اَلْمُنٰفِقُوْنَ وَ الْمُنٰفِقٰتُ بَعْضُهُمْ مِّنْۢ بَعْضٍۘ-یَاْمُرُوْنَ بِالْمُنْكَرِ وَ یَنْهَوْنَ عَنِ الْمَعْرُوْفِ وَ یَقْبِضُوْنَ اَیْدِیَهُمْؕ-نَسُوا اللّٰهَ فَنَسِیَهُمْؕ-اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ(۶۷)

منافق مرد اور منافق عورتیں ایک تھیلی کے چٹے بٹے (ایک جیسے)ہیں (ف۱۴۹) برائی کا حکم دیں (ف۱۵۰) اور بھلائی سے منع کریں (ف۱۵۱) اور اپنی مُٹّھی بند رکھیں (خرچ نہ کریں)(ف۱۵۲) وہ اللہ کو چھوڑ بیٹھے (ف۱۵۳) تو اللہ نے انہیں چھوڑدیا (ف۱۵۴) بےشک منافق وہی پکے بے حکم (نافرمان)ہیں

(ف149)

وہ سب نفاق اور اعمالِ خبیثہ میں یکساں ہیں ان کا حال یہ ہے کہ ۔

(ف150)

یعنی کُفر و معصیت اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تکذیب کا ۔ (خازن)

(ف151)

یعنی ایمان وطاعت و تصدیقِ رسول سے ۔

(ف152)

راہِ خدا میں خرچ کرنے سے ۔

(ف153)

اور انہوں نے اس کی اطاعت و رضا طلبی نہ کی ۔

(ف154)

اور ثواب و فضل سے محروم کر دیا ۔

وَعَدَ اللّٰهُ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ الْمُنٰفِقٰتِ وَ الْكُفَّارَ نَارَ جَهَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاؕ-هِیَ حَسْبُهُمْۚ-وَ لَعَنَهُمُ اللّٰهُۚ-وَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّقِیْمٌۙ(۶۸)

اللہ نے منافق مردوں اور منافق عورتوں اور کافروں کو جہنم کی آگ کا وعدہ دیا ہے جس میں ہمیشہ رہیں گے وہ انہیں بس(کافی) ہے اور اللہ کی ان پر لعنت ہے اور ان کے لیے قائم رہنے والا عذاب ہے

كَالَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ كَانُوْۤا اَشَدَّ مِنْكُمْ قُوَّةً وَّ اَكْثَرَ اَمْوَالًا وَّ اَوْلَادًاؕ-فَاسْتَمْتَعُوْا بِخَلَاقِهِمْ فَاسْتَمْتَعْتُمْ بِخَلَاقِكُمْ كَمَا اسْتَمْتَعَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ بِخَلَاقِهِمْ وَ خُضْتُمْ كَالَّذِیْ خَاضُوْاؕ-اُولٰٓىٕكَ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِۚ-وَ اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ(۶۹)

جیسے وہ جو تم سے پہلے تھے تم سے زور میں بڑھ کر تھے اور ان کے مال اور اولاد تم سے زیادہ تو وہ اپنا حصہ (ف۱۵۵) برت (فائدہ اُٹھا)گئے تو تم نے اپنا حصہ برتا جیسے اگلے اپنا حصہ برت گئے اور تم بیہودگی میں پڑے جیسے وہ پڑے تھے (ف۱۵۶) ان کے عمل اکارت(ضائع) گئے دنیا اور آخرت میں اور وہی لوگ گھاٹے میں ہیں (ف۱۵۷)

(ف155)

لذّات و شہواتِ دنیویہ کا ۔

(ف156)

اور تم نے اِتّباعِ باطل اور تکذیبِ خدا و رسول اور مؤمنین کے ساتھ استہزاء کرنے میں ان کی راہ اختیار کی ۔

(ف157)

انہیں کُفّار کی طرح اے منافقین تم ٹوٹے میں ہو اور تمہارے عملِ باطل ہیں ۔

اَلَمْ یَاْتِهِمْ نَبَاُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ قَوْمِ نُوْحٍ وَّ عَادٍ وَّ ثَمُوْدَ ﳔ وَ قَوْمِ اِبْرٰهِیْمَ وَ اَصْحٰبِ مَدْیَنَ وَ الْمُؤْتَفِكٰتِؕ-اَتَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِۚ-فَمَا كَانَ اللّٰهُ لِیَظْلِمَهُمْ وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ(۷۰)

