أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِنَّمَا مَثَلُ الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا كَمَآءٍ اَنۡزَلۡنٰهُ مِنَ السَّمَآءِ فَاخۡتَلَطَ بِهٖ نَبَاتُ الۡاَرۡضِ مِمَّا يَاۡكُلُ النَّاسُ وَالۡاَنۡعَامُؕ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَخَذَتِ الۡاَرۡضُ زُخۡرُفَهَا وَازَّيَّنَتۡ وَظَنَّ اَهۡلُهَاۤ اَنَّهُمۡ قٰدِرُوۡنَ عَلَيۡهَاۤ ۙ اَتٰٮهَاۤ اَمۡرُنَا لَيۡلًا اَوۡ نَهَارًا فَجَعَلۡنٰهَا حَصِيۡدًا كَاَنۡ لَّمۡ تَغۡنَ بِالۡاَمۡسِ‌ ؕ كَذٰلِكَ نُـفَصِّلُ الۡاٰيٰتِ لِقَوۡمٍ يَّتَفَكَّرُوۡنَ ۞

ترجمہ:

دنیا کی زندگی کی مثال محض اس پانی کی طرح ہے جس کو ہم نے آسمان سے نازل کیا تو اس کی وجہ سے زمین کی وہ پیداوار خوب گھنی ہوگئی جس کو انسان اور جانور سب کھاتے ہیں حتی کہ عین اس وقت جب کھیتیاں اپنی تروتازگی اور شادابی کے ساتھ لہلہانے لگیں اور ان کے مالکوں نے گمان کرلیا کہ وہ ان پر قادر ہیں تو اچانک رات یا دن کو ان پر ہمارا عذاب آگیا پس ہم نے ان کھیتوں کو کٹا ہوا (ڈھیر) بنادیا جیسے کل یہاں کچھ تھا ہی نہیں۔ غور وفکر کرنے والوں کے لیے ہم اسی طرح آیتوں کو وضاحت سے بیان کرتے ہیں

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : دنیا کی زندگی کی مثال محض اس پانی کی طرح ہے جس کو ہم نے آسمان سے نازل کیا تو اس کی وجہ سے زمین کی وہ پیداوار خوب گھنی ہوگئی جس کو انسان اور جانور سب کھاتے ہیں۔ حتی کہ عین اس وقت جب کھیتیاں اپنی تروتازگی اور شادابی کے ساتھ لہلہانے لگیں اور ان کے مالکوں نے یہ گمان کرلیا کہ وہ ان پر قادر ہیں تو اچانک رات یا دن کو ان پر ہمارا عذاب آگیا پس ہم نے ان کھیتوں کو کٹا ہو (ڈھیر) بنادیا جیسے کل یہاں کچھ تھا ہہی نہیں، غور و فکر کرنے والوں کے لیے ہم اسی طرح آیتوں کو وضاحت سے بیان کرتے ہیں اور اللہ سلامتی کے گھر کی طرف بلاتا ہے اور جس کو چاہتا ہے سیدھے راستہ کی طرف ہدایت دیتا ہے یونس : ٢٥۔ ٢٤ )

زمین کی پیداوار کی دنیا کے ساتھ مثال :

اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے لوگو ! تمہاری بغاوت صرف تمہارے لیے ہی مضر ہے، اب اللہ تعالیٰ نے اس شخص کے متعلق ایک عجیب مثال بیان فرمائی ہے جو دنیا کی لذتوں اور مرغوبات میں منہمک ہو کر آخرت سے اعراض کرلیتا ہے۔ آسمان سے جو پانی نازل ہوتا ہے اس کی وجہ سے زمین کی پیداوار خوب گھنی ہوجاتی ہے اور بارش کی وجہ سے رنگ برنگ کے پھول، خوشنما بیلیں، خوشذائقہ پھل اور طرح طرح کے غلوں کی اجناس پیدا ہوتی ہیں، حتی کہ باغوں اور کھیتوں کا مالک جب ان ہری بھری لہلہاتی ہوئی فصلوں اور پھلوں سے لدے ہوئے درختوں کو دیکھتا ہے تو خوشی سے پھولا نہیں سماتا، پھر وہ خوش نما منصوبہ بناتا ہے کہ ان باغوں اور کھیتوں سے اتنے منافع اور فوائد حاصل کرے گا، پھر اچانک ٹڈی دل کے بادل امڈ آتے ہیں اور تمام کھیتوں اور باغوں کو چاٹ کر چلے جاتے ہیں، یا آسمان سے زبردست ژالہ باری ہوتی ہے، اور سب کچھ اجڑ جاتا ہے یا دریائوں میں سیلاب آتا ہے اور تمام فصلوں کو بہا کرلے جاتا ہے، اور وہ غم اور افسوس میں ہاتھ ملتا ہوا رہ جاتا ہے، اسی طرح جو آدمی آخرت سے اعراض کر کے دنیا کمانے کی دھن میں لگا رہتا ہے، جب وہ آخرت میں اجرو ثواب سے محروم اور عذاب میں گرفتار ہوگا تو اس کا بھی یہی حال ہوگا۔ 

