أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قُلۡ مَنۡ يَّرۡزُقُكُمۡ مِّنَ السَّمَآءِ وَالۡاَرۡضِ اَمَّنۡ يَّمۡلِكُ السَّمۡعَ وَالۡاَبۡصَارَ وَ مَنۡ يُّخۡرِجُ الۡحَـىَّ مِنَ الۡمَيِّتِ وَيُخۡرِجُ الۡمَيِّتَ مِنَ الۡحَـىِّ وَمَنۡ يُّدَبِّرُ الۡاَمۡرَ‌ؕ فَسَيَـقُوۡلُوۡنَ اللّٰهُ‌ۚ فَقُلۡ اَفَلَا تَتَّقُوۡنَ ۞

ترجمہ:

آپ (ان سے) کہیے کہ تمہیں آسمان اور زمین سے کون رزق دیتا ہے ؟ یا کان اور آنکھوں کا کون مالک ہے ؟ اور مردے سے زندہ کو کون نکالتا ہے اور زندہ سے مردے کو کون نکالتا ہے ؟ اور نظام کائنات کو کون چلاتا ہے ؟ تو وہ ضور کہیں گے کہ اللہ، پھر آپ کہیں کہ تم (اللہ سے) ڈرتے کیوں نہیں !

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آپ (ان سے) کہیے کہ تمہیں آسمان اور زمین سے کون رزق دیتا ہے ؟ یا کان اور آنکھوں کا کون مالک ہے ؟ اور مردے سے زندہ کو کون نکالتا ہے اور زندہ سے مردے کو کون نکالتا ہے ؟ اور نظام کائنات کو کون چلاتا ہے ؟ تو وہ ضور کہیں گے کہ اللہ، پھر آپ کہیں کہ تم (اللہ سے) ڈرتے کیوں نہیں ! یہی اللہ ہے جو تمہارا برحق رب ہے، تو حق کو چھوڑ کر گمراہی کے سوا اور کیا ہے ! سو تم کہاں پھرائے جا رہے ہو ! فاسقوں پر اسی طرح آپ کے رب کے دلائل قائم ہوچکے ہیں، وہ یقینا ایمان نہیں لائیں گے (یونس ٣٣۔ ٣١)

توحید کے اثبات پر دلائل :

اس سے پہلی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین کی مذمت فرمائی تھی اور ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ ان کے مذہب کا بطلان اور اسلام کی حقانیت کو واضح فرما رہا ہے اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے رزق، حواس اور موت اور حیات کے احوال سے استدلال فرمایا ہے۔

رزق سے استدلال کی وجہ یہ ہے کہ انسان کی نشو و نما غذا سے ہوتی ہے اور غذا سبزیوں اور پھلوں سے حاصل ہوتی ہے یا گوشت سے اور گوشت کا مآل بھی نباتات ہیں کیونکہ جن جانوروں کا گوشت کھایا جاتا ہے ان کی غذا بھی زمین کی پیداوار ہے اور زمین کی پیداوار آسمان سے برسنے والے پانی اور زمین کی روئیدگی پر موقوف ہے، اور زمین اور آسمان کے نظام کو چلانے والا صرف اللہ ہے اس سے معلوم ہوا کہ رزق دینے والا صرف اللہ ہے، او

ر حواس میں سب سے اشرف کان اور آنکھیں ہیں کیونکہ یہی علم اور ادراک کا سب سے بڑا ذریعہ ہیں اور حضرت علی نے فرمایا : سبحان ہے وہ ذات جس نے چربی سے دکھایا اور ہڈی سے سنایا اور گوشت کے ایک پارچہ کو گویائی بخشی۔ پھر

اللہ تعالیٰ نے فرمایا : وہ مردے سے زندہ کو نکالتا ہے جس طرح اس نے انسان اور پرندے کو نطفہ اور انڈے سے نکالا جو بظاہر بےجان ہیں یا جس طرح اس نے مومن کو کافر سے پیدا کیا، اور اس نے فرمایا وہ زندہ سے مردے کو نکالتا ہے جس طرح اس نے نطفہ اور انڈے کو انسان اور پرندے سے نکالا یا جس طرح اس نے کافر کو مومن سے پیدا فرمایا۔ اور اے مشرکو ! جب تمہیں یہ اعتراف اور اقرار ہے کہ زمین اور آسمان سے رزق دینے والا اور انسان کو حواس دینے والا، اور موت اور حیات کو پیدا کرنے والا اور اس تمام نظام کائنات کو چلانے والا صرف اللہ ہے، تو پھر تم اللہ کے لیے شریک کیوں بناتے ہو اور شریک بنانے پر اللہ کی گرفت اور عذاب سے کیوں نہیں ڈرتے ! پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا : یہی اللہ ہے جو تمہارا برحق رب ہے، یعنی جس کی ایسی عظیم الشان قدرت ہے جس سے اس نے اس ساری مخلوق کو پیدا کیا ہے اور جس کی ایسی رحمت ہے جس سے وہ اس ساری مخلوق کی پرورش کر رہا ہے یہی تو درحقیقت تمہارا رب ہے تم اس کو چھوڑ کر کہاں مارے مارے پھر رہے ہو، ان گنت دروازوں پر گدا کرنے کی کیا ضرورت ہے، اسی ایک در کے ہو رہو۔ پھر فرمایا : فاسقوں پر اسی طرح آپ کے رب کے دلائل قائم ہوچکے ہیں وہ یقینا ایمان نہیں لائیں گے۔ اصطلاح میں فاسق اس شخص کو کہتے ہیں جو مومن ہو اور گناہ کا مرتکب ہو لیکن اس آیت میں فاسقین سے مراد ایسے کافر ہیں جو ضد اور ہٹ دھرمی سے اپنے کفر پر قائم تھے اور معجزات اور دلائل پیش کیے جانے کے باوجود اپنے آباء و اجداد کی اندھی تقلید سے توبہ نہیں کرتے تھے اور وہ اپنے کفر اور عناد سے اس حد پر پہنچ چکے تھے کہ اللہ تعالیٰ کو علم تھا کہ اب وہ ایمان نہیں لائیں گے۔ اس آیت پر یہ اعتراض ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے یہ فرما دیا کہ وہ ایمان نہیں لائیں گے تو ان کا ایمان لانا محال ہے حالانکہ وہ ایمان لانے کے مکلف ہیں، اس سے لازم آیا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو محال کا مکلف کیا ہے جب کہ اللہ تعالیٰ کسی شخص کو اس کی طاقت سے زیادہ مکلف نہیں کرتا، اس کا جواب ی ہے کہ وہ اس آیت سے قطع نظر کر کے فی نفسہ ایمان لانے کے مکلف ہیں، اس کی مفصل تفسیر البقرہ : ٦ میں ملاحظہ فرمائیں۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 10 يونس آیت نمبر 31