أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قُلۡ هَلۡ مِنۡ شُرَكَآئِكُمۡ مَّنۡ يَّبۡدَؤُا الۡخَـلۡقَ ثُمَّ يُعِيۡدُهٗ‌ ؕ قُلِ اللّٰهُ يَـبۡدَؤُا الۡخَـلۡقَ ثُمَّ يُعِيۡدُهٗ‌ؕ فَاَنّٰى تُؤۡفَكُوۡنَ‏ ۞

ترجمہ:

آپ کہئے کہ تمہارے (خودساختہ) شرکاء میں سے کوئی ہے جو مخلوق کی پیدائش کی ابتداء کرسکے پھر (فنا کے بعد) اس کو دوبارہ پیدا کرسکے ؟

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آپ کہئے کہ تمہارے (خودساختہ) شرکاء میں سے کوئی ہے جو مخلوق کی پیدائش کی ابتداء کرسکے پھر (فنا کے بعد) اس کو دوبارہ پیدا کرسکے ؟ آپ کہیے کہ اللہ ہی پیدائش کی ابتداء کرتا ہے پھر (فنا کے بعد) اس کو دوبارہ پیدا کرے گا ! سو تم کہاں اوندھے پھر رہے ہو آپ کہیے کہ تمہارے (خود ساختہ) شرکاء میں سے کوئی ہے جو حق کی طرف ہدایت دے سکے ؟ آپ کہیے کہ اللہ ہی حق کی ہدایت دیتا ہے، تو کیا جو حق کی ہدایت دے وہ فرمانبرداری کا زیادہ مستحق ہے یا وہ جو بغیر ہدایت دیے خود ہی ہدایت نہ پا سکے، تمہیں کیا ہوا ہے ؟ تم کیسے فیصلے کر رہے ہو ! ان میں سے اکثر لوگ صرف گمان کی پیروی کرتے ہیں، بیشک گمان کبھی یقین سے مستغنی نہیں کرتا، بیشک اللہ خوب جاننے والا ہے جو کچھ وہ کرتے ہیں (یونس : ٣٤۔ ٣٦)

شرک کا بطلان :

اس سے پہلی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے توحید کے اثبات پر دلائل قائم کیے تھے اور ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کرنے پر دلائل قائم فرما رہا ہے کہ جو ذات ابتدائً مخلوق کو پیدا کرنے پر قادر ہے وہ دوبارہ بھی اس کو پیدا کرنے پر قادر ہے۔

ان آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے نبی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فرماتا ہے : اے محمد ! ان مشرکین سے کہئے کہ تم اللہ کو چھوڑ کر جن کی پرستش کرتے ہو کیا وہ بغیر مادے کے کسی چیز کو پیدا کرسکتے ہیں اور کیا ان میں سے کسی نے یہ دعوی کیا ہے اور اس میں یہ واضح اور قطعی دلیل ہے کہ ان کا جو یہ دعوی ہے کہ یہ بت اللہ کے سوا رب ہیں اور یہ استحقاق عبادت میں اللہ تعالیٰ کے شریک ہیں، وہ اپنے اس دعوی میں کذاب اور مفتری ہیں۔ اس کے بعد فرمایا : اے محمد ! ان مشرکین سے یہ کہ دیجئے کہ تم اللہ کو چھوڑ کر جن بتوں کی عبادت کرتے ہو کیا یہ کسی ایسے شخص کو سیدھا راستہ دکھا سکتے ہیں جو سیدھا راستہ گم کرچکا ہو، یہ کود اس بات کا دعوی نہیں کرتے کہ ان کے خود ساختہ معبود کسی گم کردہ راہ کو راستہ دکھا سکتے ہیں کیونکہ بالفرض اگر یہ ایسا دعوی کریں بھی تو مشاہدہ اور واقعہ ان کی تکذیب کر دے گا، اور جب یہ اقرار کر لین کہ ان کے اختراعی معبود کسی گم کردہ راہ کو کو راستہ نہیں دکھا سکتے تو پھر ان سے کہئے کہ اللہ تو گمراہوں کو حق کی ہدایت دیتا ہے تو جو گمراہوں کو حق کی ہدایت دیتا ہو وہ اس کا مستحق ہے کہ اس کی دعوت پر لبیک کہی جائے یا وہ جو بغیر ہدایت دیئے خود بھی ہدایت نہ پا سکے۔ کیا تم یہ نہیں جانتے کہ جو حق کی ہدایت دیتا ہے وہ اس کی بہ نسبت اطاعت اور فرمانبرداری کا زیادہ مستحق ہے جو بغیر کسی ہدایت دینے کے از خود ہدایت نہ پاسکتا ہو لہذا تم ان بتوں کی عبادت کو ترک کر کے اس کی اطاعت اور عبادت کرو جو خشکی اور سمندروں میں بھٹکے ہوئے لوگوں کو راستہ دکھاتا ہے اور اخلاص کے ساتھ صرف اسی کی عبادت کرو نہ کہ ان بتوں کی جن کو تم نے بغیر کسی دلیل کے اللہ کا شریک بنا لیا ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ان مشرکین میں سے اکثر صرف ظن اور تخمین کی پیروی کرتے اور اٹکل پچو سے بتوں کو اللہ کا شریک بناتے ہیں اور اس کی صحت اور واقعیت کے متعلق ان کو خود شکوک اور شبہات لاحق رہتے ہیں اور ظن کبھی بھی یقین سے مستغنی نہیں کرسکتا۔ 

قیاس اور خبر واحد کے حجت ہونے پر ایک اعتراض کا جواب :

اس آیت سے یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ اس آیت میں اتباع ظن کی مذمت کی گئی ہے اور قیاس اور خبر واحد بھی ظنی ہیں لہذا قیاس اور خبر واحد بھی حجت نہ رہیں۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اس آیت میں مطلقًا ظنی دلیل کی اتباع سے منع نہیں کیا گیا بلکہ اس ظنی دلیل کی اتباع سے منع کیا گیا جو ظن یقین اور قطعیت کے خلاف اور اس کے معارض ہو جیسے مشرکین کا اپنے بتوں کی پرستش کرنا محض اپنے ظن کی بناء پر تھا اور ان کا یہ ظن ان دلائل یقینیہ اور براہین قطعیہ کے خلاف تھا جو شرک کے بطلان پر دلالت کرتے ہیں، سو قیاس اور خبر واحد درجہ ظن میں حجت ہوتے ہیں اور اس سے مراد وہی قیاس ہے جو کسی دلیل قطعی کے خلاف نہ ہو، جیسے ابلیس نے قیاس کر کے خود کو حضرت آدم سے افضل کہا تھا، سو یہ قیاس دلیل قطعی کے خلاف تھا، اور وہ اللہ تعالیٰ کا حکم تھا کہ سب آدم کو سجدہ کریں، اسی طرح جو خبر واحد قرآن مجید یا کسی خبر متواتر کے خلاف ہو وہ بھی حجت نہیں ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 10 يونس آیت نمبر 34