أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

هُنَالِكَ تَبۡلُوۡا كُلُّ نَفۡسٍ مَّاۤ اَسۡلَفَتۡ‌ وَرُدُّوۡۤا اِلَى اللّٰهِ مَوۡلٰٮهُمُ الۡحَـقِّ‌ وَضَلَّ عَنۡهُمۡ مَّا كَانُوۡا يَفۡتَرُوۡنَ ۞

ترجمہ:

اس وقت ہر شخص اپنے بھیجے ہوئے اعمال (کے نتیجہ) میں مبتلا ہوگا، وہ سب اللہ کی طرف لوٹا دیئے جائیں گے جو ان کا مالک حقیقی ہے اور وہ جو کچھ بہتان باندھتے رہے تھے وہ ان سے گم ہوجائیں گے ؏

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اس وقت ہر شخص اپنے بھیجے ہوئے اعمال ( کے نتیجہ) میں مبتلا ہوگا۔ وہ سب اللہ کی طرف لوٹا دیئے جائیں گے جو ان کا مالک حقیقی ہے اور وہ جو کچھ بہتان باندھتے رہے تھے وہ ان سے گم ہوجائیں گے (یونس : ٣٠)

اس آیت کے دو معنی ہیں :

ایک یہ ہے کہ ہر شخص اپنے عمل کے نتیجہ کی پیروی کرے گا، اگر اس کے نیک اعمال تھے تو وہ جنت کی طرف جائے گا اور اگر اس کے برے اعمال تھے تو دوزخ کی طرف جائے گا،

دوسرا معنی یہ ہے کہ ہر شخص اپنے اعمال نامے کو پڑھے گا اور اس کے مطابق اپنی جزا اور سزا کو جان لے گا۔

امام ابن جریر نے سند ضعیف کے ساتھ روایت کیا ہے کہ ہر وہ قوم جو اللہ کو چھوڑ کر دوسری چیزوں کی پرستش کرتی تھی ان کے لیے ان کے معبودوں کو متمثل کردیا جائے گا، وہ ان کے پیچھے جائیں گے حتی کہ وہ ان کو دوزخ میں داخل کردیں گے۔ (جامع البیان جز ١١ ص ١٤٨، مطبوعہ دارالفکر بیروت، ١٤١٥ ھ)

اور تمام مشرکین اس دن اللہ عزو جل کی طرف رجوع کریں گے جو ان کا مالک حقیقی ہے اور دنیا میں وہ اللہ کو چھوڑ کر جن چیزوں کی عبادت کرتے تھے ان کا جھوٹ اور بطلان ان پر منکشف ہوجائے گا۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 10 يونس آیت نمبر 30