أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَمَنۡ اَظۡلَمُ مِمَّنِ افۡتَـرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَوۡ كَذَّبَ بِاٰيٰتِهٖ ؕ اِنَّهٗ لَا يُفۡلِحُ الۡمُجۡرِمُوۡنَ‏ ۞

ترجمہ:

پس اس سے زیادہ اور کون ظالم ہوگا جو جھوٹ بول کر اللہ پر بہتان تراشے یا اس کی آیتوں کو جھٹلائے، بیشک مجرم فلاح نہیں پاتے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : پس اس سے زیادہ اور کون ظالم ہوگا جو جھوٹ بول کر اللہ پر بہتان تراشے یا اس کی آیتوں کو جھٹلائے، بیشک مجرم فلاح نہیں پاتے (یونس : ١٧)

قرآن مجید کا وحی الہی ہونا :

مشرکین کا یہ دعوی تھا کہ یہ قرآن نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا خود ساختہ کلام ہے اور آپ نے اس کو اللہ کی طرف منسوب کر کے اللہ پر افتراء باندھا ہے، اللہ تعالیٰ ان کا رد کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ جو شخص اللہ پر افتراء باندھے اس سے برھ کر ظالم کون ہوگا، یعنی اگر بفرض محال نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے کلام کو اللہ کی طرف منسوب کیا ہوتا تو آپ (العیاذ باللہ) سب سے بڑے ظالم ہوتے، اور جبکہ دلائل سے ثابت ہوچکا کہ ایسا نہیں ہے بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہے اور اس کی وحی ہے تو جو مشرکین اس قرآن کو اللہ کا کلام نہیں مانتے وہ اللہ کی آیات کی تکذیب کرتے ہیں۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 10 يونس آیت نمبر 17