أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَكَانُوۡا يَتَّقُوۡنَؕ ۞

ترجمہ:

جو ایمان لائے اور (ہمیشہ) متقی رہے

تفسیر:

جاری ۔۔

امام اعظم کے اخلاق، زہد وتقویٰ ، عبادت اور خوف خدا : امام ابن بزاز کردری متوفی ٨٢٧ ھ لکھتے ہیں : امام زعفرانی لکھتے ہیں کہ ایک مرتب ہ ہارون الرشید نے امام ابویوسف سے کہا کہ امام ابوحنیفہ کے اوصاف بیان کیجیے۔ فرمایا : امام اعظم محارم سے شدید اجتناب کرتے تھے۔ بلاعلم، دین میں کوئی بات کہنے سے سخت ڈرتے تھے۔ وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت میں انتہائی مجاہدہ کرتے، اہل دنیا کے منہ پر کبھی ان کی تعریف نہیں کرتے تھے۔ اکثر خاموش رہتے اور مسائل دینیہ میں غور و فکر کرتے رہتے تھے۔ اتنے عظیم علم کے باوجود بےحد سادہ اور منکسر المزاج تھے جب ان سے کوئی سوال پوچھا جاتا تو کتاب و سنت کی طرف رجوع کرتے اور اگر اس کی نظیر قرآن و حدیث میں نہ ملتی تو پھر قیاس کرتے۔ نہ کسی شخص سے طمع کرتے اور نہ بھلائی کے سوا کبھی کسی کا تذکرہ کرتے۔ ہارون الرشید یہ سنتے ہی کہنے لگا : صالحین کے اخلاق ایسے ہی ہوتے ہیں، پھر اس نے کاتب کو ان اوصاف کے لکھنے کا حکم دیا اور اپنے بیٹے سے کہا : ان اوصاف کو یاد کرلو۔ (مناقب کر دری ج ١ ص ٢٢٦) علامہ ابن حجر ہیتمی مکی متوفی ٩٧٣ ھ لکھتے ہیں : امام ابویوسف فرماتے ہیں کہ امام اعظم اگر کسی کو کچھ عطا فرماتے اور وہ اس پر ان کا ممنون ہوتا تو آپ کو بےحد افسوس ہوتا۔ فرماتے : شکر کا مستحق و صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے جس کا دیا ہوا مال میں نے تم تک پہنچایا ہے۔ امام ابویوسف نے کہا کہ امام اعظم بیس سال تک میری اور میرے اہل و عیال کی کفالت فرماتے رہے۔ ایک دن میں نے عرض کیا کہ میں نے آپ جیسا فیاض کوئی شخص نہیں دیکھا۔ فرمایا : تم نے حماد کو نہیں دیکھا ورنہ ایسا کبھی نہ کہتے۔ شفیق بیان کرتے ہیں کہ میں امام اعظم کے ساتھ بازار جا رہا تھا، راستہ میں ایک شخص آپ کو دیکھ کر چھپ گیا۔ آپ نے اس کو بلا کر چھپنے کی وجہ پوچھی۔ اس نے بتایا کہ میں نے آپ کے دس ہزار درہم دینے ہیں، کافی عرصہ گزر چکا لیکن میں تنگ دستی کی وجہ سے نہیں دے سکا اس لیے شرم کی وجہ سے آپ کو دیکھ کر چھپ گیا تھا۔ اس کی اس گفتگو کو سن کر آپ پر بڑا گہرا اثر ہوا اور فرمایا : جائو میں خدا کو گواہ کر کے تمہار سارا قرضہ معاف کرتا ہوں۔ (الخیرات الحسان ص ٩٥) امام رازی لکھتے ہیں کہ ایک مرتبہ امام اعظم کسی جگہ جا رہے تھے۔ راستہ میں کیچڑ تھی۔ ایک جگہ آپ کے پیر کی ٹھو کر سے کیچڑ اڑ کر کسی شخص کے مکان کی دیوار سے جا لگی۔ آپ پریشان ہوگئے کہ اگر کیچڑ اکھاڑ کر دیوار صاف کی جائے تو دیوار کی مٹی بھی اتر آئے گی اور اگر یونہی چھوڑ دیا جائے تو ایک شخص کی دیوار خراب ہوتی ہے۔ اس پریشانی میں تھے کہ صاحب خانہ باہر آیا، اتفاق سے وہ شخص یہودی تھا اور آپ کا مقروض تھا۔ آپ کو دیکھ کر سمجھا کہ قرض مانگنے آئے ہیں۔ پریشان ہو کر عذر پیش کرنے لگا۔ آپ نے فرمایا : قرض کو چھوڑو میں تو اس خلجان میں ہوں کہ تمہاری دیوار کو صاف کیسے کروں۔ کیچڑ کھرچوں تو خطرہ ہے دیوار سے کچھ مٹی بھی اتر آئے گی اور اگر یونہی رہنے دوں تو تمہاری دیوار گندی ہوتی ہے۔ یہ بات سن کر یہودی بےساختہ کہنے لگا : حضور دیوار کو بعد میں صاف کیجیے گا پہلے کلمہ پڑھا کر میرا دل پاک کردیں۔ امام اعظم عبادت و ریاضت میں قدم راسخ رکھتے تھے۔ ان کی عبادت و ریاضت کا جو حال غیرحنفی علماء نے بیان کیا ہے وہ عادت سے اس قدر بعید اور اتنا حیرت انگیز ہے کہ آج کی عیش کوش اور تن آسان دنیا اس کا تصور بھی نہیں کرسکتی۔ حنفی شافعی بلکہ ملت اسلامیہ کے علماء کے درمیان یہ بات بےحد استفاضہ سے زیادہ معروف ہے کہ امام ابوحنیفہ چالیس سال تک عشاء کے وضو سے صبح کی نماز پڑھتے تھے لیکن زمانہ قریب کے مشہور مورخ جناب شبلی صاحب نے اس واقعہ سے سراسر انکار اور اس کو عقل کے خلاف قرار دیا ہے۔ دراصل گمراہی کی سب سے پہلی بنیاد یہ ہے کہ ہم اپنی عقل و فراست اور اپنے اخلاق و کردار کے میزان سے صالحین امت کے کارناموں کو تولنا شروع کردیں۔ غور کیجیے امام بخاری کو تین لاکھ احادیث زبانی یاد تھیں۔ کیا آج کی دنیا کے لوگوں کی قوت حافظَہ کو سامنے رکھ کر یہ باور کرنا ممکن ہے۔ کیا یہ امر واقعہ نہیں کہ امام شمس الدین سرخسی نے تیس ضخیم مجلدات پر مشتمل ’ مبسوط “ جیسی عظیمن کتاب بغیر کسی کتاب کے مطالعہ کے زبانی املا کرائی اور صرف ” مبسوط “ ہی نہیں، امام سرخسی نے ” مبسوط “ جیسی کئی ضخیم کتابیں قیدخانہ میں بغیر مطالہ کے زبانی املاء کرائیں۔ کیا آج کے لوگوں کی قوت علمیہ کو سامنے رکھ کر یہ باور کرنا ممکن ہے کہ کوئی شخص محض حافظہ کی بنیاد پر اتنا عظیم کام کرسکتا ہے جس طرح سلف صالحین کا یہ گروہ اپنی قوت علمیہ کے اعتبار سے ہم سے آگے تھا اس طرح یہ نفوس قدسیہ اپنی قوت عملیہ کے لحاظ سے بھی ہمارے وہم و گمان سے بہت بلند تھے۔ علامہ ابن حجر ہیتمی مکی متوفی ٩٧٣ ھ لکھتے ہیں : امام ابویوسف (رح) تحریر فرماتے ہیں کہ آپ کی شب بیداری کا سبب یہ تھا کہ ایک بار ایک شخص نے آپ کو دیکھ کر کہا : یہ وہ شخص ہیں جو عبادت میں پوری رات جاگ کر گزارتے ہیں۔ امام ابوحنیفہ نے یہ سنا تو فرمانے لگے : ہمیں لوگوں کے گمان کے مطابق بننا چاہیے۔ اس وقت سے آپ نے رات کو جاگ کر عبادت کرنی شروع کی یہاں تک کہ عشاء کے وضو سے صبح کی نماز پڑھا کرتے اور چالیس سال تک لگاتار اس معمول پر قائم رہے۔ (الخیرات الحسان ص ٨٢) فضل بن وکیل کہتے ہیں کہ میں نے تابعین میں امام ابوحنیفہ کی طرح کسی شخص کو شدت خشوع سے نماز پڑھتے ہوئے نہیں دیکھا۔ دعا مانگتے وقت خوف خداوندی سے آپ کا چہرہ زرد ہوجاتا تھا اور کثرت عبادت کی وجہ سے آپ کا بدن کسی سال خوردہ مشک کی طرح مرجھایا ہوا معلوم ہوتا تھا۔ ایک بار آپ نے رات کو نماز میں قرآن کریمن کی آی مبارکہ بل الساعۃ موعدھم والساعۃ ادھی وامر کی تلاوت کی پھر اس کی قرات سے آپ پر ایسا کیف طاری ہوا کہ بار بار اس آیت کو دہراتے رہے یہاں تک کہ موذن نے صبح کی اذان کہہ دی۔ (الخیرات الحسان ص ٨٣)

افعال خارقہ (خلاف عادت کاموں) کی اقسام اور کرامت کی تعریف : دراصل اللہ کا ولی وہی شخص ہوتا ہے جو کامل مسلمان ہو۔ وہ خلوت و جو لت میں اللہ تعالیٰ کا عبادت گزار ہو اور ہر قسم کے گناہوں کی آلودگی سے اس کا دامن پاک ہو خواہ اس سے کسی کرامت کا ظہور ہوا ہو یا نہیں، تاہم بعض اوقات اولیاء اللہ سے کرامتوں کا ظہور بھی ہوتا ہے۔ اس وجہ سے ہم کرامت کی تحقیق کرنا چاہتے ہیں، پہلے ہم خرق عادت کاموں کی اقسام بیان کریں گے جس کے ضمن میں کرامت کی تعریف آجائے گی پھر ہم کرامت کے ثبوت میں قرآن مجید اور احادیث صحیحہ سے دلائل پیش کریں گے، فنقول وباللہ التوفیق۔ خلاف عادت کاموں کی حسب ذیل اقسام ہیں : (١) ارہاص : اعلان نبوت سے پہلے نبی سے جو خلاف عادت امور صادر ہوں جیسے یہ حدیث ہے : حضرت جابر بن سمرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں مکہ میں ایک پتھر کو پہچانتا ہوں جو اعلان نبوت سے پہلے مجھ پر سلام عرض کرتا تھا، میں اس کو اب بھی پہچانتا ہوں۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٢٧٧) (٢) معجزہ : اعلان نبوت کے بعد نبی سیجو خلاف عادت امور صادر ہوں اور وہ اس کے دعویٰ نبوت کے موید ہوں جیسے سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا اللہ کے کلام کو اس چیلنج کے ساتھ پیش کرنا کہ کوئی شخص اس کلام کی نظیر نہیں لاسکتا اور اس کے علاوہ آپ کے بکثرت معجزات ہیں۔ (٣) کرامت : وہ کامل مسلمان جو کسی نبی کی شریعت کا متبع اور مبلغ ہو اس سے ایسے خلاف عادت امور ظاہر ہوں جن سے اس کے مرتبہ اور مقام کا علم ہو اور وہ امور اس کے نبی کے موید ہوں وہ ازخود مدعی نبوت نہ ہو۔ (٤) معونت کسی عام مسلمان سے کسی خلاف عادت کام کا ظہور ہو۔ (٥) استدراج : کافر سے کسی خلاف عادت کام کا ظہور ہو۔ (٦) اہانت جھوٹے نبی سے خلاف عادت کام کا ظہور ہو اور وہ اس کے دعویٰ کا مکذب ہو جیسے مسیلمہ کذاب سے کسی کا نے کہا : آپ نبی ہیں تو دعا کریں میری کانی آنکھ ٹھیک ہوجائے۔ اس نے دعا کی تو اس کی دوسری آنکھ کی بینائی بھی جاتی رہی۔ اسی طرح اس نے ایک کنوئیں میں تھوکا اور یہ دعویٰ کیا کہ اس کا پانی میٹھا ہوجائے گا تو اس کا پانی کڑوا ہوگیا، یا جیسے غلام احمد قادیانی نے دعویٰ کیا کہ محمدی بیگم سے اس کا نکاح ہوجائے گا لیکن اس کا نکاح مرزا سلطان محمد سے ہوگیا، پھر اس نے دوبارہ دعویٰ کیا کہ شادی کے اڑھائی سال بعد مرزا سلطان محمد مرجائے گا اور محمدی بیگم اس کے نکاح میں آجائے گی لیکن خود مرزا غلام احمد مرگیا اور اس کی موت کے بعد دیر تک مرزا سلطان محمد زندہ رہا، اسی طرح مرزا قادیانی نے پیشگوئی کی کہ عیسائی پادری آتھم ٥ ستمبر ١٨٩٤ ء کو مرجائے گا لیکن وہ زندہ رہا اور عیسائیوں نے بڑی شان و شوکت سے اس کا جلوس نکالا، مرزا قادیانی نے ١٥ اپریل ١٩٠٧ ء کو ایک اشتہار شائع کیا، اس میں مولانا ثناء اللہ امرتسری کو مخاطب کر کے لکھا : اگر میں ایسا ہی کذاب اور مفتری ہوں جیسا کہ آپ کہتے ہیں تو میں آپ کی زندگی میں ہی ہلاک ہو جائوں گا اگر وہ سزا جو انسان کے ہاتھوں نہیں بلکہ محض خدا کے ہاتھوں سے ہے جیسے طاعون، ہیضہ وغیرہ مہلک بیماریاں آپ پر میری زندگی میں وارد نہ ہو سکیں تو میں خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں لیکن خدا کا کرنا یہ ہوا کہ مولانا ثناء اللہ امرتسری کی زندگی میں مرزا غلام احمد قادیانی ہیضہ میں مبتلا ہو کر مر گی اور وہ اس کے بعد دیر تک زندہ رہے اور مرزا قادیانی کی تمام پیش گوئیاں الٹ گئیں اور اس کے دعویٰ کی مکذب ہوئیں اور اسی کو اہانت کہتے ہیں۔

اولیاء اللہ کی کرامات کے ثبوت میں قرآن مجید کی آیات : قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ان اکرمکم عنداللہ اتقکم۔ (الحجرات : ١٣) بیشک تم میں سب سے زیادہ صاحب کرامت وہ ہے جو سب سے زیادہ متقی ہو۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ صاحب کرامت کا اطلاق اس شخص پر ہوگا جو متقی ہو اور اصطلاح میں جو کرامت کا معنی ہے یعنی جس متقی شخص سے کسی خلاف عادت فعل کا ظہور ہو اس کے ثبوت میں حسب ذیل آیات ہیں : قال الذی عندہ علم من الکتاب انا اتیک بہ قبل ان یرتد الیک طرفک فلما راہ مستقرا عندہ قال ہذا من فضل ربی۔ (النمل : ٤٠) جس کے پاس کتاب کا علم تھا اس نے کہا : میں اس تخت کو آپ کے پاس پلک جھپکنے سے پہلے لے آتا ہوں تو جب سلیمان نے اس تخت کو اپنے پاس رکھا ہوا دیکھا تو کہا : یہ میرے رب کا فضل ہے۔ علامہ آلوسی نے لکھا ہے کہ یہ تخت دو ماہ کی مسافت پر واقع تھا اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی امت کے ایک ولی نے اسے پلک جھپکنے سے پہلے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے سامنے حاضر کردیا۔ علامہ قرطبی نے لکھا ہے : جمہور کے نزدیک اس شخص کا نام آصف بن برخیا تھا۔ حافظ اسماعیل بن عمر بن کثیر متوفی ٧٧٤ ھ لکھتے ہیں : مجاہد، سعید بن جبیر، محمد بن اسحٰق، زہیر بن محمد وغیرہم نے کہا ہے کہ وہ تخت یمن میں تھا اور حضرت سلیمان شام میں تھے جب آصف بن برخیا نے اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کی کہ وہ بلقیس کے تخت کو لے آئے تو وہ تخت زمین کے اندر سے گھسا اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے سامنے نکل آیا۔ (تفسیر ابن کثیر ج ٣ ص ٤٠٠، مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت، ١٤١٩ ھ) نیز علامہ محمود آلوسی متوفی ١٢٧٠ ھ لکھتے ہیں : شیخ اکبر قدس سرہ نے کہا ہے کہ آصف نے عین عرش (تخت) میں تصرف کیا، اس نے عرش کو اس کی جگہ پر معدم کردیا اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے سامنے موجود کردیا اور آصف کا قول ہی ان کا فعل تھا کیونکہ کامل کا قول اللہ تعالیٰ کے کن فرمانے کے حکم میں ہے۔ شیخ اکبر نے جو ذکر کیا ہے وہ میرے نزدیک جائز ہے البتہ یہ ظاہر آیت کے خلاف ہے اور اس آیت سے اولیاء اللہ کی کرامات کے ثبوت پر استدلال کیا گیا ہے۔ (روح المعانی ج ١١ ص ٣٠٦، مطبوعہ دارالفکر بیروت، ١٤١٧ ھ) شیخ اشرف علی تھانوی متوفی ١٣٦٤ ھ لکھتے ہیں : سوال سلیمان کا بطور امتحان اور اظہار عجز جنات کے ہوگا (الی قولہ) کہ آپ کو معلوم ہو کہ اس صحابی سے یہ کرامت صادر ہوگی اور سوال کرنا جنات کو سنانا اور دکھلانا ہو کہ جو قوت میرے مستفیدین میں ہے وہ تم میں بھی نہیں۔ (بیان القرآن ج ٢ ص ٧٤٧، مطبوعہ تاج کمپنی لمیٹڈ لاہور) شیخ شبیر احمد عثمانی متوفی ١٣٦٩ ھ لکھتے ہیں : راجح یہ ہی معلوم ہوتا ہے کہ وہ شخص حضرت سلیمان کا صحابی اور وزیر آصف بن برخیا ہے جو کتب سماویہ کا عالم اور اللہ کے اسماء اور کلام کی تاثیر سے واقف تھا، اس نے عرض کیا کہ میں چشم زون میں تخت کو حاضر کرسکتا ہوں۔ آپ کسی طرف دیکھیے قبل اس کے آپ ادھر سے نگاہ ہٹائیں تخت آپ کے سامنے رکھا ہوگا۔ (حضرت سلیمان نے فرمایا : یہ میرے رب کا فضل ہے) اس کی تفسیر میں لکھتے ہیں : یعنی یہ ظاہر کے اسباب سے نہیں آیا، اللہ کا فضل ہے کہ میرے رفیق اس درجہ کو پہنچے جن سے ایسی کرامات ظاہر ہونے لگیں اور چونکہ ولی کی خصوصاً صحابی کی کرامت اس کے نبی کا معجزہ اور اس کے اتباع کا ثمرہ ہوتا ہے اس لیے حضرت سلیمان پر بھی اس کی شکرگزاری عائد ہوئی۔ (حاشیہ عثمانی برترجمہ محمود حسن ص ٥٠٦، مطبوعہ باہتمام مملکتہ السعودیہ) اولیاء اللہ کی کرامت کے ثبوت میں دوسری آیت یہ ہے : کلما دخل علیھا زکریا المحراب وجد عندھا رزقا قال یمریم انی لک ہذا قالت ھو من عنداللہ ان اللہ یرزق من یشاء بغیر حساب (آل عمران : ٣٧) جب بھی زکریا اس کے پاس اس کی عبادت کے حجرے میں داخل ہوتے تو اس کے پاس تازہ رزق (موجود) پاتے، انہوں نے کہا : اے مریم ! تمہارے پاس یہ (رزق) کہاں سے آیا ؟ مریم نے کہا : یہ (رزق) اللہ کے پاس سے آیا ہے، بیشک اللہ جسے چاہے بےحساب رزق عطا فرماتا ہے۔ حافظ اسماعیل بن عمر بن کثیر متوفی ٧٧٤ ھ لکھتے ہیں : مجاہد، عکرمہ، سعید بن جبیر، ابوالشعثاء، باراہیم نخعی، ضحاک، قتادہ اور ربیع بن انس وغیرہم نے کہا ہے کہ حضرت زکریا حضرت مریم کے پاس گرمیوں کے پھل سردیوں میں دیکھتے تھے اور سردیوں کے پھل گرمیوں میں دیکھتے تھے اور اس میں اولیاء اللہ کی کرامت پر دلیل ہے اور سنت میں اس کی بہت نظائر ہیں۔ (تفسیر ابن کثیر ج ١ ص ٤٠٧، مطبوعہ دارالفکر بیروت، ١٤١٩ ھ) نواب صدیق حسن خاں بھوپالی متوفی ١٣٠٧ ھ لکھتے ہیں : یہ اولیاء اللہ کی کرامت کے جواز پر دلیل ہے۔ (فتح البیان ج ٢ ص ٢٢٦، مطبوعہ المکتبہ العصریہ، ١٤١٥ ھ) اس سلسلہ میں یہ آیات ہیں : ام حسبت ان اصحب الکہف والرقیم کانوا من ایتنا عجبا اذ اوی الفتیۃ الی الکہف فقالوا ربنا اتنا من لدنک رحمۃ وھی لنا من امرنا رشدا فضر بنا علی اذانہم فی الکہف سنین عددا ثم بعثنہم لنعلم ای الحزبین احصی لما لبثوا امدا۔ (١ لکہف : ١٢۔ ٩) کیا آپ نے سمجھا کہ اصحاب کہف (غار والے) اور کتبے والے، ہماری نشانیوں میں سے ایک عجیب نشانی تھے جب ان نوجوانوں نے غار میں پناہ لی تو کہا : اے ہمارے رب ! ہمیں اپنی طرف سے رحمت عطا فرما اور ہمارے کام میں ہماری کامیابی کے اسباب مہیا فرما دے پھر ہم نے انہیں غار میں کئی سال تک گہری نیند سلا دیا پھر ہم نے انہیں (نیند سے) اٹھایا تاکہ ہم یہ ظاہر کردیں کہ غار میں ان کے ٹھہرنے کی مدت کو دو جماعتوں میں سے کس نے زیادہ یاد رکھا ہے ظاہر قرآن اور حضرت ابن عباس کی روایت کے مطابق اصحاب کہف سات نوجوان تھے۔ یہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے پہلے دقیانوس بادشاہ کے زمانہ میں تھے۔ دقیانوس لوگوں کو بت پرستی پر مجبور کرتا تھا، ان نوجوانوں کی فطرت سلیمہ تھی، ان کا عقیدہ تھا کہ عبادت صرف اللہ کی ہونی چاہیے۔ یہ بادشاہ کے ظلم سے ڈر کر ایک غار میں چلے گئے وہاں اللہ تعالیٰ نے ان پر نیند مسلط کردی اور یہ تین سو یا تین سو نو سال تک سوتے رہے، پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو نیند سے اٹھا دیا۔ یہ صبح کے وقت سوئے تھے اٹھے تو دن ڈھل رہا تھا یہ سمجھے کہ یہ دن کا کچھ وقت سوئے ہیں۔ ان میں کا ایک جوان شہر میں کچھ کھانے پینے کی چیزیں لینے گیا۔ وہاں جا کر پتا چلا کہ ان کو تو کئی صدیاں گزر چکی ہیں، ان کا سکہ دیکھ کر لوگ بہت حیران ہوئے کہ یہ کس بادشاہ کا سکہ ہے ؟ بالآخر معلوم ہوا کہ یہ وہی جوان ہیں جو کسی زمانہ میں غائب ہوگئے تھے، اس زمانہ میں مرنے کے بعد دوبارہ اٹھنے میں بہت اختلاف ہوتا تھا، ان کے واقعات سے حیات بعد الموت پر دلیل قائم ہوگئی۔ امام فخرالدین محمد بن عمر رازی متوفی ٦٠٦ ھ لکھتے ہیں : ہمارے اصحاب صوفیہ نے اس آیت سے کرامات کے قول کی صحت پر استدلال کیا ہے اور یہ استدلال بالکل ظاہر ہے۔ (تفسیر کبیر ج ٧ ص ٤٣٠، مطبوعہ دارالفکر بیروت، ١٤١٥ ھ)

اولیاء اللہ کی کرامت کے ثبوت میں احادیث صحیحہ اور کرامت کے اختیاری ہونے پر علاء کی تصریحات : حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تین شخص سفر پر جا رہے تھے۔ راستہ میں انہیں بارش نے آلیا، انہوں نے ایک پہاڑ کے غار میں پناہ لی۔ اس غار کے منہ پر پہاڑ سے ایک بہت بڑا پتھر ٹوٹ کر گرپڑا اور غار کا منہ بند ہوگیا۔ تب انہوں نے ایک دوسرے سے کہا، سوچو تم نے اللہ کے لیے کوئی نیک عمل کیا ہو تو اس کے وسیلہ سے دعا کرو، شاید اللہ تمہاری نجات کی کوئی صورت پیدا کر دے۔ ان میں سے ایک نے یہ دعا کی : اے اللہ ! میرے دو بوڑھے ماں باپ تھے اور میری بیوی تھی اور ایک چھوٹی بچی تھی، میں ان سب کی خوردونوش کا انتظام کرتا تھا جب میں شام کو گھر آتا تو اپنے بچوں سے پہلے اپنے ماں باپ کو دودھ پلاتا، ایک دن مجھے دیر ہوگئی میں شام سے پہلے نہ پہنچ سکا میرے ماں باپ سو چکے تھے میں حسب معمول دودھ لے کر ان کے سرہانے کھڑا رہا اور میں نے ان کو نیند سے بیدار کرنا ناپسند کیا، اور میں نے یہ بھی ناپسند کیا کہ میں اپنی بچی کو ان سے پہلے دودھ پلا دوں، بچی میرے قدموں میں بھوک سے روتی رہی اور میں صبح تک اسی طرح کھڑا رہا۔ اے اللہ ! تجھے خوب معلوم ہے کہ میرا یہ عمل محض تیری رضا کے لیے تھا، سو تو ہمارے لیے کچھ کشادگی کر دے تاکہ ہم آسمان کو دیکھ سکیں تب اللہ نے کشادگی کردیا (وہ پتھر کچھ سرک گیا) اور انہوں نے اس کشادگی سے آسمان کو دیکھ لیا اور دوسرے نے دعا کی : اے اللہ ! میری ایک عم زاد بہن تھی جس سے میں بہت محبت کرتا تھا، جیسا کہ مرد عورتوں سے محبت کرتے ہیں، میں اس سے اپنی خواہش پوری کرنے کا سوال کرتا تھا، اس نے کہا پہلے سو دینار لائو، میں نے محنت مشقت کر کے سو دینار جمع کیے اور وہ دینار اس کو دے دیئے، جب میں اس سے اپنی خواہش پوری کرنے لگا تو اس نے کہا اے اللہ کے بندے ! اللہ سے ڈر اور ناحق مہر کو نہ توڑ پس میں اس سے الگ ہوگیا (اے اللہ) تجھے خوب معلوم ہے کہ میرا یہ عمل تیری رضاجوئی کے لیے تھا تو ہمارے لیے کچھ کشادگی کر دے ! تو ان کے لیے کشادگی کردی ! اور تیسرے نے دعا کی : اے اللہ ! میں نے چاولوں کے ایک ٹوکرے کے عوض ایک مزدور طلب کیا جب اس نے اپنا کام پورا کرلیا تو اس نے کہا مجھے میرا حق دو میں نے اس کو وہ ٹوکرا دیا، اس نے اس سے اعراض کیا میں نے ان چاولوں سے کاشت کرنی شروع کردی اور اس کی آمدنی سے میں نے بہت سی گائیں اور چرواہے جمع کرلیے۔ ایک دن وہ آیا اور اس نے کہا اللہ سے ڈر اور مجھے میرا حق دے، میں نے کہا یہ گائیں اور چرواہے لے جائو اس نے کہا اللہ سے ڈرو اور مجھ سے مذاق نہ کرو۔ میں نے کہا میں تم سے مذاق نہیں کر رہا، یہ گائیں اور چرواہے لے جائو وہ ان کو لے گیا۔ (اے اللہ ! ) تجھے خوب معلوم ہے کہ میں نے یہ عمل صرف تیری رضاجوئی کے لیے کیا تھا سو تو یہ باقی رکاوٹ بھی دور کر دے تو اللہ تعالیٰ نے بقیہ کشادگی بھی کردی۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٢٣٣٣، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٧٤٣) اس حدیث میں اولیاء اللہ کی کرامت کا ثبوت ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان تینوں کی دعا قبول فرمائی اور بغیر کسی ظاہری سبب کے غار کے منہ سے پتھر ہٹا دیا اور ان کے لیے خرق عادت کا ظہور ہوا، نیز اس سے معلوم ہوا کہ مصیبت کے وقت اللہ تعالیٰ سے دعا کرنی چاہیے اور اللہ تعالیٰ نیک لوگوں کی دعا قبول فرماتا ہے اور یہ کہ نیک اعمال کے وسیلہ سے دعا کرنی چاہیے اور جب نیک اعمال کے وسیلہ سے دعا قبو ول ہوتی ہے تو نیک ذوات کے وسیلہ سے بھی دعا قبول ہوگی اور سب سے زیادہ نیک ذات سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات گرامی ہے تو آپ کے وسیلہ سے بھی دعا کا قبول ہونا زیادہ متوقع ہے، اس حدیث میں ماں باپ کے ساتھ نیکی کرنے، ان کی خدمت کرنے اور ان کو اپنے بچوں پر ترجیح دینے کی فضیلت ہے اور محض اللہ کے لیے قدرت کے باوجود گناہ کو ترک کردینا اور پاک دامنی کو اختیار کرنے کی فضیلت ہے اور مزدور کی اجرت کو اچھی طرح سے ادا کرنا اور امانت کی حفاظت کرنے پر ترغیب ہے۔ حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : صرف تین (نوزائیدہ بچوں) نے پالنے میں کلام کیا ہے، حضرت عیسیٰ بن مریم، جریج کا صاحب (اور ایک اور بچہ) جریح ایک عبادت گزار شخص تھا، اس نے ایک عبادت گاہ بنا لی، وہ اس میں عبادت کرتا تھا۔ اس کی ماں اس کے پاس اس وقت آئی جس وقت وہ نماز پڑھ رہا تھا۔ اس نے کہا : اے جریج ! اس نے (دل میں) کہا اے میرے رب ! (ایک طرف) میری ماں ہے اور (ایک طرف) میری نماز ہے پھر وہ نماز پڑھتا رہا اس کی ماں لوٹ گئی۔ دوسرے دن وہ پھر اس وقت آئی جب وہ نماز پڑھ رہا تھا، اس نے کہا اے جریج ! اس نے (دل میں) کہا اے میرے رب ! (ایک طرف) میری ماں ہے ! اور (ایک طرف) میری نماز ہے اور پھر وہ نماز پڑھتا رہا، اس کی ماں لوٹ گئی۔ تیسرے دن وہ پھر اس وقت آئی جب وہ نماز پڑھ رہا تھا۔ اس نے آواز دی اے جریج ! اس نے (دل میں) کہا اے میرے رب ! (ایک طرف) میری ماں ہے اور (ایک طرف) میری نماز ہے اور وہ نماز پڑھتا رہا۔ اس کی ماں لوٹ گئی اور اس نے یہ بددعا دی ! اے اللہ اس کو اس وقت تک موت نہ دینا جب تک اس کا سابقہ بدکار عورتوں سے نہ پڑجائے اور بنو اسرائیل میں جریج اور اس کی عبادت کا بہت چرچا تھا اور ایک بدکار عورت تھی اس کے حسن و جمال کا بھی بہت ذکر کیا جاتا تھا اس نے کہا اگر تم چاہو تو میں اس کو گناہ میں ملوث کر دوں، وہ اس کے پاس گئی اور اس کو بدکاری پر اکسایا۔ جریج نے اس کی طرف بالکل توجہ نہیں کی، ایک چرواہا اس عبادت گاہ میں رہتا تھا اس عورت نے اس سے خواہش پوری کرلی اور وہ اس سے حاملہ ہوگئی جب بچہ پیدا ہوگیا تو اس نے کہا یہ جریج سے ہوا ہے۔ لوگ جریج کے پاس گئے، اس کو عبادت گاہ سے نکالا اور مارنا شروع کردیا اور اس کی عبادت گاہ کو منہدم کردیا۔ اس نے لوگوں سے پوچھا تم مجھے کیوں مار رہے ہو ؟ انہوں نے کہا تم نے اس بدکار عورت سے زنا کیا ہے اور اس سے تمہارا بچہ پیدا ہوگیا ہے۔ جریج نے کہا وہ بچہ کہاں ہے ؟ وہ اس بچہ کو لے کر آئے، اس نے کہا : اچھا مجھے نماز پڑھنے کی مہلت دو ۔ اس نے نماز پڑھی، نماز سے فارغ ہونے کے بعد وہ اس بچہ کے پاس گیا اور اس کے پیٹ میں انگلی چبھوئی اور کہا : اے بچے ! تیرا باپ کون ہے ؟ بچہ نے کہا : فلاں چرواہا ! تب لوگ جریج کی طرف بڑھے، اس کو تعظیم سے چوم رہے تھے اور اس کو مس کر رہے تھے اور کہنے لگے : ہم آپ کے لیے سونے کی عبادت گاہ بنا دیتے ہیں۔ جریج نے کہا : نہیں، اس کو اسی طرح مٹی کی بنادو جس طرح وہ تھی۔ سو انہوں نے ویسی ہی بنادی۔ اور پچھلی امتوں میں ایک بچہ اپنی ماں کی گود میں دودھ پی رہا تھا، وہاں سے ایک قوی سواری پر خوبصورت پوشاک پہنے ایک سوار گزرا۔ اس کی ماں نے کہا : اے اللہ ! میرے بیٹے کو اس کی مثل بنا دے ! اس بچے نے دودھ چھوڑ کر اس آدمی کی طرف دیکھا اور کہا : اے اللہ ! مجھے اس کی مثل نہ بنانا اور پھر دودھ پینا شروع کردیا پھر ان کا گزر ایک باندی کے پاس سے ہوا جس کو لوگ مار رہے تھے اور یہ کہہ رہے تھے کہ تو نے زنا کیا ہے اور تو نے چوری کی ہے۔ اس کی ماں نے کہا : اے اللہ ! میرے بیٹے کو اس کی مثل نہ بنانا، اس بچے نے دودھ چھوڑ کر اس باندی کی طرف دیکھا اور کہا : اے اللہ ! مجھے اس کی مثل بنادینا۔ اس کی ماں نے کہا : تیرا سر مونڈا جائے، ایک آدمی خوبصورت پوشاک پہنے اچھی سواری پر گزرا تو میں نے دعا کی : اے اللہ ! میرے بیٹے کو اس کی مثل بنادینا تو تو نے کہا : اے اللہ ! مجھے اس کی مثل نہ بنانا اور جس باندی کو لوگ مار رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ تو نے زنا کیا ہے، تو نے چوری کی ہے اور میں نے دعا کی کہ اے اللہ ! میرے بیٹے کو اس کی مثل نہ بنانا تو تو نے کہا : اے اللہ ! مجھے اس کی مثل بنانا۔ اس بچے نے کہا : وہ آدمی ایک ظالم شخص تھا تو میں نے دعا کی : اے اللہ ! مجھے اس کی مثل نہ بنانا اور وہ باندی جس کے متعلق لوگ کہہ رہے تھے کہ تو نے زنا کیا ہے تو نے چوری کی ہے، اس نے زنا کیا تھا نہ چوری کی تھی اس لیے میں نے کہا : مجھے اس کی مثل بنانا۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٣٤٣٦، ٢٤٨٢، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٥٥٠، مسند احمد ج ٢ ص ٣٠٧، دارالفکر طبع قدیم، مسند احمد رقم الحدیث، ٨٠٥٧، طبع جدید، دارالحدیث قاہرہ و عالم الکتب بیروت، جامع المسانید ج ٧ ص ١٨٤) اس جگہ یہ اعتراض ہوتا ہے کہ جب جریج نماز میں مشغول ہونے کی وجہ سے ماں کے بلانے پر نہیں جاسکا تو ماں نے اس کو بددعا کیوں دی ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ جریج پر لازم تھا وہ جلدی سے نماز ختم کر کے ماں کے بلانے پر ماں کے پاس چلا جاتا، لیکن وہ نماز ختم کرنے کے بعد بھی ماں کے پاس نہیں گیا حتیٰ کہ وہ دوسرے دن پھر بلانے گئی اور وہ دوسرے دن بھی نہیں گیا حتیٰ کہ وہ تیسرے دن پھر بلانے گئی اور جب اس کی طرف سے کوئی مثبت ردعمل ظاہر نہیں ہوا تو پھر تنگ آ کر ماں نے بددعا دی اور اللہ تعالیٰ نے اس کی دعا قبول فرمائی اور جریج ایک بدکار عورت کے فتنہ میں مبتلا ہوگیا۔ یہ اس کی ماں کی کرامت ہے اور اس میں جریج کی بھی کرامت ہے کیونکہ اس کے کہنے پسے ایک نوزائیدہ بچے نے باتیں کیں۔ جریج کی یہ نماز نفل تھی لیک ان کی شریعت میں نفلی نماز میں بھی ماں کے بلانے پر نماز توڑنا جائز نہ تھا، ہماری شریعت میں ماں کے بلانے پر نفل نماز کو توڑنا جائز ہے، اور باپ کے بلانے پر نفل نماز توڑنا جائز نہیں ہے۔ (عمدۃ القاری ج ٧ ص ٢٨٣۔ ٢٨٢) اور فرض نماز کو کسی کے بلانے پر توڑنا جائز نہیں ہے، الآیہ کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بلائیں۔ اس حدیث کی شرح میں قاضی عیاض مالکی متوفی ٥٤٤ ھ لکھتے ہیں : حدیث جریج سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کو اپنی نشانی ظاہر فرما کر ظالموں کے ہاتھوں سے چھڑا لیتا ہے اور اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اولیاء اللہ کی طلب اور ان کے اختیار سے کرامت واقع ہوتی ہے۔ (اکمال المعلم بفوئد مسلم ج ٨ ص ١٢، مطبوعہ دارالوفابیروت، ١٤١٩ ھ) علامہ یحییٰ بن شرف نووی اور علامہ بدرالدین عینی نے بھی لکھا ہے کہ بعض اولیاء اللہ کی طلب اور ان کے اختیار سے کرامات واقع ہوئی ہیں۔ (شرح مسلم ج ٢ ص ٣١٤، مطبوعہ کراچی، عمدۃ القاری ج ٧ ص ٢٨٣، مطبوعہ مصر) علامہ احمد قسطلانی متوفی ٩١١ ھ نے بھی لکھا ہے کہ اولیاء اللہ کی کرامات ان کی طلب اور ان کے اختیار سے واقع ہوتی ہیں۔ (ارشاد الساری ج ٥ ص ٤١٣، مصر) حافظ شہاب الدین احمد بن علی بن حجر عسقلانی متوفی ٨٥٢ ھ نے اس کو ذرا تفصیل سے لکھا ہے : اس حدیث میں یہ ثبوت ہے کہ جریج کا یقین بہت قوی تھا اور اس کی امید صحیح تھی کیونکہ اس نے نوزائیدہ بچہ سے بولنے کے لیے کہا حالانکہ عادت یہ ہے کہ نوزائیدہ بچے کلام نہیں کرتے اور اگر جریج کی امید صحیح نہ ہوتی تو وہ بچہ سے کلام کرنے کے لیے نہ کہتا اور اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جب اولیاء اللہ مصائب میں مبتلا ہوتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کی نجات کی سبیل پیدا کردیتا ہے اور بعض اوقات ان کی نجات کا معاملہ موخر کردیا جاتا ہے، اس میں ان کی تہذیب کی جاتی ہے اور ان کے لیے زیادہ ثواب رکھا جاتا ہے اور اس حدیث میں اولیاء کی کرامات کا ثبوت ہے اور یہ ثبوت ہے کہ کرامت ان کی طلب اور ان کے اختیار سے واقع ہوتی ہے۔ (فتح الباری ج ٦ ص ٤٨٣، مطبوعہ لاہور، ١٤٠١ ھ) حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دس جاسوس بھیجے اور حضرت عاصم بن ثابت انصاری (رض) کو ان کا امیر بنایا جس وقت وہ عسفان اور مکہ کے درمیان ایک مقام پر پہنچے تو ہذیل کے ایک قبیلہ بنولحیان میں ان کا ذکر کیا گیا تو انہوں نے سو تیراندازوں کا ایک دستہ ان کے تعاقب میں روانہ کیا، وہ ان کے قدموں کے نشانات کا پیچھا کرتے ہوئے گئے، حتیٰ کہ جس منزل میں ٹھہر کر انہوں نے کھجوریں کھائیں تھیں وہاں پہنچ گئے۔ انہوں نے کہا : یہ یثرب کی کھجوریں ہیں، پھر وہ ان نشانات پر چل پڑے حتیٰ کہ حضرت عاصم اور ان کے اصحاب کو ان کے آنے کا پتا چل گیا، ان کافروں نے ان کا محاصرہ کرلیا اور مسلمانوں سے کہا : تم اپنے آپ کو ہمارے حوالے کردو ہم تم سے وعدہ کرتے ہیں کہ ہم تم میں سے کسی کو قتل نہیں کریں گے۔ حضرت عاصم بن ثابت نے کہا : میں کسی کافر کے وعدہ پر ہتھیار نہیں ڈالوں گا، پھر دعا کی : اے اللہ ! ہمارے حال سے ہمارے نبی کو مطلع فرما دے۔ کافروں نے تیر مارنے شروع کیے اور حضرت عاصم کو شہید کردیا اور تین صحابہ ان کی امان کے وعدہ پر ان کے پاس آگئے۔ ان میں حضرت خبیب، حضرت زید بن دثنہ اور ایک اور صحابی تھے جب کافروں نے ان کو باندھنا شروع کردیا تو تیسرے صحابی نے کہا : یہ پہلی عہد شکنی ہے، اللہ کی قسم ! میں تمہارے ساتھ نہیں جائوں گا۔ میرے لیے ان شہداء میں نمونہ ہے۔ (حضرت عاصم کے ساتھ جو بقیہ سات شہید ہوگئے تھے) انہوں نے ان کو گھسیٹ کرلے جانا چاہا مگر انہوں نے انکار کردیا۔ وہ حضرت خبیب اور حضرت زید بن دثنہ کو لے گئے حتیٰ کہ ان کو جنگ بدر کے بعد بیچ دیا۔ بنوالحارث بن عامر بن نوفل نے حضرت خبیب کو خرید لیا۔ حضرت خبیب نے حارث بن عامر کو جنگ بدر میں قتل کردیا تھا، حضرت خبیب ان کے ہاں کئی دن قید رہے حتیٰ کہ ان لوگوں نے حضر خبیب کو قتل کرنے کا ارادہ کرلیا۔ حضرت خبیب نے حارث کی بعض بیٹیوں سے استرا مانگا تاکہ اس سے موئے زیرناف صاف کریں، اس کا بچہ ان کے پاس چلا گیا اور وہ اس سے غافل تھی۔ اس نے دیکھا کہ وہ بچہ حضرت خبیب کی ران پر بیٹھا ہے اور استرا ان کے ہاتھ میں ہے، وہ بہت ڈری۔ حضرت خبیب اس کے ڈر کو جان گئے، انہوں نے کہا : کیا تم کو یہ ڈر ہے کہ میں اس کو قتل کر دوں گا، میں ایسا نہیں کروں گا۔ اس نے کہا : اللہ کی قسم ! میں نے خبیب سے بہتر کوئی قیدی نہیں دیکھا۔ اللہ کی قسم ! میں نے ایک دن دیکھا ان کے ہاتھ میں انگوروں کا ایک خوشہ تھا جس سے وہ کھا رہے تھے اور وہ زنجیروں سے بندھے ہوئے تھے اور ان دنوں مکہ میں کوئی پھل نہیں تھا۔ وہ یہ کہتی تھی کہ یہ وہ رزق تھا جو اللہ تعالیٰ نے خبیب کو دیا تھا جب وہ لوگ حضرت خبیب کو قتل کرنے کے لیے حرم سے باہر لے گئے تو ان سے حضرت خبیب (رض) نے کہا : مجھے دو رکعت نماز پڑھنے دو ۔ انہوں نے ان کو چھوڑ دیا۔ حضرت خبیب نے دو رکعت نماز پڑھی اور فرمایا : اللہ کی قسم ! اگر تم یہ گمان نہ کرتے کہ میں موت سے ڈر رہا ہوں تو میں نماز میں زیادہ دیر لگاتا پھر دعا کی : اے اللہ ! ان سب کو قتل کر دے اور ان میں سے کسی کو زندہ نہ چھوڑ، پھر انہوں نے دو شعر پڑھے، ان کا ترجمہ یہ ہے : ” جب میں حالت اسلام میں قتل کیا جا رہا ہوں تو مجھے کیا پروا ہوسکتی ہے، میں جس پہلو پر گروں میرا گرنا اللہ ہی کے لیے ہوگا اور یہ مرنا اللہ کی رضا کے لیے ہے اور مجھے اپنے اعضاء کے کٹنے کا غم نہیں اگر اللہ چاہے گا تو ان کٹے ہوئے اعضاء کو مبارک کر دے گا۔ “ پھر ابوسروعہ عقبہ بن الحارث نے کھڑے ہو کر ان کو قتل کردیا اور حضرت خبیب وہ پہلے شخص تھے جنہوں نے ظلماً قتل کیے جانے سے پہلے نماز پڑھنے کی سنت قائم کی جب کافروں کو پتا چلا کہ حضرت عاصم بن ثابت کو بھی قتل کردیا ہے تو جن کافروں کے کسی بڑے آدمی کو حضرت عاصم نے قتل کیا تھا تو انہوں نے لوگوں کو بھیجا کہ وہ ان کی لاش سے کچھ حصہ کاٹ کرلے آئیں۔ اللہ تعالیٰ نے شہد کی مکھیوں کو بھیج دیا، شہد کی مکھیاں ایک سائبان کی طرح ان کی لاش پر چھا گئیں، انہوں نے اس لاش کی حفاظت کی اور وہ کافر اس سے کچھ حصہ کاٹ کرلے جانے میں ناکام رہے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٤٠٨٦، مطبوعہ دارارقم، بیروت) اس حدیث میں اولیاء اللہ کی کرامت کا ثبوت ہے کیونکہ اس حدیث میں یہ بیان ہے کہ حضرت خبیب زنجیروں میں جکڑے ہوئے تھے اور انگور کے خوشے سے انگور کھا رہے تھے حالانکہ اس وقت مکہ میں کوئی پھل موجود نہیں تھا نیز اس حدیث میں حضرت عاصم بن ثابت (رض) کی کرامت کا بھی ثبوت ہے، شہد کی مکھیاں ایک سائبان کی طرح ان کی لاش پر چھا گئیں اور کفا ران کی لاش کی بےحرمتی کرنے میں ناکام اور نامراد رہے۔ اس حدیث میں یہ ثبوت بھی ہے کہ مسلمانوں کو کفار کے وعدہ پر اعتماد نہیں کرنا چاہیے اور ان کی امان میں خود کو ان کے حوالے کرنے سے بہتر ہے کہ ان کے خلاف لڑ کر شہید ہوجائے جیسا کہ حضرت عاصم اور ان کے ساتھیوں نے کیا۔ نیز اگر مسلمان کفار کے ہاتھوں قید ہوجائے تو دوران قید اس کو ایسے اخلاق کا مظاہرہ کرنا چاہیے کہ دشمن بھی اس کے اخلاق سے متاثر ہو جیسا کہ حضرت خبیب کے اخلاق سے ان کے دشمن متاثر ہوئے۔ شہادت سے پہلے دو رکعت نماز پڑھنا اور یہ سنت حضرت خبیب (رض) نے قائم کی اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو برقرار رکھا۔

اولیاء اللہ کے لیے دنیا میں غم اور خوف کا ثبوت : اللہ تعالیٰ نے اولیاء اللہ کے متعلق ارشاد فرمایا ہے : ان کو کوئی خوف ہوگا نہ وہ غمگین ہوں گے۔ خوف کا تعلق مستقبل سے ہے اور غم کا تعلق ماضی سے ہے یعنی ان کو ماضی میں کسی نعمت کے زوال کا ملال ہوگا نہ مستقبل میں کسی نعمت کے زوال کا خطرہ ہوگا۔ اس پر یہ اعتراض ہے کہ اگر اس سے مراد دنیا میں خوف اور غم کی نفی ہے تو یہ ثابت نہیں کیونکہ تمام اولیاء اللہ کے راس اور رئیس سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں اور آپ کو دنیا میں خوف بھی لاحق ہوا اور غم بھی، خوف کی مثال ان حدیثوں میں ہے : حضرت اسماء بنت ابی بکر (رض) بیان کرتے ہیں کہ جس دن سورج کو گہن لگا اس دن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خوف زدہ ہوگئے اور آپ نے گھبراہٹ میں کسی عورت کی قمیص لے لی پھر آپ کو چادر لا کردی گئی پھر آپ نے اس قدر طویل قیام کیا کہ اگر کوئی شخص آتا تو اس کو بالکل پتا نہ چلتا کہ آپ نے رکوع کیا ہے اور آپ کے طول قیام کی وجہ سے (معمول سے زیادہ) رکوع کی روایت کی گئی ہے۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث : ٩٠٦) حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تیز آندھی کو دیکھتے تو یہ دعا فرماتے : اے اللہ ! میں تجھ سے اس کی خیر کا سوال کرتا ہوں اور جو کچھ اس کے ساتھ ہے اس کی خیر کا سوال کرتا ہوں اور میں اس کے شر سے اور جو شر اس میں ہے اور جو شر اس کے متعلق ہے تیری پناہ طلب کرتا ہوں اور جب آسمان پر ابر چھا جاتا تو آپ کا رنگ متغیر ہوجاتا اور آپ (خوف اور گھبراہٹ سے) کبھی حجرہ کے اندر جاتے اور کبھی حجرہ سے باہر جاتے اور جب بارش ہوجاتی تو آپ سے خوف دور ہوجاتا۔ حضرت عائشہ فرماتی ہیں : میں نے اس کیفیت کو بھانپ کر آپ سے اس کی وجہ پوچھی تو آپ نے فرمایا : اے عائشہ ! مجھے یہ خوف تھا کہیں یہ ابر قوم عاد کے ابر کی طرح نہ ہو، انہوں نے جب اپنی بستیوں میں ابر کو آتے ہوئے دیکھا تو کہا : یہ ہم پر برسنے والے بادل ہیں۔ (اور درحقیقت وہ اللہ تعالیٰ کا عذاب تھا۔ ) (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٣٢٠٦، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٨٩٩) حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابوبکر (رض) نے کہا : یا رسول اللہ ! آپ پر بڑھاپا طاری ہوگیا۔ آپ نے فرمایا : مجھے سورة ھود، سورة الواقعہ، سورة المرسلات، عم یتساء لون اور اذا الشمس کورت نے بوڑھا کردیا۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث : ٣٢٩٧) اور غم کی مثال اس حدیث میں ہے : حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ابوسیف لوہار کے پاس گئے اور وہ (آپ کے صاحبزادے) حضرت ابراہیم (رض) کے رضاعی والد تھے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت ابراہیم (رض) کو اٹھایا، ان کو بوسہ دیا اور ان کو سونگھا پھر اس کے بعد ہم ان کے پاس گئے، اس وقت حضرت ابراہیم اپنے نفس کی سخاوت کر رہے تھے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دونوں آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔ حضرت عبدالرحمن بن عوف (رض) نے (تعجب سے) کہا : یا رسول اللہ ! آپ بھی ! ( رو رہے ہیں) آپ نے فرمایا : اے ابن عوف ! یہ (آنسو) رحمت ہیں۔ آپ کی آنکھوں سے پھر آنسو جاری ہوئے، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : آنکھ رو رہی ہے اور دل غمزدہ ہے اور ہم وہی بات کہیں گے جس سے ہمارا رب راضی ہو ! اور ہم آپ کے فراق سے اے ابراہیم البتہ غمگین ہیں۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ١٣٠٣، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٣١٥، سنن ابودائود رقم الحدیث : ٣١٢٦) ان احادیث سے واضح ہوگیا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دنیا میں خوف بھی ہوا اور غم بھی تو پھر اولیاء اللہ کے متعلق کیسے کہا جاسکتا ہے کہ دنیا میں ان کو، کوئی خوف ہوگا نہ غم !

اولیاء اللہ کے لیے دنیا کے غم اور خوف کی مصنف کی طرف سے توجیہ : اس کا جواب یہ ہے کہ اولیاء اللہ کو دنیا میں ایس خوف نہیں ہوگا جو ان کے لیے باعث ضرر ہو (کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : لاخوف علیہم اور علی ضرر کے لیے آتا ہے) اور جن احادیث میں آپ کے خوف کا ذکر ہے وہ خوف خدا ہے اور خوف خدا باعث ضرر نہیں ہے بلکہ باعث نفع ہے اور جو شخص جتنا زیادہ اللہ کے قریب ہوتا ہے اس کو اللہ کا اتنا زیادہ خوف ہوتا ہے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ان اتقاکم واعلمکم باللہ انا۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٢٠) بیشک تم سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا اور تم سب سے زیادہ اللہ کو جاننے والا میں ہوں۔ نیز رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اما واللہ انی لاتقاکم للہ و اخشاکم لہ۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث : ١١٠٨) سنو ! اللہ کی قسم ! بیشک میں ضرور تم سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا اور تم سب سے زیادہ اللہ سے خشوع کرنے والا ہوں۔ نیز حدیث صحیح میں ہے : میں تم سب سے زیادہ اللہ کی معرفت رکھتا ہوں اور تم سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا ہوں، (کشف الخفا رقم الحدیث : ٦٠٧) اور آپ نے فرمایا : پس اللہ کی قسم میں ان سب سے زیادہ اللہ کو جاننے والا ہوں اور ان سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا ہوں۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٦١٠١، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٣٥٦) نیز آپ نے فرمایا : میں تم سب سے زیادہ اللہ کی حدود کو جاننے والا ہوں اور تم سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا ہوں۔ (فتح الباری ج ٤ ص ١٥١) اور اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے : انما یخشی اللہ من عبادہ العلموا۔ (فاطر : ٣٥) اللہ کے بندوں میں سے اللہ سے وہی ڈرتے ہیں جو علم والے ہیں۔ اور اولیاء اللہ سے غم کی نفی جو فرمائی ہے اس کا معنی یہ ہے کہ ان کو اپنے گناہوں کا غم بھی نہیں ہوگا اور اللہ کا ولی وہی ہوتا ہے جو اپنے آپ کو گناہوں سے باز رکھتا ہے اور اگر بالفرض بشری تقاضے سے اس سے کوئی گناہ ہوجائے تو وہ فوراً توبہ کرلیتا ہے اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تو سید المعصومین ہیں، آپ کے متعلق کسی معصیت پر غم کرنے کا کیا سوال ہے اور اس آیت میں جو غم کی نفی فرمائی ہے اس سے یہ مراد نہیں ہے کہ ان کو دنیاوی نقصانات پر غم اور رنج نہیں ہوگا، دنیاوی نقصانات پر ان کو رنج اور غم ہوتا ہے اور وہ اس پر صبر کرتے ہیں اور اس میں ان کے لیے بہت اجر اور بڑے درجات ہوتے ہیں، قرآن مجید میں ہے : ولنبلونکم بشیء من الخوف والجوع ونقص من الاموال والانفس والثمرات وبشر الصبرین لا الذین اذا اصابتہم مصیبۃ قالوا انا للہ وانا الیہ رجعون اولئک علیہم صلوت من ربہم ورحمۃ واولئک ھم المہتدون۔ ( البقرۃ : ١٥٧۔ ١٥٥) اور ہم تمہیں ضرور آزمائیں گے، تھوڑے سے ڈر سے اور بھوک اور مال اور جان اور پھلوں کی کمی سے اور صبر کرنے والوں کو خوشخبری سنا دیجیے جن کو جب کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو وہ کہتے ہیں انا للہ وانا الیہ راجعون یہ وہ لوگ ہیں جن کے لیے ان کے رب کی طرف سے بہت تحسین ہے اور بہت رحمت ہے اور یہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں۔ حضرت ابوسعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مومن کو جو مصیبت بھی پہنچتی ہے، خواہ تھکاوٹ ہو یا (کسی چیز کا) غم ہو یا دائمی درد اور بیماری ہو یا کوئی سخت پریشانی تو اللہ تعالیٰ کی وجہ سے اس کے گناہوں کو مٹا دیتا ہے۔ (بعض روایات میں ہے : اور اس کے درجات بلند فرما دیتا ہے) (سنن الترمذی رقم الحدیث : ٩٦٦، مسند اہمد ج ٣ ص ٤، طبع قدیم، مسند احمد رقم الحدیث : ١١٠٢٠، عالم الکتب بیروت، مسند احمد رقم الحدیث : ١٠٩٤٠، مطبوعہ دارالحدیث قاہرہ، صحیح البخاری رقم الحدیث : ٥٣٢٤، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٩٦٥، مصنف ابن ابی شیبہ ج ٣ ص ٢٣٢، مطبوعہ کراچی، مسند ابویعلی رقم الحدیث : ١٢٥٦ )

اولیاء اللہ کے لیے آخرت کے غم اور خوف کی مصنف کی طرف سے توجیہ : دوسرا اعتراض یہ ہے کہ اگر اس آیت سے مراد یہ ہے کہ اولیاء اللہ کو آخرت میں خوف اور غم نہیں ہوگا تو حشر کے دن انبیاء (علیہم السلام) خوف زدہ ہوں گے اور سب نفسی نفسی فرما رہے ہوں گے، اس کا جواب یہ ہے کہ ان کو گناہوں پر عذاب اور گرفت کا خوف نہیں ہوگا، ان کو اللہ تعالیٰ کی جلال ذات سے خوف ہوگا اور یہ خوف ان کے قرب الٰہی کی علامت ہے اور ان کے لیے باعث نفع ہے، حدیث میں ہے : حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس آیت کے متعلق پوچھا : والذین یوتون ما اتواوقلوبہم وجلۃ انہم الی ربہم رجعون (المومنون : ٦٠) اور وہ لوگ جو کچھ دیتے ہیں اس حال میں دیتے ہیں کہ ان کے دل خوف سے لز رہے ہوتے ہیں کہ وہ اپنے رب کی طرف لوٹنے والے ہیں۔ کیا اس آیت میں ان لوگوں کا ذکر ہے جو شراب پیتے تھے اور چوری کرتے تھے ؟ آپ نے فرمایا نہیں ! اے صدیق کی بیٹی ! لیکن یہ وہ لوگ ہیں جو روزے رکھتے تھے اور نماز پڑھتے تھے اور صدقہ دیتے تھے اور ان کو یہ خوف ہوتا تھا کہ (کہیں ایسا نہ ہو کہ) ان کے یہ اعمال مقبول نہ ہوں، یہ وہ لوگ ہیں جو نیکی کے کاموں میں بہت جلدی کرتے تھے۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث : ٣١٧٥، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٤١٩٨) حضرت عثمان (رض) کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے متعدد بار جنت کی بشارت دی تھی، اس کے باوجود وہ قبر کو دیکھ کر اس قدر روتے تھی کہ ان کی ڈاڑھی مبارک آنسوئوں سے بھیگ جاتی تھی۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث : ٢٣٠٨، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٤٢٦٧) اور یہ وہ نفوس قدسیہ ہیں جو گناہ نہ کرنے اور نیکیوں کی بہتات کے باوجود اللہ کی جلال ذات سے ڈرتے تھے اور یہ انبیاء (علیہم السلام) اور اولیاء کرام ہیں۔ 

اولیاء اللہ کے غم اور خوف کی امام رازی کی طرف سے توجیہ : بعض عارفین نے کہا ہے کہ ولایت کا معنی قرب ہے لہٰذا اللہ تعالیٰ کا ولی وہ ہوتا ہے جو اللہ تعالیٰ کے بہت زیادہ قریب ہو، اور جو اللہ تعالیٰ کے بہت زیادہ قریب ہوتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی معرفت میں اس طرح ڈوبا ہوا ہوتا ہے کہ ایک لحظہ کے لیے بھی اس کا دھیان غیر اللہ کی طرف نہیں جاتا اور اسی کیفیت کا نام کامل ولایت ہے اور جب ولی کو یہ کیفیت حاصل ہوگی تو اس کو کسی چیز کا خوف ہوگا نہ کسی چیز کا غم ہوگا کیونکہ اس کا دل و دماغ اللہ کے سوا کسی اور چیز کی طرف متوجہ ہی نہیں ہوگا حتیٰ کہ اس کو کسی چیز کا خوف یا غم ہو اور یہ بہت بڑا درجہ ہے جو شخص اس درجہ تک نہیں پہنچا وہ اس کا تصور نہیں کرسکتا اور جو اس مرتبہ پر فائز ہوتا ہے کبھی اس سے معرفت الٰہی میں استغراق کی کیفیت زائل ہوجاتی ہے پھر اس کو خوف اور غم لاحق ہوتا ہے جیسا کہ دوسرے عام آدمیوں کا حال ہوتا ہے۔ میں نے سنا ہے کہ ابراہیم خواص ایک جنگل میں تھے اور ان کے ساتھ ان کا مرید بھی تھا ایک رات کو جب ان پر معرفت الٰہی میں استغراق کی کامل کیفیت طاری تھی کچھ درندے آگئے اور ان کے قریب آ کر کھڑے ہوگئے۔ ان کا مرید تو ڈر کے مارے درخت پر چڑھ گیا اور وہ درندوں سے بےپروا اسی طرح بیٹھے رہے، صبح کو جب یہ کیفیت زائل ہوگئی تو ان کے ہاتھ پر ایک مچھر نے کاٹا جس کی تکلیف سے وہ بےقرار ہوگئے۔ مرید نے کہا رات درندوں سے آپ کو کوئی خوف نہیں ہوا اور آج ایک مچھر سے آپ بےقرار ہوگئے۔ شیخ نے کہا رات مجھ پر غیبی واردات کی قوت طاری تھی اور جب یہ قوت غائب ہوگئی تو میں اللہ کی مخولق میں سب سے کمزور ہوں۔ (تفسیر کبیر ج ٦ ص ٢٧٧۔ ٢٧٦، مطبوعہ دار احیاء التراث العربی بیروت، ١٤١٥ ھ) اس جواب کا خلاصہ یہ ہے کہ جب اولیاء اللہ، معرفت الٰہی میں مستغرق ہوتے ہیں اور ان کا غالب حال یہی ہوتا ہے تو ان کو کوئی خوف اور غم نہیں ہوتا اور جب یہ کیفیت نہیں ہوتی تو وہ عام لوگوں کی طرح ہیں اور ان کو خوف اور غم ہوتا ہے، اس کی نظیر یہ ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کنعان کے قریب جنگل کے کنوئیں میں تھے تو حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی ان کی طرف توجہ نہ ہوئی اور وہ ان کے فراق میں روتے رہے اور ایک وہ وقت تھا کہ ان کے بیٹے مصر سے حضرت یوسف کی قمیص لے کر روانہ ہوئے تو آپ نے فرمایا : مجھے یوسف کی خوشبو آرہی ہے اور اس کی دوسری نظیر یہ ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کئی دن تک کھائے پئے بغیر وصال کے (مسلسل) روزے رکھے اور آپ کی جسمانی حالت میں کوئی تغیر نہیں ہوا اور آپ نے فرمایا : میں اپنے رب کے پاس رات گزارتا ہوں، وہی مجھے کھلاتا ہے اور وہی مجھے پلاتا ہے اور صحابہ کو وصال کے روزے رکھنے سے منع فرما دیا اور فرمایا : تم اپنی طاقت کے مطابق عمل کرو۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ١٩٦٦، صحیح مسلم رقم الحدیث : ١١٠٣) اور ایک وقت کی یہ کیفیت ہے کہ بھوک کی شدت سے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پیٹ پر دو پتھر باندھے ہوئے تھے۔ (سنن ترمذی رقم الحدیث : ٢٣٧١) امام رازی نے اس کی دوسری توجیہ اس طرح کی ہے کہ اولیاء اللہ کو قیامت کے دن خوف نہیں ہوگا، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : لایحزنہم الفزع الاکبر وتتلقہم الملئکۃ ہذا یومکم الذی کنتم توعدون (الانبیاء : ١٠٣) سب سے بڑی گھبراہٹ انہیں غمگین نہیں کرے گی اور فرشتے ان کے استقبال کے لیے آئیں گے (اور کہیں گے) یہی وہ دن ہے جس کا تم سے وعدہ کیا گیا تھا۔ نیز فرماتے ہیں کہ بعض احادیث سے ثابت ہے کہ ان کو غم اور خوف ہوگا لیکن یہ سب اخبار احاد ہیں اور جب قرآن مجید نے فرما دیا ہے کہ ان کو خوف اور غم نہیں ہوگا تو ظاہر قرآن ان احادیث پر مقدم ہے۔ (تفسیر کبیر ج ٦ ص ٢٧٧، مطبوعہ دار احیاء التراث العربی بیروت، ١٤١٥ ھ) قارئین پر مخفی نہ رہے کہ ہم نے امام رازی کی تفسیر سے پہلے اس آیت کی جو توجیہ بیان کی ہے اس سے قرآن مجید اور احادیث میں تطبیق ہوجاتی ہے۔

اولیاء اللہ کے لیے دنیا اور آخرت میں بشارت : اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : ان کے لیے دنیا کی زندگی میں (بھی) بشار اور آخرت میں بھی۔ اہل مصر میں سے ایک شخص نے حضرت ابوالدرداء (رض) سے اس آیت کے متعلق سوال کیا : لہم البشری فی الحیوۃ الدنیا وفی الاخرۃ۔ حضرت ابوالدرداء (رض) نے فرمایا : تم نے مجھ سے اس چیز کے متعلق سوال کیا کہ کسی اور شخص نے مجھ سے اس کے متعلق سوال نہیں کیا، جب سے ایک شخص نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کے متعلق سوال کیا تھا، آپ نے فرمایا : اس سے مراد نیک خواب ہیں جو مسلمان شخص دیکھتا ہے یا اس کے لیے وہ خواب دیکھے جاتے ہیں یہ اس کی دنیا کی زندگی میں بشارت ہیں اور آخرت میں اس کی بشارت جنت ہے۔ (مسند احمد ج ٦ ص ٤٥٢، مسند احمد رقم الحدیث : ٢٨١٠٧، مطبوعہ عالم الکتب بیروت، ٢٧٤٨٧، مطبوعہ دارالحدیث : قاہرہ، مصنف ابن ابی شیبہ رقم الحدیث : ١٠٥٠١، مطبوعہ کراچی، سنن الترمذی رقم الحدیث : ٢٢٧٥، شعب الایمان رقم الحدیث : ٤٧٥٢) حضرت عبداللہ بن عمرو بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا : یہ نیک خواب ہیں جن کے ساتھ مومن کو بشارت دی جاتی ہے، یہ نبوت کے چھیالیس اجزاء میں سے ایک جز ہیں، جو شخص یہ خواب دیکھے وہ اس کی خبر دے اور جس نے اس کے سوا کوئی چیز دیکھی تو وہ شیطان کی طرف سے اس کو غم میں مبتلا کرنے کے لیے ہے، اس کو چاہیے کہ وہ بائیں جانب تھوک دے اور اس کی خبر کسی کو نہ دے۔ (مسند احمد ج ٢ ص ٢٢٠، دارالفکر، مسند احمد رقم الحدیث : ٧٠٤٤، عالم الکتب بیروت و دارالحدیث قاہرہ، شعب الایمان رقم الحدیث : ٤٧٦٤، مجمع الزوائد ج ٥ ص ١٠٥) اولیاء اللہ کے لیے دنیا میں بشارت کے متعلق یہ آیات ہیں : ان الذین قالوا ربنا اللہ ثم استقاموا تتنزل علیہم الملئکۃ الا تخافوا ولا تحزنوا وابشروا بالجنۃ التی کنتم توعدون نحن اولیوکم فی الحیوۃ الدنیا و فی الاخرۃ ولکم فیہا ما تشتھی انفسکم ولکم فیہا ما تدعون نزلا من غفور رحیم (حم السجدۃ : ٣٢۔ ٣٠) بیشک جن لوگوں نے کہا ہمارا رب اللہ ہے، پھر وہ اس پر دائماً قائم رہے ان پر فرشتے (یہ کہتے ہوئے) نازل ہوتے ہیں کہ تم نہ خوف کرو اور نہ غمگین ہو اور اس جنت کے ساتھ خوش ہو جائو جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا ہم دنیا کی زندگی میں تمہارے مددگار ہیں اور آخرت میں (بھی) اور تمہارے لیے اس جنت میں ہر وہ چیز ہے جس کو تمہارا دل پسند کرے اور تمہارے لیے اس میں ہر وہ چیز ہے جس کو تم طلب کرو بہت بخشنے والے بےحد رحم فرمانے والے کی طرف سے ضیافت ہے۔ اور اولیاء اللہ کے لیے آخرت میں آخرت میں بشارت کے متعلق یہ آیتیں ہیں : لا یحزنہم الفزع الاکبر وتتلقہم الملئکۃ (الانبیاء : ١٠٣) سب سے بڑی گھبراہٹ انہیں عمگین نہیں کرے گی اور فرشتے ان کے استقبال کے لیے آئیں گے۔ یوم تری المؤمنات یسعی نورہم بین ایدیہم وبایمانہم بشرلکم الیوم جنت تجری من تحتھا الانہر خلدین فیہا ط ذلک ھو الفوز العظیم (الحدید : ١٢) (اے رسول مکرم ! ) جس دن آپ مومنین اور مومنات کو اس حال میں دیکھیں گے کہ ان کا نور ان کے آگے اور ان کی دائیں جانب دوڑ رہا ہوگا (اور ان سے کہا جائے گا کہ) آج تمہاری خوشی کی چیز یہ جنتیں ہیں جن کے نیچے سے دریا جاری ہیں اس میں تم ہمیشہ رہو گے یہی بہت بڑی کامیابی ہے۔ اولیاء اللہ کے متعلق میں تفصیل سے لکھنا چاہتا تھا الحمد للہ علی احسانہ اللہ تعالیٰ نے یہ آرزو پوری کی، اولیاء اللہ کے متعلق مجھے بچپن سے ایک شعر یاد ہے۔ اس شعر پر اس بحث کو ختم کرتا ہوں : احب الصالحین ولست منہم لعل اللہ یرزقنی صلاحا (میں نیک لوگوں سے محبت کرتا ہوں حالانکہ میں خود ان میں سے نہیں ہوں، اس امید پر کہ شاید اللہ مجھے بھی نیکی عطا فرما دے)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 10 يونس آیت نمبر 63