أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَلَقَدۡ اَهۡلَـكۡنَا الۡـقُرُوۡنَ مِنۡ قَبۡلِكُمۡ لَمَّا ظَلَمُوۡا ‌ ۙ وَجَآءَتۡهُمۡ رُسُلُهُمۡ بِالۡبَيِّنٰتِ وَمَا كَانُوۡا لِيُـؤۡمِنُوۡا ‌ ؕ كَذٰلِكَ نَجۡزِى الۡقَوۡمَ الۡمُجۡرِمِيۡنَ‏ ۞

ترجمہ:

(لوگو ! ) ہم نے تم سے پہلے کی ان قوموں کو ہلاک کردیا تھا جنہوں نے ظلم کیا تھا اور ان کے پاس ان کے رسول معجزات لے کر آئے تھے اور انہوں نے ایمان لا کر نہ دیا۔ اور ہم مجرم قوم کو اسی طرح سزا دیتے ہیں

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (لوگو ! ) ہم نے تم سے پہلے کی ان قوموں کو ہلاک کردیا تھا جنہوں نے ظلم کیا تھا، اور ان کے پاس ان کے رسول معجزات لے کر آئے تھے اور انہوں نے ایمان لا کر نہ دیا، اور ہم مجرم قوم کو اسی طرح سزا دیتے ہیں پھر ہم نے ان کے بعد تم کو زمین میں ان کا جانشین بنایا تاکہ ہم یہ ظاہر فرمائیں کہ تم کیسے عمل کرتے ہو (یونس : ١٤۔ ١٣)

اللہ تعالیٰ کے آزمانے پر اعتراض کا جواب :

کفار اور مشرکین کہتے تھے کہ اگر دین اسلام برحق ہے اور ہم اس کے منکر ہیں تو آپ ہم پر آسمان سے پتھر برسائیں یا کوئی درد ناک عذاب لے آئیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس کا یہ جواب دیا کہ یہ اپنے اس مطالبہ میں جھوٹے ہیں کیونکہ ان کا حال تو یہ ہے کہ جب ان پر کوئی مصیبت آتی ہے تو یہ گھبرا کر اللہ تعالیٰ سے فریاد کرتے ہیں اور پہلو کے بل، بیٹھے ہوئے اور کھڑے ہوئے ہرحال میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں، اور اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے پچھلی قوموں کے احوال یاد دلائے کہ ان کے پاس ان کے رسول دلائل اور معجزات لے کر آئے اور اقنہوں نے ان رسولوں کی تکذیب کی تو ہم نے ان قوموں کو ہلاک کردیا اور یہ اس لیے فرمایا تاکہ مشرکین مکہ نزول عذاب کے مطالبہ سے باز آجائیں۔ 

اللہ کے علم پر ایک اشکال کا جواب :

دوسری آیت میں فرمایا : پھر ان کے بعد ہم نے تم کو زمین میں جانشین بنایا تاکہ ہم دیکھیں کہ تم کس طرح عمل کرتے ہو، اس آیت سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو پہلے علم نہیں تھا اور جب مشرکین عمل کرلیں گے تو اللہ تعالیٰ کو علم ہوگا، اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ ایسا معاملہ کرے گا جیسا معاملہ معلومات حاسل کرنے والا اور امتحان لینے والا لوگوں کے ساتھ کرتا ہے تاکہ ان کو ان کے عمل کے مطابق جزا دے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ کو ہر چیز کا ہمیشہ علم ہے۔ قرآن مجید میں اس کی بہت نظائر ہیں : لیسلو کم ایکم احسن عملا۔ (ھود : ٧) ” تاکہ وہ تم کو آزمائے کہ تم میں سے کون زیادہ اچھا عمل کرتا ہے۔ “ حضرت ابو سعید خدری (رض) نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا بہت طویل خطبہ روایت کیا، اس میں آپ کا یہ ارشاد ہے : یہ دنیا سرسبز اور میٹھی ہے اور اللہ تمہیں اس میں جانشین بنانے والا ہے پھر وہ دیکھنے والا ہے کہ تم اس میں کسطرح عمل کرتے ہو۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث : ٢١٩١، سنن ابی ماجہ رقم الحدیث : ٤٠٠٠، ٢٨٧٣، مسند حمیدی رقم الحدیث : ٤٥٢، ج ٣ ص ٧، مسند ابو یعلی رقم الحدیث : ١١٠١، سنن کبری ج ٧ ص ٩١، دلائل النبوۃ ج ٦ ص ٣١٧) اس حدیث کا بھی یہی معنی ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ ایسا معاملہ کرے گا جیسا معاملہ امتحان لینے والا اور آزمانے والا لوگوں کے ساتھ کرتا ہے ورنہ اللہ تعالیٰ کو ہر چیز کا ہمیشہ سے علم ہے۔ 

لننظر کے چند مشہور تراجم :

شاہ ولی اللہ محدث دہلوی متوفی ١١٧٦ ھ اس آیت کے ترجمہ میں لکھتے ہیں : باز جانشین ساختیم شمار اور زمین پس از ایشان تابہ بینم چگونہ کاری کنند

شیخ محمود حسن متوفی ١٣٣٩ ھ لکھتے ہیں : تم کو ہم نے نائب کیا زمین میں ان کے بعد تاکہ دیکھیں تم کیا کرتے ہو

شیخ اشرف علی تھانوی متوفی ١٣٦٤ ھ لکھتے ہیں : پھر ان کے بعد دنیا میں بجائے ان کے تم کو آباد کیا تاکہ ہم دیکھ لیں کہ تم کس طرح کام کرتے ہو۔

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان فاضل بریلوی متوفی ١٣٤٠ ھ لکھتے ہیں : پھر ہم نے ان کے بعد تمہیں زمین میں جانشین کیا کہ دیکھیں تم کیسے کام کرتے ہو۔

حضرت ابو المحامد سید محمد محدث اعظم کچھو چھوی لکھتے ہیں : پھر بنادیا ہم نے تم کو جانشین زمین میں ان کے بعد تاکہ نظر کے سامنے کردیں کہ کس طرح کام کرتے ہو۔

سید ابو الاعلیٰ مودودی متوفی ١٣٩٩ ھ لکھتے ہیں : اب ان کے بعد ہم نے تم کو زمین ان کی جگہ دی ہے، تاکہ دیکھیں کہ تم کیسے عمل کرتے ہو۔

اور ہمارے شیخ سید احمد سعید کا ظمی متوفی ١٤٠٦ ھ لکھتے ہیں : پھر ان کے بعد ہم نے زمین میں تم کو (ان کا) جانشین بنایا تاکہ ہم ظاہر فرمائیں کہ تم کیسے کام کرتے ہو۔ ان تمام تراجم میں صرف ہمارے حضڑت صاحب نے ایسا ترجمہ کیا ہے جس پر کوئی اشکال وارد نہیں ہوتا، دیگر مترجمین کا ترجمہ بھی غلط نہیں ہے لیکن انہوں نے لننظر کا لفظی ترجمہ کیا ہے جس پر یہ اشکال وارد ہوتا ہے کہ مشرکین کے عمل کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ کو علم ہوگا کہ وہ کیا کرتے ہیں، اور ہمارے حضرت صاحب نے نظر کا معنی علم ظہور کیا ہے یعنی اللہ تعالیٰ مشرکین کی کارروائی کو ظاہر فرمائے گا، اصطلاح میں اس کو علم تفصیلی سے تعبیر کرتے ہیں۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 10 يونس آیت نمبر 13