أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَيَوۡمَ نَحۡشُرُهُمۡ جَمِيۡعًا ثُمَّ نَقُوۡلُ لِلَّذِيۡنَ اَشۡرَكُوۡا مَكَانَكُمۡ اَنۡتُمۡ وَشُرَكَآؤُكُمۡ‌ۚ فَزَيَّلۡنَا بَيۡنَهُمۡ‌ وَقَالَ شُرَكَآؤُهُمۡ مَّا كُنۡتُمۡ اِيَّانَا تَعۡبُدُوۡنَ ۞

ترجمہ:

جس دن ہم ان سب کو جمع کریں گے، پھر ہم مشرکوں سے کہیں گے تم اور تمہارے شریک سب اپنی اپنی جگہ ٹھہریں، پھر ہم ان کے درمیان پھوٹ ڈال دیں گے اور ان کے شریک کہیں گے تم ہماری عبادت نہیں کرتے تھے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : جس دن ہم ان سب کو جمع کریں گے، پھر ہم مشرکوں سے کہیں گے تم اور تمہارے شریک سب اپنی اپنی جگہ ٹھہریں، پھر ہم ان کے درمیان پھوٹ ڈال دیں گے اور ان کے شریک کہیں گے تم ہماری عبادت نہیں کرتے تھے پس ہمارے اور تمہارے درمیان اللہ کافی گواہ ہے کہ بیشک ہم تمہاری عبادت سے غافل تھے (یونس : ٢٩۔ ٢٨ )

قیامت کے دن شرکاء کی مشرکین سے بیزاری اور شرکاء کا مصداق :

ان آیتوں کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن غیر اللہ کی عبادت کرنے والوں اور ان کے معبودوں کو جمع فرمائے گا اور اس دن وہ معبود اپنے عابدوں سے براء تکا اظہار کریں گے۔ اور اس دن یہ ظاہر ہوجائے گا کہ ان مشرکوں نے ان معبودوں کے علم، ارادہ اور ان کی رضا اور رغبت سے ان کی عبادت نہیں کی، اور اس سے یہ مقصود ہے کہ دنیا میں مشرکین یہ کہا کرتے تھے کہ یہ بت اللہ کے پاس ہماری شفاعت کریں گے، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن یہ ظاہر فرمائے گا کہ قیامت کے دن ان کے خود ساختہ معبود اللہ تعالیٰ کے پاس ان کی شفاعت نہیں کریں گے بلکہ ان کی عبادت سے برات کا اظہار کریں گے جیسا کہ اس آیت میں فرمایا ہے : اذ تبر الذین اتبعوا من الذین اتبعوا۔ (البقرہ : ١٦٦) جن لوگوں کی دنیا میں پیروی کی گئی تھی، جب وہ ان لوگوں سے بیزار ہوں گے جنہوں نے پیروی کی تھی۔ اس آیت میں شرکاء سے مراد کون ہیں، اس میں تین قول ہیں : ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد فرشتے ہیں اور اس پر دلیل یہ آیت ہے : ویوم یحشرھم جمیعًا ثم یقول للملٓئکۃ اھٓؤلآء ایاکم کانوا یعبدون قالوا سبحنک انت ولینا من دونہم ج بل کانوا یعبدون الجن ج اکثرھم بھم مؤمنون (سبا : ٤١۔ ٤٠) اور جس دن وہ ان سب کو جمع فرمائے گا اور فرشتوں سے فرمائے گا کیا یہ لوگ تمہاری عبادت کرتے تھے وہ عرض کریں گے تو (شرکاء سے) پاک ہے، ان کے بغیر تو ہمارا مالک ہے، بلکہ یہ جنات کی عبادت کرتے تھے اور ان میں سے اکثر ان پر ہی ایمان رکھتے تھے دوسرا قول یہ ہے کہ ان شرکاء سے مراد فرشتے نہیں ہیں کیونکہ اس آیت میں جو خطاب ہے وہ تہدید اور وعید پر مشتمل ہے اور وہ ملائکہ مقربین کے مناسب نہیں اور اس آیت میں شرکاء سے مراد بت ہیں، اب رہا یہ سوال کہ وہ بت کیسے کلام کریں گے تو اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ان میں حیات، عقل اور نطق پیدا کر دے گا یا ان میں صرف نطق پیدا کر دے گا۔ تیسرا قول یہ ہے کہ شرکاء سے مراد ہر وہ ذات ہے جس کی اللہ کو چھوڑ کر پرستش کی گئی، خواہ ہو بت ہوں، سورج ہو، چاند ہو، انسان ہو، جن ہو یا فرشتہ ہو۔ 

شرکاء کے کلام پر کذب کا اعتراض اور اس کے جوابات :

اس آیت میں یہ مذکور ہے کہ جن کی یہ مشرکین عبادت کرتے تھے وہ یہ کہیں گے ” تم ہماری عبادت نہیں کرتے تھے “ حالانکہ فی الواقع ان مشرکین نے ان کی عبادت تو کی تھی تو پھر ان کا یہ کام خلاف واقع اور جھوٹ ہوا، اس سوال کے حسب ذیل جوابات ہیں :

(١) میدان محشر میں سب حیرت اور دہشت میں مبتلا ہوں گے سو یہ کلام ان سے دہشت کی صورت میں صادر ہوگا جیسے مجنون اگر کوئی بات خلاف واقع کہے تو اس پر کذب کا حکم نہیں لگایا جائے گا۔

(٢) ان کے نزدیک کفار کے اقوال اور افعال ساقط الاعتبار تھے، وہ ان کو لائق شمار نہیں سمجھتے تھے، سو ہرچند کہ مشرکین نے ان کی عبادت کی تھی لیکن ان کے نزدیک کفار کا یہ فعل کسی گنتی اور شمار میں نہیں تھا۔

(٣) کفار نے اپنے اوہام اور تخلیات میں ان معبودوں کے لیے ایسی صفات فرض کی ہوئی تھیں جو در حقیقت ان معبودوں کو حاصل نہیں تھی مثلاً یہ کہ وہ نفع اور ضرر پہنچانے پر قادر ہیں اور اللہ کے پاس ان کی شفاعت کریں گے، تو گویا مشرکین ان معبودوں کی عبادت نہیں کرتے تھے بلکہ ان چیزوں کی عبادت کرتے تھے جو ان فرضی چیزوں کے ساتھ موصوف تھیں۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 10 يونس آیت نمبر 28