أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَيَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ مَا لَا يَضُرُّهُمۡ وَلَا يَنۡفَعُهُمۡ وَيَقُوۡلُوۡنَ هٰٓؤُلَاۤءِ شُفَعَآؤُنَا عِنۡدَ اللّٰهِ‌ؕ قُلۡ اَتُـنَـبِّــئُوۡنَ اللّٰهَ بِمَا لَا يَعۡلَمُ فِى السَّمٰوٰتِ وَلَا فِى الۡاَرۡضِ‌ؕ سُبۡحٰنَهٗ وَتَعٰلٰى عَمَّا يُشۡرِكُوۡنَ ۞

ترجمہ:

اور وہ اللہ کو چھوڑ کر ان چیزوں کی عبادت کرتے ہیں جو ان کو نہ نقصان پہنچا سکتے ہیں نہ نفع پہنچا سکتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ وہ اللہ کے پاس ہماری سفارش کرنے والے ہیں، آپ کہئے کہ کیا تم اللہ کو ایسی بات کی خبر دیتے ہو جس کا اللہ کو نہ آسمانوں میں علم ہے نہ زمینوں میں، وہ ان تمام چیزوں سے بری اور بلند جن کو تم اس کے ساتھ شریک کرتے ہو

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور وہ اللہ کو چھوڑ کر ان کی عبادت کرتے ہیں جو ان کو نہ نقصان پہنچا سکتے ہیں نہ نفع پہنچا سکتے ہیں، اور یہ کہتے ہیں کہ وہ اللہ کے پاس ہماری سفارش کرنے والے ہیں، آپ کہئے کہ کیا تم اللہ کو ایسی بات کی خبر دیتے ہو جس کا اللہ کو نہ آسمانوں میں علم ہے نہ زمینوں میں، وہ ان تمام سے بری اور بلند ہے جن کو تم اس کے ساتھ شریک کرتے ہو (یونس : ١٨)

غیر اللہ کی عبادت کے باطل ہونے پر دلائل :

مشرکین یہ کہتے تھے کہ اس قرآن کو اس لیے بدل دیں کہ اس میں ان کے باطل معبودوں کی مذمت کی گئی ہے اور وہ اپنے بتوں کی مدح اور تعظیم و تکریم چاہتے تھے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں بتوں کی عبادت کی مذمت کی اور ان کی عبادت کے باطل ہونے کو واضح فرمایا ہے۔ مشرکین بتوں کی عبادت بھی کرتے تھے اور ان کو اللہ کی بارگاہ میں شفیع بھی مانتے تھے، پہلے اللہ تعالیٰ نے ان کی عبادت کرنے کا رد فرمایا اور اس کی تقریر یہ ہے کہ ان کے تراشیدہ بت جن کی وہ عبادت کرتے ہیں، عبادت کرنے کی بناء پر وہ ان کو کوئی نفع نہیں پہنچا سکتے اور عبادت نہ کرنے کی وجہ سے وہ ان کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے اور دوسری دلیل یہ ہے کہ معبود کو عابد سے اعلیٰ اور افضل ہونا چاہیے اور کفار جن بتوں کی عبادت کرتے ہیں وہ خود ان کی بہ نسبت زیادہ طاقت اور قدرت رکھتے ہیں، اولاً اس لیے کہ ان بتوں کو بنانے والے وہ خود ہیں، وہ چاہیں تو ان بتوں کو بنائیں اور چاہیں تو ان بتوں کو توڑ ڈالیں تو یہاں معبود کے نفع اور نقصان پر عابد کو قدرت ہے اور چاہیے یہ تھا کہ عابد کے نفع اور نقصان پر معبود کو قدرت ہوتی، اور تیسری دلیل یہ ہے کہ عبادت تعظیم کی سب سے بڑی نوع ہے، اس لیے عبادت اسی کی کرنی چاہیے جس کا سب سے بڑا انعام ہو، اور جس ذات نے انسان کو حیات، علم اور قدرت کی نعمتیں عطا فرمائیں اور زندگی بسر کرنے کے لیے دنیا میں ذرائع اور وسائل پیدا کیے اس سے بڑھ کر انعام دینے والا اور کون ہے تو اس کے علاوہ عبادت کا اور کون مستحق ہوسکتا ہے !

