اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلْفُقَرَآءِ وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ الْعٰمِلِیْنَ عَلَیْهَا وَ الْمُؤَلَّفَةِ قُلُوْبُهُمْ وَ فِی الرِّقَابِ وَ الْغٰرِمِیْنَ وَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ ابْنِ السَّبِیْلِؕ-فَرِیْضَةً مِّنَ اللّٰهِؕ-وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ(۶۰)

زکوٰۃ تو انہیں لوگوں کے لیے ہے (۱۳۷) محتاج اور نرے نادار اور جو اسے تحصیل(وصول ) کرکے لائیں اور جن کے دلوں کو اسلام سے الفت دی جائے اور گردنیں چھوڑانے میں اور قرضداروں کو اور اللہ کی راہ میں اور مسافر کو یہ ٹھہرایا ہوا ہے اللہ کا اور اللہ علم و حکمت والا ہے

(ف137)

جب منافقین نے تقسیمِ صدقات میں سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر طعن کیا تو اللہ عزوجل نے اس آیت میں بیان فرما دیا کہ صدقات کے مستحق صرف یہی آٹھ قسم کے لوگ ہیں ۔ انہیں پر صدقات صَرف کئے جائیں گے ، ان کے سوا اور کوئی مستحق نہیں اور رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اموالِ صدقہ سے کوئی واسطہ ہی نہیں ، آپ پر اور آپ کی اولاد پر صدقات حرام ہیں تو طعن کرنے والوں کو اعتراض کا کیا موقع ۔ صدقہ سے اس آیت میں زکوٰۃ مراد ہے ۔

مسئلہ : زکوٰۃ کے مستحق آٹھ قسم کے لوگ قرار دیئے گئے ہیں ۔ ان میں سے مولَّفۃُ القلوب باِجماعِ صحابہ ساقط ہوگئے کیونکہ جب اللہ تبارَک و تعالٰی نے اسلام کو غلبہ دیا تو اب اس کی حاجت نہ رہی ۔ یہ اجماع زمانۂ صدیق میں منعقد ہوا ۔

مسئلہ : فقیر وہ ہے جس کے پاس ادنٰی چیز ہو اور جب تک اس کے پاس ایک وقت کے لئے کچھ ہو اس کو سوال حلال نہیں ۔

مسکین وہ ہے جس کے پاس کچھ نہ ہو وہ سوال کرسکتا ہے ۔

عاملین وہ لوگ ہیں جن کو امام نے صدقے تحصیل کرنے پر مقرر کیا ہو ، انہیں امام اتنا دے جو ان کے اور ان کے متعلقین کے لئے کافی ہو ۔

مسئلہ : اگر عامل غنی ہو تو بھی اس کو لینا جائز ہے ۔

مسئلہ : عامل سید یا ہاشمی ہو تو وہ زکوٰۃ میں سے نہ لے ۔ گردنیں چھوڑا نے سے مراد یہ ہے کہ جن غلاموں کو ان کے مالکوں نے مکاتَب کر دیا ہو اور ایک مقدار مال کی مقرر کر دی ہو کہ اس قدر وہ ادا کر دیں تو آزاد ہیں ، وہ بھی مستحق ہیں ، ان کو آزاد کرانے کے لئے مالِ زکوٰۃ دیا جائے ۔ قرضدار جو بغیرکسی گناہ کے مبتلائے قرض ہوئے ہوں اور اتنا مال نہ رکھتے ہوں جس سے قرض ادا کریں انہیں ادائے قرض میں مالِ زکوٰۃ سے مدد دی جائے ۔ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے بے سامان مجاہدین اور نادار حاجیوں پر صَرف کرنا مراد ہے ۔ ابنِ سبیل سے وہ مسافر مراد ہیں جس کے پاس مال نہ ہو ۔

مسئلہ : زکوٰۃ دینے والے کو یہ بھی جائز ہے کہ وہ ان تمام اقسام کے لوگوں کو زکوٰۃ دے اور یہ بھی جائز ہے کہ ان میں سے کسی ایک ہی قسم کو دے ۔

مسئلہ : زکوٰۃ انہیں لوگوں کے ساتھ خاص کی گئی تو ان کے علاوہ اور دوسرے مصرف میں خرچ نہ کی جائے گی ، نہ مسجد کی تعمیر میں ، نہ مردے کے کفن میں ، نہ اس کے قرض کی ا دا میں ۔

مسئلہ : زکوٰۃ بنی ہاشم اور غنی اور ان کے غلاموں کو نہ دی جائے اور نہ آدمی اپنی بی بی اور اولاد اور غلاموں کو دے ۔ (تفسیراحمدی و مدارک)

