أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَمَا كَانَ النَّاسُ اِلَّاۤ اُمَّةً وَّاحِدَةً فَاخۡتَلَفُوۡا‌ ؕ وَلَوۡلَا كَلِمَةٌ سَبَقَتۡ مِنۡ رَّبِّكَ لَـقُضِىَ بَيۡنَهُمۡ فِيۡمَا فِيۡهِ يَخۡتَلِفُوۡنَ ۞

ترجمہ:

اور پہلے تمام لوگ صرف ایک امت تھے۔ پھر مختلف ہوگئے، اور اگر آپ کے رب کی طرف سے ایک امر پہلے ہی مقدر نہ ہوچکا ہوتا تو جن چیزوں میں یہ اختلاف کر رہے ہیں ان کا فیصلہ ہوچکا ہوتا

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور پہلے تمام لوگ صرف ایک امت تھے، پھر مختلف ہوگئے اور اگر آپ کے رب کی طرف سے ایک امر پہلے ہی مقدر نہ بن چکا ہوتا تو جن چیزوں میں یہ اختلاف کر رہے ہیں ان کا فیصلہ ہوچکا ہوتا (یونس : ١٩)

ابتداء میں تمام لوگوں کے مسلمان ہونے پر احادیث اور آثار :

تمام لوگ پہلے صرف ایک امت تھے، صحیح یہ ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ تمام لوگ پہلے صرف مسلمان تھے،

امام عبدالرحمن ابن ابی حاتم متوفی ٣٢٧ ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں : قتاوہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت آدم اور حضرت نوح (علیہما السلام) کے درمیان دس صدیاں ہیں۔ یہ سب ہدایت پر تھے اور برحق شریعت پر تھے۔ پھر حضرت نوح (علیہ السلام) کی بعثت کے بعد ان کے درمیان اختلاف ہوا اور وہ پہلے رسول تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے زمین والوں کی طرف بھیجا ان کو اس وقت بھیجا گیا جب ان میں اختلاف پیدا ہوگیا اور انہوں نے حق کو ترک کردیا تب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں کو بھیجا اور اپنی کتاب نازل کی جس سے حق پر استدلال کیا گیا۔ (تفسیر امام ابن ابی حاتم ج ٢ ص ٣٧٢، رقم الحدیث : ١٩٨٩، مطبوعہ مکہ مکرمہ، ١٤١٧ ھ)

حافظ جلال الدین سیوطی متوفی ٩١١ ھ بیان فرماتے ہیں : امام طبرانی نے سند حسن کے ساتھ حضرت انس (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : زمین کبھی ایسے چالیس آدمیوں سے خالی نہیں رہی جو خلیل الرحمن کی مثل ہیں، ان ہی کی وجہ سے بارش ہوتی ہے اور ان ہی کی وجہ سے تمہاری مدد کی جاتی ہے۔ ان میں جو شخص مرتا ہے اللہ اس کے بدلہ میں دوسرا پیدا فرما دیتا ہے۔ (العجم الاوسط رقم الحدیث :

امام احمد نے کتاب الزھد میں سند صحیح کے ساتھ حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کے بعد زمین کبھی ایسے سات آدمیوں سے خالی نہیں رہی جن کی وجہ سے اللہ عذاب دور فرماتا ہے۔

امام ابن حبان نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت کیا ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : زمین کبھی ایسے تیس آدمیوں سے خالی نہیں رہی جو ابراہیم خلیل اللہ کی مثل تھے، ان ہی کی وجہ سے تمہاری مدد کی جاتی ہے، ان ہی کی وجہ سے تم کو رزق دیا جاتا ہے اور ان ہی کی وجہ سے تم پر بارش ہوتی ہے۔ امام عبدالرزاق نے اپنی مصنف میں حضرت علی بن ابی طالب (رض) سے روایت کیا ہے کہ ہمیشہ روئے زمین پر سات یا اس سے زیادہ مسلمانوں رہے ہیں، اگر وہ نہ ہوتے تو زمین اور زمین والے ہلاک ہوجاتے۔

امام احمد نے کتاب الزھد میں حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کے بعد زمین ایسے سات آدمیوں سے خالی نہیں رہی جن کی وجہ سے اللہ زمین والوں سے عذاب دور فرماتا ہے۔ (الدرالمنثور ج ١ ص ٧٩٦۔ ٧٩٥، مطبوعہ دارالفکر بیروت، ١٤١٤ ھ) پھر فرمایا : اگر آپ کے رب کی طرف سے ایک بات پہلے ہی مقدر نہ ہوچکی ہوتی تو جن چیزوں میں یہ اختلاف کر رہے ہیں ان کا فیصلہ ہوچکا ہوتا، اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ یہ فرما چکا ہے کہ عذاب اور ثواب کا فیصلہ قیامت کے دن ہوگا۔ اس آیت کی مزید تفصیل کے لیےالبقرہ : ٢١٣ کی تفسیر ملاحظہ فرمائی۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 10 يونس آیت نمبر 19