أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاِذَا تُتۡلٰى عَلَيۡهِمۡ اٰيَاتُنَا بَيِّنٰتٍ‌ ۙ قَالَ الَّذِيۡنَ لَا يَرۡجُوۡنَ لِقَآءَنَا ائۡتِ بِقُرۡاٰنٍ غَيۡرِ هٰذَاۤ اَوۡ بَدِّلۡهُ‌ ؕ قُلۡ مَا يَكُوۡنُ لِىۡۤ اَنۡ اُبَدِّلَهٗ مِنۡ تِلۡقَآئِ نَـفۡسِىۡ ۚ اِنۡ اَتَّبِعُ اِلَّا مَا يُوۡحٰۤى اِلَىَّ‌ ۚ اِنِّىۡۤ اَخَافُ اِنۡ عَصَيۡتُ رَبِّىۡ عَذَابَ يَوۡمٍ عَظِيۡمٍ ۞

ترجمہ:

اور جب ان پر ہماری روشن آیتوں کی تلاوت کی جاتی ہے تو جن لوگوں کو ہمارے سامنے حاضر ہونے کی توقع نہیں ہے تو وہ کہتے ہیں کہ اس کے علاوہ کوئی اور قرآن لائو یا اسی کو تبدیل کردو۔ آپ کہیے کہ اس کو تبدیل کرنا میرے اختیار میں نہیں ہے، میں صرف اسی چیز کی پیروی کرتا ہوں جس کی میری طرف وحی کی جاتی ہے۔ اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو میں عظیم دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور جب ان پر ہماری روشن آیتوں کی تلاوت کی جاتی ہے تو جن لوگوں کو ہمارے سامنے حاضر ہونے کی توقع نہیں ہے تو وہ کہتے ہیں کہ اس کے علاوہ کوئی اور قرآن لائو یا اسی کو تبدیل کردو، آپ کہئے کہ اس کو تبدیل کرنا میرے اختیار میں نہیں ہے، میں صرف اسی چیز کی پر یوری کرتا ہوں جس کی میری طرف وحی کی جاتی ہے، اگر میں اپنے رب کی نا فرمائی کروں تو میں عظیم دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں (یونس : ١٥)

مشرکین کا یہ مطالبہ کہ آپ قرآن مجید کو بدل ڈالیں :

جس طرح سابقہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت پر مشرکین کا طعن ذکر کر کے ان کے جوابات ذکر فرمائے تھے، اس آیت میں بھی ان کا ایک طعن ذکر کر کے اس کا جواب ذکر فرمایا ہے۔

امام ابو محمد حسین بن مسعود الفراء البغوی المتوفی ٥١٦ ھ لکھتے ہیں :

قتادہ نے کہا ہے کہ یہ اعتراض کرنے والے مشرکین مکہ تھے، اور مقاتل نے کہا ہے کہ یہ پانچ شخص تھے : عبداللہ بن امیہ المخزومی، ولید بن مغیرہ، مکرز بن حفص، عمرو بن عبیداللہ بن ابی قیس العامری اور العاص بن عامر بن ہشام، یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ کہا تھا کہ اگر آپ یہ چاہتے ہیں کہ ہم آپ پر ایمان لے آئیں تو آپ اس قرآن کے علاوہ کوئی اور قرآن لے آئیں جس میں لات، عزی اور مناۃ کی عبادت سے ممانعت نہ ہو، اور نہ ان کی مذمت کی گئی ہو اور اگر اللہ ایسی آیتیں نازل نہ کرے تو آپ ایسی آیتیں بنالیں، یا اس قرآن کو بدل ڈالیں اور عذاب کی آیتوں کی جگہ رحمت کی آیتیں بنادیں یا حرام کی جگہ حلال اور حلال کی جگہ حرام لکھ دیں، اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : اے محمد ! آپ کہئے کہ اس قرآن کو بدلنا میرے اختیار میں نہیں ہے، میں صرف اسی چیز کی پیروی کرتا ہوں جس کی مجھ پر وحی کی جاتی ہے، اس کے مطابق میں حکم دیتا ہوں یا کسی چیز سے منع کرتا ہوں۔ (معالم التنزیل ج ٢ ص ٢٩٣، مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت، ١٤١٤ ھ)

قرآن مجید میں تبدیلی کے مطالبہ کی وجوہات :

کفار جو آپ سے یہ مطالبہ کرتے تھے کہ آپ کوئی اور قرآن لے آئیں یا اسی قرآن کو بدل ڈالیں تو ان کا یہ مطالبہ بطور استہزاء تھا اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ سنجیدگی کے ساتھ آپ سے یہ مطالبہ کرتے ہوں اور اس سے ان کی غرض یہ ہو کہ اگر آپ نے انکا یہ مطالبہ مان لیا تو آپ کا یہ دعوی باطل ہوجائے گا کہ یہ قرآن اللہ کا کلام ہے اور اس کا نازل کیا ہوا ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ واقعی کوئی اور کتاب چاہتے ہوں کیونکہ قرآن ان کے معبودوں کی مذمت پر مشتمل ہے اور ان کے معمولات کو باطل قرار دیتا ہے، اس لیے وہ کوئی اور کتاب چاہتے تھے جس میں یہ چیزیں نہ ہوں۔ نیز اس آیت میں فرمایا : آپ کہئے میں صرف اسی چیز کی پیروی کرتا ہوں جس کی میری طرف وحی کی جاتی ہے، اس پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ اس آیت سے یہ لازم آتا ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اجتہاد نہیں کرتے تھے اور نہ قیاس سے کام لیتے تھے، اس کا جواب یہ ہے کہ اس آیت کا معنی یہ ہے کہ میں قرآن مجید پہنچانے اور اس کی تلاوت کرنے میں وحی کی اتباع کرتا ہوں اور اپنی طرف سے اس میں کوئی کمی بیشی اور تغیر و تبدل نہیں کرتا اور نہ مجھ کو اس کا اختیار ہے۔ باقی اجتہاد اور قیاس پر مکمل بحث ان کی تعریف، ارکان، شرائط ان کے دلائل اور ان کے نظائر ہم نے الانعام : ٥٠ میں بیان کردیئے۔ جو حضرات ان مباحث پر مطلع ہونا چاہیں، وہ ان کو وہاں دیکھ لیں۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 10 يونس آیت نمبر 15