وَ مِنْهُمُ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ النَّبِیَّ وَ یَقُوْلُوْنَ هُوَ اُذُنٌؕ-قُلْ اُذُنُ خَیْرٍ لَّكُمْ یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ یُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِیْنَ وَ رَحْمَةٌ لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْؕ-وَ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ رَسُوْلَ اللّٰهِ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ(۶۱)

اور ان میں کوئی وہ ہیں کہ ان غیب کی خبریں دینے والے (نبی)کو ستاتے ہیں (ف۱۳۸) اور کہتے ہیں وہ تو کان ہیں تم فرماؤ تمہارے بھلے کے لیے کان ہیں اللہ پر ایمان لاتے ہیں اور مسلمانوں کی بات پر یقین کرتے ہیں (ف۱۳۹) اور جو تم میں مسلمان ہیں ان کے واسطے رحمت ہیں اور وہ جو رسول اللہ کو ایذا دیتے ہیں ان کے لیے دردناک عذاب ہے

(ف138)

یعنی سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ۔

شانِ نُزول : منافقین اپنے جلسوں میں سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان میں ناشائستہ باتیں بکا کرتے تھے ۔ ان میں سے بعضوں نے کہا کہ اگر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خبر ہوگئی تو ہمارے حق میں اچھا نہ ہوگا ۔ جلاس بن سوید منافق نے کہا ہم جو چاہیں کہیں حضور کے سامنے مُکَر جائیں گے اور قسم کھا لیں گے وہ تو کان ہیں ان سے جو کہہ دیا جائے سن کر مان لیتے ہیں ۔ اس پر اللہ تعالٰی نے یہ آیت نازِل فرمائی اور یہ فرمایا کہ اگر وہ سننے والے بھی ہیں تو خیر اور صلاح کے سننے اور ماننے والے ہیں شر اور فساد کے نہیں ۔

(ف139)

نہ منافقوں کی بات پر ۔

یَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ لَكُمْ لِیُرْضُوْكُمْۚ-وَ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗۤ اَحَقُّ اَنْ یُّرْضُوْهُ اِنْ كَانُوْا مُؤْمِنِیْنَ(۶۲)

تمہارے سامنے اللہ کی قسم کھاتے ہیں (ف۱۴۰) کہ تمہیں راضی کرلیں (ف۱۴۱) اور اللہ و رسول کا حق زائد تھا کہ اسے راضی کرتے اگر ایمان رکھتے تھے

(ف140)

منافقین اس لئے ۔

(ف141)

شانِ نُزول : منافقین اپنی مجلسوں میں سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر طعن کیا کرتے تھے اور مسلمانوں کے پاس آ کر اس سے مُکر جاتے تھے اور قسمیں کھا کھا کر اپنی بریّت ثابت کرتے تھے ۔ اس پر یہ آیت نازِل ہوئی اور فرمایا گیا کہ مسلمانوں کو راضی کرنے کے لئے قسمیں کھانے سے زیادہ اہم اللہ اور اس کے رسول کو راضی کرنا تھا اگر ایمان رکھتے تھے تو ایسی حرکتیں کیوں کیں جو خدا اور رسول کی ناراضی کا سبب ہوں ۔

اَلَمْ یَعْلَمُوْۤا اَنَّهٗ مَنْ یُّحَادِدِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَاَنَّ لَهٗ نَارَ جَهَنَّمَ خَالِدًا فِیْهَاؕ-ذٰلِكَ الْخِزْیُ الْعَظِیْمُ(۶۳)

کیا انہیں خبر نہیں کہ جو خلاف کرے اللہ اور اس کے رسول کا تو اس کے لیے جہنم کی آگ ہے کہ ہمیشہ اس میں رہے گا یہی بڑی رسوائی ہے

یَحْذَرُ الْمُنٰفِقُوْنَ اَنْ تُنَزَّلَ عَلَیْهِمْ سُوْرَةٌ تُنَبِّئُهُمْ بِمَا فِیْ قُلُوْبِهِمْؕ-قُلِ اسْتَهْزِءُوْاۚ-اِنَّ اللّٰهَ مُخْرِ جٌ مَّا تَحْذَرُوْنَ(۶۴)

منافق ڈرتے ہیں کہ ان (ف۱۴۲) پر کوئی سورۃ ایسی اترے جو ان (ف۱۴۳) کے دلوں کی چھپی (ف۱۴۴) جتادے تم فرماؤ ہنسے جاؤ اللہ کو ضرور ظاہر کرنا ہے جس کا تمہیں ڈر ہے

