی ! مجھے بھی ایسا ہی نظر آ رہاہے ۔جنید نےجواب دیا ۔

تو پھر تو مقابلہ کرنا ہو گا ان شیطانی دہشت گردوں کا اور بچوں کو بچانا ہو گا ان دہشت گردوں سے ۔ عبد اللہ نے ایک عزم سے کہا ۔

۔۔۔۔

اوہو ۔۔۔یہ کہاں سے آجاتا ہے ہمیشہ ہمارے مشن کو ناکام کرنے کے لیے ۔۔۔ ایسا کرو اُس بچے کو بہکاؤ ۔فتوری چڑیل نے کہا۔

کس بچے کو ؟ کوڈو شیطان نے پوچھا

وو جو پتنگ والے کی دکان پر موجود ہے ۔ فتوری چڑیل نے اشارہ کرتے ہوئے کہا ۔

کچھ ہی دیر میں کوڈو شیطان پتنگ کی دکان پر کھڑے بچے کوورغلا رہا تھا یہ پتنگ لو ، پتنگ اڑاؤ ، کوڈو شیطان کی سرگوشی پر بچہ پتنگ لینے ہی والا تھا کہ عبد اللہ اور اس کے دوست اس کے پاس پہنچ گئے اس سے پوچھا : کیا لے رہے ہو ؟

بچے نے کہا میں پتنگ لے رہاہوں اس کو اڑاؤں گا۔

پیارے بھائی ! یہ فضول خرچی ہے آپ کوئی اچھی چیز جیسے پھل ، بسکٹ وغیرہ کھا لیجیے لیکن ان پیسوں کو فضول خرچی میں مت اڑائیے ۔

بچہ ایک لمحے کے لیے سوچتا ہے او رکہتا ہے عبد اللہ بھائی آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں ۔

عبد اللہ اسے آیت سُناتا ہے پیارے بھائی ! دیکھو قرآن ہمیں کیا تعلیم دے رہاہے ۔

اِنَّ الْمُبَذِّرِیْنَ كَانُوْۤا اِخْوَانَ الشَّیٰطِیْنِؕ- بنی اسرائیل 27

بیشک فضول خرچی کرنے والے شیطانوں کے بھائی ہیں

بس اب آپ یہاں موجود رہیے او ردیکھیے کوئی بچہ اس دکان پر آئے تو اسےپیار سے سمجھائیے کہ پتنگ خریدنا اسے اڑانا وقت اور پیسے دونوں کا ضیاع ہے ۔

۔۔۔۔

ارے فتوری چڑیل !یہ عبد اللہ تو نہ صرف سارے بچوں کو سمجھا رہا ہے بلکہ ہر وہ دکان جہاں سے ہم بچوں کو فضول خرچ بنا سکتے تھے وہاں اس نے اپنے سپاہی بھی کھڑے کرنا شروع کر دئیے ۔۔۔۔چھوٹو شیطان نے فتوری چڑیل سے کہا ۔

ایک آخری کوشش ۔۔۔فتوری چڑیل نے کہا ۔

وہ کیا ؟ کوڈو شیطان نے آنکھیں نکالتے ہوئے پوچھا ۔

بچوں کو بتاؤ کہ یہ پنکھے اور لائٹس کھلی چھوڑ دیا کریں یہ بھی تو ایک طرح کی فضول خرچی ہی ہے نا ۔۔۔فتوری چڑیل نےقہقہہ لگاتے ہوئے کہا ۔

ہاں یہ کرتے ہیں ۔۔۔مگر عبد اللہ اور اس کے ساتھی واٹس اپ پر یہ میسج بھیج چکے ہیں فتوری چڑیل ! چھوٹو شیطان نے موبائل فون فتوری چڑیل کے سامنے کیا ۔

جس میں لکھا ہوا تھا شیطان اور اس کے دہشت گردوں نے نیکستان کی بستی پر حملہ کر دیاہے اور وہ نیکستان کے بچوں کو فضول خرچی پر اُکسا رہے ہیں لہذا تمام بچےکوشش کریں کہ گھر کی کوئی لائٹ اور فالتو پنکھے نہ چلائیں۔ بلا ضرورت اےسی بھی نہ چلایا جائے ۔۔۔۔

ارے یہ عبد اللہ اور اس کے دوست !!! چڑیل غصے کے مارے پاگل ہو رہی تھی اسے اپنی ناکامی صاف دکھائی دے رہی تھی ۔۔۔

پیارے بچو ! فتوری چڑیل آپ کے آس پاس بھی گھوم رہی ہوتی ہے وہ چاہتی ہے آپ کوبھی فضول خرچ بنا دے ۔

آپ کوئی بھی اوٹ پٹانگ چیز نہیں خریدیں ایسی چیز خریدیں جو آپ کی ضرورت کی ہو ۔آپ بھی دیکھتے رہیے اپنے گھر اور اسکول میں کوئی بجلی کا بلب یا پنکھا فالتو تو نہیں چل رہاہے ۔۔۔۔

آپ نےفضول خرچی سے خود بھی بچنا ہے اور دوسرے بچوں کو بھی بچانا ہے۔