أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَمِنۡهُمۡ مَّنۡ يَّسۡتَمِعُوۡنَ اِلَيۡكَ‌ؕ اَفَاَنۡتَ تُسۡمِعُ الصُّمَّ وَلَوۡ كَانُوۡا لَا يَعۡقِلُوۡنَ‏ ۞

ترجمہ:

اور ان میں سے بعض آپ کی طرف کان لگاتے ہیں تو کیا آپ بہروں کو سنائیں گے خواہ وہ کچھ بھی نہ سمجھتے ہوں

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور ان میں سے بعض آپ کی طرف کان لگاتے ہیں تو کیا آپ بہروں کو سنائیں گے خواہ ہو کچھ بھی نہ سمجھتے ہوں اور ان میں سے بعض آپ کی طرف دیکھتے ہیں تو کیا آپ اندھوں کو ہدایت دیں گے خواہ وہ کچھ بھی نہ دیکھتے ہوں بیشک اللہ لوگوں پر بالکل ظلم نہیں کرتا لیکن لوگ خود اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں (یونس : ٤٤، ٤٢ )

کفار کے ایمان نہ لانے پر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دینا

یونس : ٤٠ میں اللہ تعالیٰ نے کفار کی دو قسمیں کی تھیں : بعض آپ پر ایمان لائیں گے اور بعض آپ پر ایمان نہیں لائیں گے اور ان آیتوں میں ایمان نہ لانے والوں کی دو قسمیں کی ہیں : بعض وہ ہیں جو بغض وعناد کی آخری حد کو پہنچے ہوئے ہیں اور بعض وہ ہیں جو اس طرح نہیں ہیں، جو بغض وعناد کی آخری حد کو پہنچے ہوئے ہیں ان کی دو مثالیں بیان فرمائی ہیں : ایک وہ ہیں جو بہروں کی مانند ہیں کیونکہ جب انسان دوسرے انسان سے حد سے زیادہ بغض اور عناد رکھے تو وہ ہر اعتبار سے اس کی برائی کا طالب ہوتا ہے اور ہر لحاظ سے اس کی اچھائی سے اعراض کرتا ہے اور بہرا شخص کسی کی بات سن نہیں سکتا، اسی طرح سے یہ مشرکین بھی آپ کے کلام کے محاسن اور فضائل کا ادراک نہیں کرتے گویا کہ انہوں نے آپ کا کلام سنا ہی نہیں، اور دوسری مثال یہ دی کہ یہ اندھوں کی مانند ہیں، اللہ تعالیٰ نے آپ کو جو کمالات اور خوبیان عطا فرمائی ہیں یہ ان کا ادراک نہیں کرتے گویا کہ یہ آپ کو دیکھتے ہی نہیں اور جو لوگ بغض اور عداوت میں اس حد کو پہنچ چکے ہوں ان سے یہ توقع کیسے کی جاسکتی ہے کہ وہ آپ پر ایمان لائیں گے اور آپ کی اتباع کریں گے، سو اس آیت سے بھی مقصود یہی ہے کہ آپ کو تسلی دی جائے کہ اگر آپ کی تبلیغ سے یہ مشرکین اسلام قبول نہیں کرتے تو آپ غم اور فکر نہ کریں، آپ کی تبلیغ میں کوئی کمی نہیں ہے، کمی تو ان کے کانوں اور ان کی آنکھوں میں ہے، بغض اور عداوت نے ان کو بہرا اور اندھا کردیا ہے، یہ توجہ سے آپ کی بات سنتے نہیں، بصیرت سے آپ کو دیکھتے نہیں پھر اگر آپ کی تبلیغ سے متاثر نہیں ہوتے تو اس میں کیا تعجب ہے ! اس کے بعد فرمایا : اللہ لوگوں پر بالکل ظلم نہیں کرتا لیکن لوگ اپنی جانوں پر خود ظلم کرتے ہیں، اس کی دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کسی شخص کو کفر، شرک اور بد کاریوں پر مجبور نہیں کیا، لوگ کود اپنے اختیار سے برے کام کرتے ہیں۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 10 يونس آیت نمبر 42