(ف142)

مسلمانوں ۔

(ف143)

منافقوں ۔

(ف144)

دلوں کی چھپی چیز ان کا نفاق ہے اور وہ بُغض و عداوت جو وہ مسلمانوں کے ساتھ رکھتے تھے اور اس کو چھپایا کرتے تھے ۔ سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے معجزات دیکھنے اور آپ کی غیبی خبریں سننے اور ان کو واقع کے مطابق پانے کے بعد منافقوں کو اندیشہ ہو گیا کہ کہیں اللہ تعالٰی کوئی ایسی سور ت نازِل نہ فرمائے جس سے ان کے اسرار ظاہر کر دیئے جائیں اور ان کی رسوائی ہو ۔ اس آیت میں اسی کا بیان ہے ۔

وَ لَىٕنْ سَاَلْتَهُمْ لَیَقُوْلُنَّ اِنَّمَا كُنَّا نَخُوْضُ وَ نَلْعَبُؕ-قُلْ اَبِاللّٰهِ وَ اٰیٰتِهٖ وَ رَسُوْلِهٖ كُنْتُمْ تَسْتَهْزِءُوْنَ(۶۵)

اور اے محبوب اگر تم ان سے پوچھو تو کہیں گے کہ ہم تو یونہی ہنسی کھیل میں تھے (ف۱۴۵) تم فرماؤ کیا اللہ اور اس کی آیتوں اور اس کے رسول سے ہنستے ہو

(ف145)

شانِ نُزول : غزوۂ تبوک میں جاتے ہوئے منافقین کے تین نفروں میں سے دو رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نسبت تمسخُراً کہتے تھے کہ ان کا خیال ہے کہ یہ روم پر غالب آجائیں گے ، کتنا بعید خیال ہے اور ایک نفر بولتا تو نہ تھا مگر ان باتوں کو سن کر ہنستا تھا ۔ حضور نے ان کو طلب فرما کر ارشاد فرمایا کہ تم ایسا ایسا کہہ رہے تھے انہوں نے کہا ہم راستہ کاٹنے کے لئے ہنسی کھیل کے طور پر دل لگی کی باتیں کر رہے تھے ۔ اس پر یہ آیتِ کریمہ نازِل ہوئی اور ان کا یہ عذر و حیلہ قبول نہ کیا گیا اور ان کے لئے یہ فرمایا گیا جو آگے ارشاد ہوتا ہے ۔

لَا تَعْتَذِرُوْا قَدْ كَفَرْتُمْ بَعْدَ اِیْمَانِكُمْؕ-اِنْ نَّعْفُ عَنْ طَآىٕفَةٍ مِّنْكُمْ نُعَذِّبْ طَآىٕفَةًۢ بِاَنَّهُمْ كَانُوْا مُجْرِمِیْنَ۠(۶۶)

بہانے نہ بناؤ تم کافر ہوچکے مسلمان ہوکر (ف۱۴۶) اگر ہم تم میں سے کسی کو معاف کریں (ف۱۴۷)تو اوروں کو عذاب دیں گے اس لیے کہ وہ مجرم تھے (ف۱۴۸)

(ف146)

مسئلہ : اس آیت سے ثابت ہوا کہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان میں گستاخی کُفر ہے جس طرح بھی ہو اس میں عذر قبول نہیں ۔

(ف147)

اس کے تائب ہونے اور بہ اخلاص ایمان لانے سے ۔ محمد بن اسحٰق کا قول ہے کہ اس سے وہی شخص مراد ہے جو ہنستا تھا مگر اس نے اپنی زبان سے کوئی کلمۂ گستاخی نہ کہا تھا ۔ جب یہ آیت نازِل ہوئی تو وہ تائب ہوا اور اخلاص کے ساتھ ایمان لایا اور اس نے دعا کی کہ یاربّ مجھے اپنی راہ میں مقتول کر کے ایسی موت دے کہ کوئی یہ کہنے والا نہ ہو کہ میں نے غسل دیا ، میں نے کفن دیا ، میں نے دفن کیا چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ وہ جنگِ یمامہ میں شہید ہوئے اور ان کا پتہ ہی نہ چلا ان کا نام یحیٰی بن حمیر اشجعی تھا اور چونکہ انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بدگوئی سے زبان روکی تھی اس لئے انہیں توبہ و ایمان کی توفیق ملی ۔

(ف148)

اور اپنے جرم پر قائم رہے اور تائب نہ ہوئے ۔