أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاِنۡ كَذَّبُوۡكَ فَقُلْ لِّىۡ عَمَلِىۡ وَلَـكُمۡ عَمَلُكُمۡ‌ۚ اَنۡـتُمۡ بَرِيۡٓـئُوۡنَ مِمَّاۤ اَعۡمَلُ وَاَنَا بَرِىۡٓءٌ مِّمَّا تَعۡمَلُوۡنَ ۞

ترجمہ:

اور اگر یہ آپ کی تکذیب کریں تو کہیے کہ میرے لیے میرا عمل ہے اور تمہارے لیے تمہارا عمل ہے، تم ان کاموں سے بری الذمہ ہو جو میں کرتا ہوں اور میں ان کاموں سے بری الذمہ ہوں جو تم کرتے ہو

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور اگر یہ آپ کی تکذیب کریں تو آپ کہئے کہ میرے لیے میرا عمل ہے اور تمہارے لیے تمہارا عمل ہے، تم ان کاموں سے بری الذمہ ہو جو میں کرتا ہوں اور میں ان کاموں سے بری الذمہ ہوں جو تم کرتے ہو (یونس : ٤١ )

ہر شخص اپنے اعمال کا جواب دہ ہے :

یعنی میں نے جو دین اسلام کی تبلیغ کی ہے اور تم کو اللہ تعالیٰ کی توحید کو ماننے اور اس کی عبادت اور اطاعت کرنے کی دعوت دی ہے مجھے اس کا ثواب ملے گا، اور تم کو تمہارے شرک کرنے کی سزا ملے گی اور کسی شخص سے دوسرے شخص کے اعمال کا مواخذہ نہیں ہوگا۔

یہ مضمون قرآن مجید کی حسب ذیل آیات میں بھی بیان کیا گیا ہے : ام یقولپون افترنہ قل ان افتریتہ فعلی اجرامی وانابریٓ ء ’‘ مما تجرمون (ہود : ٣٥) کیا وہ کہتے ہیں کہ اس نے اس (قرآن) کو از خود گھڑ لیا ہے ! آپ کہئے کہ اگر میں نے اس کو گھڑ لیا ہے تو میرا گناہ مجھ پر ہے، اور میں تمہارے گناہوں سے بری الذمہ ہوں۔

قل لا تسئلون عمآ اجرمنا ولا نسئل عما تعملون۔ (سبا : ٢٥) آپ کہئے (اگر بالفرض) ہم نے کوئی جرم کیا ہے تو تم سے اس کے متعلق سوال نہیں کیا جائے گا اور تمہارے کاموں کے متعلق ہم سے کوئی سوال نہیں کیا جائے گا۔

ولاتکسب کل نفسٍ الا علیھا ولا تزروازرۃ ’‘ وزراخری۔ (الانعام : ١٦٤) اور ہر شخص جو برائی کرتا ہے وہ اسی پر ہے، اور کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔

مقاتل نے کہا کہ زیر تفسیر آیت، جہاد کی آیت سے منسوخ ہے۔ (جامع البیان جز ١١ ص ١٥٥) لیکن یہ درست نہیں ہے کیونکہ اس آیت میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ کوئی شخص دوسرے کے اعمال کا جواب دہ نہیں ہے اور یہ حکم باقی ہے منسوخ نہیں ہے، دراصل اس آیت میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دی گئی ہے کہ اگر یہ مشرکین آپ کی پیہم تبلیغ کے باوجود مسلمان نہیں ہوتے تو آپ غم اور فکر نہ کریں، آپ کو اپنی تبلیغ پر ثواب ملے گا، اور ان کو اسلام نہ قبول کرنے کی سزا ملے گی، کیونکہ ہر شخص اپنے اعمال کا جواب دہ ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 10 يونس آیت نمبر 41