قبول کیا تو کرکے بتا دو

آپ نے شوہر کی وفاداری کا قلادہ اپنی گردن میں لٹکا لیا ہے تو کیا یعنی اور کیا لایعنی جو کہا کر لیا،اگر حاکم نے کسی کا کام حکم دیا تو تابعدار کا کام اسے بجا لانا ہے اگر شرعی ممانعت میں نہ جاتا ہو،ماتحت رہنے والا لایعنی کام حاکم کے حکم سے کرتا ہے تو اس سے کوئی کرنے والے کو احمق نہیں کہتا،کیوںکہ وہ تو حکم پر عمل کررہا ہے ،وہ تو اطاعت کرہا ہے،احمق تو وہ ہے جس نے سمجھے بغیر اس بچاری کو عمل پر مجبور کیا ہے،جب عمل کرنے والے کو عمل سے نقصان نہین ہو رہا ہے تو اسے یعنی لایعنی کا فرق نہین کرنا چاہیئے،اور ہر حکم میں آمنا صدقنا کہنا چاہیئے

لایعنی میں بھی ثواب

ہمارے نبی ﷺ کے فرمان پر ہم قربان،آپنے شوہر کے لایعنی پر عمل کو اپنا ارشاد قرار دیا اور عورتوں کو اس بات سے آگاہ کیا کہ بالفرض تمہیں ایسا کوئی حکم مل جائے تو اس میں بھی ضد نہ کرنی چاہیئے بلکہ یہ سمجھ کر کر لینا چاہیئے کہ ہمارے نبی نے ہمیں یہ کر لینے کا حکم دیا ہے تو ہم اسے فرمان نبی کے ماتحت سمجھ کر کرنے جا رہے ہیں،حکم اگرچہ بے مطلب ہے مگر اسے فرمان رسول ﷺکا سہارا مل گیا ہے اس لئے اس حیثیت سے تو بے مطلب نہیں ہے ، یہ تو باعث ثواب عمل ہے ،کام بھی بن رہا ہے اور ثواب بھی حاصل ہو رہا ہے،آپکا ارشاد عالی ہے خدمتک زوجک صدقۃ تمہارا تمہارے شوہر کی خدمت کرا صدقہ ہے(کنزالعمال ج۱۶ ص ۱۶۹)یعنی جس طرح راہ خدا میں صدقہ کرنا ثواب اس طرح شوہر کی خدمت اور اس کی پیروی بھی ثواب ہے