سر مونڈنے کا حکم

حضرت عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ عنہ کے والد عبد العزیز مصر کے گورنر تھے انہوں نے اپنے لڑکے کو اعلیٰ تعلیم دلانے کے لئے مدینہ میں حضرت صالح بن کیسان رضی اللہ عنہ کی نگرانی میں دے دیا چنانچہ ایک مرتبہ حضرت عمر بن عبد العزیز نے نماز میں تاخیر کر دی تو ان کے استاذ نے ان سے بازپرس کرتے ہوئے پوچھا تم نے آج نمازمیں تاخیر کیوں کی؟ تو حضرت عمر بن عبد العزیز نے جواب دیا بال سنوار رہا تھا اس لئے ذرا دیر ہو گئی تو ان کے استاذ نے فرمایااچھا اب بالوں کی آرائش میں اتنا شغف ہو گیا ہے کہ اس کو نماز پر تر جیح دی جاتی ہے اس کے بعد استاذ نے ان کے والد کو یہ واقعہ لکھ کر بھیجا عبدالعزیز کو جب یہ بات معلوم ہوئی تو اسی وقت ایک آدمی کو مصر سے مدینہ روانہ کر دیا جس نے آکر سب سے پہلے ان کے سر کے بال مونڈ ے اس کے بعد بات چیت کی کیونکہ ان کے والد کا یہی حکم تھا۔ (یاد ماضی )

میرے پیارے آقاکے پیارے دیوانو!  کیا جذبہ تھا اللہ والوں کاکہ نماز میں تاخیر تک کو گوارا نہیں کرتے تھے اور جو چیز نماز میں تاخیر کا سبب بنی اسے ہی تن سے جدا کر دیا۔ اس سے اولیاء کرام کا شوق نماز اوراولاد کے سلسلہ میں تربیت کا جذبہ سمجھ میں آتا ہے، ہم ذرا اپنے بارے میں غور کریں کہ کیا ہم میں یہ جذبہ موجود ہے؟ ہمارا حال تو یہ ہے کہ آرام کی وجہ سے ہو یا فضول گوئی کی وجہ سے یا بننے سنورنے کی وجہ سے نماز کا وقت نکل جائے تو بھی پرواہ نہیں کرتے اِلَّا مَاشَائَ اللّٰہُ مذکو رہ واقعہ سے سبق حاصل کرتے ہوئے ہمیں خود کو اسلاف کے طریقے پر چلانے کی کوشش کرنی چاہئیے۔ اور نماز کے معاملہ میں اپنی اولاد کے لئے بھی فکرمند ہونا چاہئے اور ان کی نگرانی کرنی چاہئے۔

اللہد ہم سب کو نماز کے معاملہ میں غفلت سے بچائے اور وقت پر ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْکَرِیْمِ عَلَیْہِ اَفْضَلُ الصَّلٰوۃِ وَ التَّسْلِیْمِ۔