أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَيَوۡمَ يَحۡشُرُهُمۡ كَاَنۡ لَّمۡ يَلۡبَثُوۡۤا اِلَّا سَاعَةً مِّنَ النَّهَارِ يَتَعَارَفُوۡنَ بَيۡنَهُمۡ‌ؕ قَدۡ خَسِرَ الَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا بِلِقَآءِ اللّٰهِ وَمَا كَانُوۡا مُهۡتَدِيۡنَ ۞

ترجمہ:

اور جس دن وہ (اللہ) ان کو جمع فرمائے گا (تو یہ گمان کریں گے کہ) وہ (دنیا میں) دن کی صرف ایک گھڑی بھر رہے ہیں۔ وہ ایک دوسرے کو پہچان لیں گے، بیشک وہ نقصان میں رہے جنہوں نے اللہ کے سامنے حاضر ہونے کو جھٹلایا تھا اور وہ ہدایت پانے والے نہ تھے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور جس دن وہ (اللہ) ان کو جمع فرمائے گا (تو یہ گمان کریں گے کہ) وہ (دنیا میں) دن کی صرف ایک گھڑی بھر رہے ہیں۔ وہ ایک دوسرے کو پہچان لیں گے، بیشک وہ نقصان میں رہے جنہوں نے اللہ کے سامنے حاضر ہونے کو جھٹلایا تھا اور وہ ہدایت پانے والے نہ تھے اور اگر ہم آپ کو اس عذاب کا بعض حصہ دکھا دیں جس سے ہم نے ان کو ڈرایا یا آپ کی مدت حیات پوری کردیں تو ان کو تو (بہرحال) اللہ ہی کی طرف لوٹنا ہے، پھر اللہ ان کے افعال پر گواہ ہے (یونس : ٤٦۔ ٤٥ )

قیام دنیا کو کم سمجھنے کی وجوہات :

اس آیت میں یہ فرمایا ہے کہ کفار دنیا میں قیام کو بہت کم خیال کریں گے، اسی طرح ایک اور آیت میں بھی فرمایا : قل کم لبثتم فی الارض عدد سنین قالوا لبثنا یومًا او بعض یومٍ فسئل العآدین (المومنون : ١١٣۔ ١١٢) اللہ فرمائے گا (بتائو تم کتنے سال زمین میں ٹھہرے ؟ وہ کہیں گے ہم ایک دن یا دن کا کچھ حصہ ٹھہرے تھے جو گننے والوں سے پوچھ لیجئے۔ وہ دنیا میں قیام کو کم کیوں گمان کرتے تھے اس کی حسب ذیل وجوہات ہیں :

(١) چونکہ کفار نے اپنی عمروں کو دنیا کی طلب اور لذتوں کی حرص میں ضائع کردیا اور دنیا میں کوئی ایسا کام نہیں کیا جس کا انہیں آخرت میں نفع ہوتا تو ان کا دنیا میں زندگی گزارنا اور نہ گزارنا دونوں برابر تھے اس لیے انہوں نے دنیا کی زندگی کو کم سمجھا۔

(٢) جب وہ آخرت کے دہشت ناک امور دیکھیں گے تو انہیں دنیا کی گزاری ہوئی زندگی بھول جائے گی۔

(٣) آخرت کے دائمی عذاب کے مقابلہ میں انہیں دنیا قیام کم معلوم ہوگا۔

(٤) محشر کے طویل دن کے مقابلہ میں (جو پچاس ہزار سال کے برابر ہوگا) انہیں دنیا میں قیام کم معلوم ہوگا۔

(٥) ہرچند کہ انسان کو دنیا میں لذتیں بھی حاصل ہوتی ہیں مگر وہ لذتیں آلام اور مصائب کے ساتھ مقرون ہوتی ہیں اور آخرت کا عذاب خالص عذاب ہوتا ہے۔ اس لیے دنیا کی لذتیں بہت بھی ہوں تو تھوڑی معلوم ہوں گی۔ اس کے بعد فرمایا : وہ ایک دوسرے کو پہچان لیں گے، بیشک وہ لوگ نقصان میں رہے جنہوں نے اللہ کے سامنے حاضر ہونے کو جھٹلایا تھا۔ مشرکیں جو ایک دوسرے کو پہچانیں گے اس میں ان کے لیے زجر و توبیخ ہے، ایک دوسرے سے کہے گا تو نے مجھے گمراہ کردیا اور مجھے دوزخ کا مستحق بنادیا۔ (زاد المسیر ج ٤ ص ٣٦) جب وہ قبر سے اٹھیں گے تو ایک دوسرے کو پہچان لیں گے جیسا کہ دنیا میں ایک دوسرے کو پہچانتے تھے، پھر قیامت کے ہولناک اور دہشت ناک مناظر کو دیکھ کر وہ ایک دوسرے کو شناخت نہیں کرسکیں گے، بعض روایات میں ہے کہ انسان اس شخص کو پہچانتا ہوگا جو اس کے پہلو میں کھڑا ہوگا لیکن خوف اور دہشت کی وجہ سے اس سے بات نہیں کرسکے گا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اور اگر ہم آپ کو اس عذاب کا بعض حصہ دکھا دیں جس سے ہم نے ان کو ڈرایا ہے یا آپ کی مدت حیات پوری کردیں تو ان کو تو (بہرحال) اللہ ہی کی طرف لوٹنا ہے۔ یہ آیت اس پر دلالت کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول کو دنیا میں کفار کی ذلت اور رسوائی کی کچھ انواع دکھائے گا اور آپ کے وصال کے بعد ان کو مزید ذلت اور رسوائی میں مبتلا فرمائے گا، اور اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حیات مبارکہ میں بھی وہ ذلت اور رسوائی میں مبتلا ہوئے جیسا کہ جنگ بدر اور احزاب وغیرہ میں اور آپ کے بعد بھی ذلیل ہوئے جیسا کہ متعدد جنگوں میں ہوا اور قیامت تک رسوا ہوتے رہیں گے اور اس میں یہ اشارہ ہے کہ نیک لوگوں کا انجام محمود اور مستحسن ہوگا اور رسوائی بدکاروں کا مقدر ہوگی۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 10 يونس آیت نمبر 45