بتوں کو اللہ کے ہاں سفارشی قرار دینے میں مشرکین کے نظریات :

امام فخر الدین محمد بن عمر رازی متوفی ٦٠٦ ھ لکھتے ہیں : بعض لوگوں نے یہ کہا ہے کہ کفار کا یہ عقیدہ تھا کہ صرف اللہ عزو جل کی عبادت کرنے کی بہ نسبت، اللہ تعالیٰ کی تعظیم اس میں زیادہ ہے کہ بتوں کی عبادت کی جائے۔ وہ کہتے تھے کہ ہم میں یہ اہلیت نہیں ہے یا ہم اس قابل نہیں ہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مشغول ہوں، بلکہ ہم بتوں کی عبادت میں مشغول ہوں گے اور وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک ہماری شفاعت کریں گے، پھر ان کا اس میں اختلاف ہے کہ وہ بت کس کیفیت سے اللہ تعالیٰ کے پاس ان کی شفاعت کریں گے، اور اس میں ان کے حسب ذیل اقوال ہیں :

(١) ان کا عقیدہ تھا کہ عالم افلاک میں ہر عالم کے لیے ایک معین روح ہے پھر انہوں نے ہر روح کے مقابلہ میں ایک بت معین کرلیا۔ ان کا عیقدہ تھا کہ وہ روح سب سے بڑے خدا کی عبدا ہے، پھر انہوں نے اس بت کی پرستش شروع کردی۔

(٢) وہ ستارہ پرست تھے اور انہوں نے ستاروں کے مقابلہ میں بت تراش لیے اور ان کی پرستش شروع کردی۔

(٣) انہوں نے نبیوں اور بزرگوں کی صورتوں کے مطابق بت تراش لیے اور ان کا یہ عقیدہ تھا کہ جب وہ ان بتوں کی عبادت کریں گے تو وہ بت اللہ تعالیٰ کے پاس ان کی شفاعت کریں گے۔ اس زمانہ میں اس کی نظیر یہ ہے کہ اس زمانہ میں بہت لوگ بزرگوں کی قبروں کی تعظیم کرتے ہیں اور ان کا یہ عقیدہ ہوتا ہے کہ جب وہ ان کی قبروں کی تعظیم کریں گے تو وہ بزرگ اللہ تعالیٰ کے پاس ان کی شفاعت کریں گے (غالباً امام رازی کی مراد اس سے وہ لوگ ہیں جو قبروں کی تعظیم میں غلو کرتے ہیں۔ مثلاً قبروں کا طواف کرتے ہیں، حد رکوع تک قبروں کے آگے جھکتے ہیں، قبروں کو سجدہ کرتے ہیں اور صاحب قبر کی نذر مانتے ہیں لیکن جو مسلمان بزرگوں کی قبروں پر جا کر قرآن شریف پڑھتے ہیں اور ایصال ثواب کرتے ہیں اور ان کے وسیلہ سے اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں وہ اس میں داخل نہیں ہیں کیونکہ یہ تمام امور دلائل شرعیہ سے ثابت ہیں۔ )

(٤) ان کا یہ عقیدہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نور عطیم ہے اور فرشتے انوار ہیں تو انہوں نے اللہ کے مقابلہ میں صنم اکبر بنایا اور فرشتوں کے مقابلہ میں اور بت تراش لیے۔ (تفسیر کبیر ج ٦ ص ٢٢٧، مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت، ١٤١٥ ھ)

جس چیز کے وجود کا اللہ تعالیٰ کو علم نہ ہو اس کا وجود محال ہے :

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا : آپ کہئے کہ کیا تم اللہ کو ایسی بات کی خبر دیتے ہو جس کا اللہ کو نہ آسمانوں میں علم ہے نہ زمینوں میں۔ اللہ تعالیٰ کی علم کی نفی سے مراد یہ ہے کہ اس چیز کا فی نفسہ وجود نہیں ہے، کیونکہ وہ چیز اگر کسی زمانہ میں بھی موجود ہوتی تو اللہ تعالیٰ کو اس کا علم ہوتا، اور جب اللہ تعالیٰ کو اس چیز کے موجود ہونے کا علم نہیں ہے تو واجب ہے کہ وہ چیز موجود نہ ہو، اس سے معلوم ہوا کہ اللہ کا شریک فی نفسہ محال ہے، اسی طرح اجتماع ضدین وغیرہ کا حکم ہے۔ (تفسیر کبیر ج ٦ ج ٢٢٧، روح المعانی ج ٧ ص ١٢٩، دارالفکر بیروت، ١٤١٧ ھ)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 10 يونس آیت نمبر 18