جنت کے داعی کے متعلق احادیث :

اس کے بعداللہ سلامتی کے گھر کی طرف بلاتا ہے۔ سلامتی کے گھر سے مراد ہے جنت، جس میں ہر قسم کے رنج بلا اور نقصان سے سلامتی ہے۔ جنت کی طرف لوگوں کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بلایا تھا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ تعالیٰ کے نائب مطلق ہیں اور آپ کا بلانا اللہ کا بلانا ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اور اللہ سلامتی کے گھر کی طرف بلاتا ہے۔ حضرت ابو قلابہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا گیا : آپ کی آنکھوں کو سونا چاہیے اور آپ کے قلب کو بیدار رہنا چاہیے اور آپ کے کانوں کو سنتے رہنا چاہیے، سو میری آنکھیں سو گئیں اور دل ہوشیار رہا، اور کان سنتے رہے، پھر کہا گیا کہ ایک سردار نے گھر بنایا دستر خوان سجایا، پھر ایک بلانے والے کو بھیجا، پس جس نے اس بلانے والے کو لبیک کہا اور گھر میں داخل ہوگیا اور دستر خوان سے کھایا اس سے سردار راضی ہوگیا اور جس شخص نے اس داعی کو لبیک نہیں کہا، گھر میں داخل نہیں ہوا اور دستر خوان سے نہیں کھایا اس سے سردار راضی نہی ہوا، پس اللہ سردار ہے اور گھر اسلام ہے اور دستر خوان جنت ہے اور داعی (بلانے والے) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں۔ (المعجم الکبیر رقم الحدیث : ٤٥٩٧، جامع البیان رقم الحدیث : ١٣٦٥١)

حضرت ابو الدرداء (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہر روز جب سورج طلوع ہوتا ہے تو اس کی دونوں جانب دو فرشتے ندا کر رہے ہوتے ہیں۔ : اے لوگو ! اپنے رب کی طرف آئو ! بیشک جو چیز تھوڑی اور کافی ہو وہ اس سے بہتر ہے جو زیادہ ہو اور غافل کرنے والی ہو اور اس ندا کو جن اور انسانوں کے سوا تمام مخلوق سنتی ہے، اور اس کی تائید میں اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں یہ آیت نازل فرمائی : اور اللہ سلامتی کے گھر کی طرف بلانتا ہے اور جس کو چاہتا ہے سیدھے راستے کی طرف ہدایت دیتا ہے۔ (مسند احمد رقم الحدیث : ٢١٧٨، جامع البیان رقم الحدیث : ١٣٦٥٣، صحیح ابن حبان رقم الحدیث ٦٨٥، المستدرک ج ٢ ص ٤٤٥، شعب الایمان رقم الحدیث : ٣١٣٩)

حضرت جابر بن عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک دن ہمارے پاس رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے اور فرمایا : میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ جبرئیل میرے سر کی جانب ہیں اور میکائیل میرے پیروں کی جانب ہیں، ان میں سے ایک نے اپنے ساتھی سے کہا : ان کی کوئی مثال بیان کرو، پس اس نے (مجھ سے) کہا تمہارے کان سنتے رہیں اور تمہارا دل سمجھتا رہے، تمہاری اور تمہاری امت کی مثال اس طرح ہے جیسے ایک بادشاہ نے ایک حویلی بنائی ہو، اور اس حویلی میں ایک گھر بنایا ہو، پھر اس میں ایک دستر خوان سجایا ہو، پھر ایک داعی بھیجا ہو جو لوگوں کو اس دستر خوان کی طرف دعوت دے، پس بعض لوگوں نے اس داعی کی دعوت قبول کی، اور بعض نے اس کی دعوت کو ترک کردیا، پس اللہ وہ بادشاہ ہے، اور وہ حویلی اسلام ہے، اور وہ گھر جنت ہے اور آپ اے محمد ! وہ داعی ہیں، جس شخص نے آپ کی دعوت قبول کی وہ اسلام میں داخل ہوگیا اور جو اسلام میں داخل ہوگیا وہ جنت میں داخل ہوگیا اور جو جنت میں داخل ہوگیا، اس نے اس جنت کی نعمتوں سے کھایا۔ (المستدرک ج ٢ ص ٣٣٨، جامع البیان رقم الحدیث : ١٣٦٥٤، دلائل النبوۃ للبیہقی ج ١ ص ٣٧٠)

جنت کو دارالسلام کہنے کی وجوہات

جنت کو دارالسلام کہنے کی ایک وجہ یہ ہے کہ جنت کے سات نام ہیں اور ان میں سے ایک نام دارالسلام ہے، وہ سات نام یہ ہیں : (١) دارالسلام (٢) دارالجلال (٣) جنت عدن (٤) جنت الماوی (٥) جنت الخلد (٦) جنت الفردوس (٧) جنت النعیم۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ اہل جنت ہر ناپسندیدہ چیز سے سلامت اور محفوظ ہوں گے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 10 يونس آیت نمبر 24