حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنھا سے روایت ہے اللہ کے پیارے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا لو ان رجلا امر امراٗۃ ان تنقل من جبل احمر الیٰ جبل اسود ومن جبل اسود الیٰ جبل احمر لکان نولھا ان تفعل اگر مرد عورت کو حکم دیتا کہ لال پہاڑ سے کالے پہاڑ پر (چٹان) منتقل کر اور کالے پہاڑ سے لال پہاڑ پر تو اسکا حق یہ ہے کہ وہ کرتی (ابن ماجہ ص ۱۳۴)

لایعنی مگر انجام اچھا

انسان عقل و ہوش سنبھالتے ہوئے اس طرح کا لایعنی حکم نہیں دی سکتا مگر بالفرض کوئی ضدی طبیعت کاآدمی ہو اور ایسا کہہ دے جیسے حدیث میں فرمایا گیاتو عورت کواس لایعنی سے بھی گریز نہین کرنا چاہیئے ،ہو سکتا ہے وہ محبت کا امتحان لے رہا ہو اور منع کرنے پر بیوی کو دعوئے محبت میں جھوٹا سمجھ لے،اور یہ بدظنی بھی رونما ہو سکتی کہ اسکے نزیک شوہر کا حکم کچھ نہیں مفاد سب کچھ ہے اس لئے تو اس سے بے مطلب کے کرنے کو کہا گیا تو منع کردیا،ہمارے آقا ﷺ کے اس فرمان کا حاصل یہ ہے کہ ہزاروں باتوں میں منع نہ کیا تو ایک لایعنی میں منع کر کے اپنی زبان کیوں خراب کریں،عقل و فہم کا تقاضہ یہ ہے کہ اسے بھی کر ہی لیا جائے،تاکہ شوہر کو یقین آ جائے کہ ایسی وفادار بیوی تلاشے نہیں مل سکتی کہ وہ لایعنی کو بھی شوہر کے حکم سے لایعنی نہیں سمجھتی ہے،اسکا اطاعت ہے وہ ہر ممکن اسے پورا کرکے رہتی ہے

فرمان کا حاصل یہ ہوا کہ اگر شوہر محبت کا امتحان لینا چاہتا ہے تو اس میں بھی بیوی کو کامیابی مل جائے،اور اگر شوہر ضدی ہے اور بلا وجہ ایسا کرتا ہے تو اسے لڑائی کا موقع نہ مل سکے،اور ظالم ہے تو چند ایسا کرنے پر وہ دل و جان سے اس پر نثار ہو جائے،اور پہلے سے محبت کرنے والا تھا تو محبت میں اور اضافہ ہو جائے

عورت میں ضد زہر ہے

ایک حکمت یہ بھی بیان کی جاسکتی ہے کہ ہمارے پیارے آقا ﷺ کی طرف سے عورتوں کو ضد نہ کرنے کی نصیحت کی جارہی ہے،ضد عورتوں کے لئے بہت بری بلاء ہے،ایک بات میں منع کرے گی تو دوسرے احکام میں منع کی جرأت ہوگی،اس لئے آپنے اپنے فرمان سے لایعنی میں بھی منع کا دروازہ بند کردیا ، تو پھر اور کسی حکم میں منع کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہو سکتا،حاصل یہ کہ مطلب کی بھی کرو بے مطلب کی بھی کرو،شوہر جو کہے سب کرو،ہاں اسلام نے جن باتوں کو حرام فرمایا وہ کسی کے بھی کہنے سے نہیں کئے جا سکتے لا طاعۃ لاحد فی معصیۃ الخالق خالق اللہ تبارک وتعالیٰ کی نافرمانی میں کسی کی بھی اعاعت نہیں کی جاسکتی