حدیث نمبر 102

روایت ہےحضرت ابوسعید خدری سے فرماتےہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم جب رکوع سے سر اٹھاتے ۱؎ تو کہتے اے اﷲ اے ہمارے رب تیرے ہی لیے حمدہے آسمان بھرکر زمین بھرکر اور اس کے لیے جو چیز تو چاہے وہ بھرکر،تعریف و بزرگی والا ہےجو کچھ بندہ کہے اس کا توحق دارہے ہم سب تیرے بندے ہیں الٰہی جو تو دے اسےکوئی روک نہیں سکتا اورجوتو روکے اسےکوئی دے نہیں سکتا تیرے مقابل غنی کو غنا نفع نہیں پہنچاتی ۲؎(مسلم)

شرح

۱؎ ابھی عرض کیا جاچکاہے کہ ان جیسی احادیث میں رکوع سے مراد نوافل کے رکوع ہیں کہ ان میں دعائیں اور ذکر اذکار کی عام اجازت ہے،فرائض کے رکوع کا ذکر تو ابھی بخاری ومسلم کی حدیث میں گزر چکا۔خیال رہے کہ یہاں راوی نے”سمع اﷲ لمن حمدہ”کا ذکرنہیں کیا مگر آپ کہتے یہ بھی تھے۔

۲؎ جدّ کے معنی ہیں عظمت،نصیبہ،غنا،نسب وغیرہ،یعنی کوئی شخص اپنے نسب یاغنا کی وجہ سےتیری پکڑ سےنہیں بچ سکتا۔ خیال رہے کہ مخلوق جو کچھ نفع،نقصان پہنچاتی ہے وہ اﷲ کے حکم اور ارادے سے ہے۔یہ ناممکن ہے کہ کوئی خدا کا مقابلہ کرکےکسی کو نفع نقصان پہنچائے۔اسی کا یہاں ذکرہے لہذا یہ الفاظ انبیاءو اولیاء کے باذن الٰہی نفع پہنچانے کے خلاف نہیں۔