پندرہ شعبان اور اہل مکہ کا عمل…!!!

امام ابوعبداللہ محمد بن اسحاق بن عباس المکی الفاکہی علیہ الرحمہ (متوفی 272ھ) اپنے زمانے میں پندرہ شعبان میں اہل مکہ کے عمل کے بارے میں لکھتے ہیں:

“وَأَهْلُ مَكَّةَ فِيمَا مَضَى إِلَى الْيَوْمِ إِذَا كَانَ لَيْلَةُ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ، خَرَجَ عَامَّةُ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ إِلَى الْمَسْجِدِ، فَصَلَّوْا، وَطَافُوا، وَأَحْيَوْا لَيْلَتَهُمْ حَتَّى الصَّبَاحَ بِالْقِرَاءَةِ فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ، حَتَّى يَخْتِمُوا الْقُرْآنَ كُلَّهُ”

اور اہل مکہ زمانہ ماضی سے آج تک جب بھی پندرہ شعبان کی رات ہوتی تو تمام اہل مکہ مرد و عورت مسجد (حرام) جاتے ، نماز پڑھتے، طواف کرتے اور ساری رات عبادت کرتے اور مسجد حرام میں صبح تک تلاوت (قرآن) کرتے اور یہاں تک کہ مکمل قرآن ختم کرتے۔

[أخبار مكة في قديم الدهر وحديثه ج 3 ص 64]