کیا انہیں (ف۱۵۸) اپنے سے اگلوں کی خبر نہ آئی (ف۱۵۹) نوح کی قوم (ف۱۶۰) اور عاد (ف۱۶۱) اور ثمود (ف۱۶۲) اور ابراہیم کی قوم (ف۱۶۳) اور مدین والے (ف۱۶۴) اور وہ بستیاں کہ الٹ دی گئیں (ف۱۶۵) ان کے رسول روشن دلیلیں ان کے پاس لائے تھے (ف۱۶۶) تو اللہ کی شان نہ تھی کہ ان پر ظلم کرتا (ف۱۶۷) بلکہ وہ خود ہی اپنی جانوں پر ظالم تھے (ف۱۶۸)

(ف158)

یعنی منافقوں کو ۔

(ف159)

گزری ہوئی اُمّتوں کا حال معلوم نہ ہوا کہ ہم نے انہیں اپنے حکم کی مخالفت اور اپنے رسولوں کی نافرمانی کرنے پر کس طرح ہلاک کیا ۔

(ف160)

جو طوفان سے ہلاک کی گئی ۔

(ف161)

جو ہوا سے ہلاک کئے گئے ۔

(ف162)

جو زلزلہ سے ہلاک کئے گئے ۔

(ف163)

جو سلبِ نعمت سے ہلاک کی گئی اور نمرود مچھر سے ہلاک کیا گیا ۔

(ف164)

یعنی حضرت شُعیب علیہ السلام کی قوم جو روزِ ابر کے عذاب سے ہلاک کی گئی ۔

(ف165)

اور زیر و زبر کر ڈالی گئیں ۔ وہ قومِ لوط کی بستیاں تھیں ۔ اللہ تعالٰی نے ان چھ کا ذکر فرمایا اس لئے کہ بلادِ شام و عراق و یمن جو سر زمینِ عرب کے بالکل قریب ہیں ان میں ان ہلاک شدہ قوموں کے نشان باقی ہیں اور عرب لوگ ان مقامات پر اکثر گزرتے رہتے ہیں ۔

(ف166)

ان لوگوں نے بجائے تصدیق کرنے کے اپنے رسولوں کی تکذیب کی جیسا کہ اے منافقین کُفّار تم کر رہے ہو ، ڈرو کہ انہیں کی طرح مبتلائے عذاب نہ کئے جاؤ ۔

(ف167)

کیونکہ وہ حکیم ہے بغیر جرم کے سزا نہیں فرماتا ۔

(ف168)

کہ کُفر او ر تکذیبِ انبیاء کر کے عذاب کے مستحق بنے ۔

وَ الْمُؤْمِنُوْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتُ بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍۘ-یَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ یَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ یُطِیْعُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗؕ-اُولٰٓىٕكَ سَیَرْحَمُهُمُ اللّٰهُؕ-اِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ(۷۱)

اور مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں ایک دوسرے کے رفیق ہیں (ف۱۶۹) بھلائی کا حکم دیں (ف۱۷۰) اور برائی سے منع کریں اور نماز قائم رکھیں اور زکوٰۃ دیں اور اللہ و رسول کا حکم مانیں یہ ہیں جن پر عنقریب اللہ رحم کرے گا بےشک اللہ غالب حکمت والا ہے

(ف169)

اور باہم دینی مَحبت و موالات رکھتے ہیں اور ایک دوسرے کے معین و مددگار ہیں ۔

(ف170)

یعنی اللہ اور رسول پر ایمان لانے اور شریعت کا اِتّباع کرنے کا ۔

وَعَدَ اللّٰهُ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا وَ مَسٰكِنَ طَیِّبَةً فِیْ جَنّٰتِ عَدْنٍؕ-وَ رِضْوَانٌ مِّنَ اللّٰهِ اَكْبَرُؕ-ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ۠(۷۲)

اللہ نے مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں کو باغوں کا وعدہ دیا ہے جن کے نیچے نہریں رواں ان میں ہمیشہ رہیں گے اور پاکیزہ مکانوں کا (ف۱۷۱) بسنے کے باغوں میں اور اللہ کی رضا سب سے بڑی (ف۱۷۲) یہی ہے بڑی مراد پانی

(ف171)

حسن رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے کہ جنّت میں موتی اور یاقوتِ سرخ اور زَبَرجَد کے محل مؤمنین کو عطا ہوں گے ۔

(ف172)

اور تمام نعمتوں سے اعلٰی اور عاشقانِ الٰہی کی سب سے بڑی تمنا ” رَزَقَنَا اللّٰہُ تَعَالٰی بِجَاہٖ حَبِیْبِہٖ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ”