أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قُلْ لَّوۡ شَآءَ اللّٰهُ مَا تَلَوۡتُهٗ عَلَيۡكُمۡ وَلَاۤ اَدۡرٰٮكُمۡ بِهٖ ‌ۖ فَقَدۡ لَبِثۡتُ فِيۡكُمۡ عُمُرًا مِّنۡ قَبۡلِهٖ ؕ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ۞

ترجمہ:

آپ کہیے اگر اللہ چاہتا تو میں تم پر اس (قرآن) کی تلاوت نہ کرتا اور نہ تم کو اس کی اطلاع دیتا، پھر بیشک اس (نزول قرآن) سے پہلے میں تم میں عمر ( کا ایک حصہ) گزار چکا ہوں، کیا تم (یہ) نہیں سمجھتے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد : آپ کہئے اگر اللہ چاہتا تو میں تم پر اس (قرآن) کی تلاوت نہ کرتا اور نہ تم کو اس کی اطلاع دیتا پھر بیشک اس (نزول قرآن) سے پہلے میں تم میں عمر کا (ایک حصہ) گزار چکا ہوں، کیا تم (یہ) نہیں سمجھتے (یونس : ١٦)

سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت پر ایک دلیل :

اس آیت کا معنی یہ ہے کہ اگر اللہ چاہتا تو مجھے تمہاری طرف رسول بنا کر نہ بھیجتا اور میں تم پر قرآن کی تلاوت نہ کرتا اور نہ میں تمہیں اللہ کے متعلق کوئی خبر دیتا، اس آیت میں کفار اور مشرکین کے اس خیال کا رد ہے کہ یہ قرآن مجید نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا کلام ہے کیونکہ مشرکین مکہ نے اول سے آخر تک نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زندگی کا مشاہدہ کیا تھا اور ان کو آپ کے تمام احوال معلوم تھے، وہ یہ جانتے تھے کہ آپ نے کسی کتاب کا مطالعہ نہیں کیا اور نہ کسی استاذ سے علم حاصل کیا پھر آپ پر اسی طرح چالیس سال کا عرصہ گزر گیا، پھر چالیس سال بعد آپ اچانک اس عظیم کتاب کو لے آئے جس میں اولین اور آخرین کی خبریں ہیں اور تہذیب اخلاق، تدبیر منزل اور ملکی سیاست کے متعلق مفصل احکام اور پیش گوئیاں ہیں اور بہت دقیق علوم ہیں اور تمام علماء، فصحاء اور بلغاء اس کی نظیر لانے میں عاجز اور ناکام رہے تو ہر وہ شخص جس کے پاس عقل سلیم ہو وہ بداہتًا یہ جان لے گا کہ ایسا معجز کلام اللہ کی وحی کے بغیر حاصل نہیں ہوسکتا، اس لیے فرمایا کہ میں بیشک اس (نزول قرآن) سے پہلے تم میں عمر کا ایک حصہ گزار چکا ہوں کیا تم نہیں سمجھے ! اس آیت کی دوسری تقریر یہ ہے کہ اس نزول قرآن سے پہلے میں نے تم میں چالیس سال زندگی گزاری اور تم میرے صدق اور امانت اور میری پاکیزگی کو جان چکے ہو، میں پڑھتا تھا نہ لکھتا تھا پھر میں تمہارے پاس اس معجز کلام کو لے کر آیا تو اب کیا تم یہ نہیں سمجھ سکتے کہ یہ کلام میرا نہیں ہوسکتا اور یہ صرف اور صرف وحی الہی ہے، پھر میں نے تم میں اپنے شباب کی پوری عمر گزاری ہے جس میں، میں نے اللہ تعالیٰ کی کوئی نافرمانی نہیں کی تو اب تم مجھ سے یہ توقع رکھتے ہو کہ میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کروں گا اور اس کے کلام کو بدل ڈالوں گا، کیا تم اتنی سی بات نہیں سمجھتے !

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 10 يونس آیت نمبر 16