أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَلَاۤ اِنَّ لِلّٰهِ مَا فِى السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِؕ اَلَاۤ اِنَّ وَعۡدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّلٰـكِنَّ اَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ ۞

ترجمہ:

سنو ! بیشک آسمانوں اور زمینوں میں جو کچھ ہے وہ (سب) اللہ کی ملکیت ہے۔ سنو ! بیشک اللہ کا وعدہ برحق ہے۔ لیکن ان میں سے اکثر لوگ نہیں جانتے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : سنو بیشک آسمانوں اور زمینوں میں جو کچھ ہے وہ (سب) اللہ کی ملکیت ہے، سنو بیشک اللہ کا وعدہ برحق ہے لیکن ان میں سے اکثر لوگ نہیں جانتیوہی زندگی دیتا ہے اور وہی زندگی لیتا ہے، اور تم اسی کی طرف لوٹائے جائو گے (یونس : ٥٦۔ ٥٥ )

وعید عذاب کے برحق ہر نے پر دلائل

اس سے پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا : اور اگر ہر ظالم کی ملکیت میں روئے زمین کی تمام چیزیں ہوتیں تو وہ (عذاب سے بچنے کے لیے) ان سب کو ضرور دے ڈالتا، اور اس آیت میں یہ بتارہا ہے کہ ظالم کی ملکیت میں کوئی چیز نہیں ہے، کیونکہ آسمانوں اور زمینوں کی تمام چیزیں تو صرف اللہ تعالیٰ کی ملکیت میں ہیں اور اس سے پہلے دلائل سے یہ بتایا جا چکا ہے کہ اس جہان میں جو جمادات، نباتات، حیوانات، انسان، ملائکہ اور جنات ہیں اور نور اور ظلمت اور دن اور رات کا جو سلسلہ ہے، ان سب کا اللہ تعالیٰ مالک ہے اور تمام ممکنات پر قادر ہے اور تمام معلومات کا عالم ہے اور وہ تمام حاجات سے مستغنی ہے اور تمام آفات اور نقائص سے منزہ ہے اور جب وہ تمام ممکنات پر قادر ہے تو وہ اس پر بھی قادر ہے کہ اپنے دشمنوں پر عذاب نازل فرمائے اور اپنے نیک بندوں اور اولیاء اللہ پر دنیا اور آخرت میں انعما اور اکرام فرمائے اور وہ اس سپر بھی قادر ہے کہ قطعی دلائل اور قومی معجزات سے اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تائید اور تقویت فرمائے اور اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قدرو منزلت ظاہر فرمائے اور ان کے دین اور ان کی شریعت کو استحکام عطا فرمائے اور جب وہ ان تمام امور پر قادر ہے تو مشرکین کا استہزاء کرنا، آپ کے دین کا مذاق اڑانا اور نزول عذاب کی وعید پر تعجب کا اظہار کرنا باطل ہوگیا کیونکہ جب اللہ تعالیٰ ہر قسم کے عیب اور نقائص سے پاک ہے تو وہ اپنی وعید کو پورا نہ کرنے سے بھی پاک ہے اور بری ہے۔ سو اس سنے مشرکین کو عذاب دینے کا جو وعدہ کیا ہے وہ برح ق ہے۔ لیکن ان میں سے اکثر اس کو نہیں جانتے۔ 

ظاہر ملکیت پر نازاں ہونے والوں کو متنبہ فرمانا

نیز یہ جو فرمایا ہے کہ تمام آسمانوں اور زمینوں میں جو کچھ ہے وہ سب اللہ کی ملکیت ہے اس میں یہ بھی بتلانا مقصود ہے کہ اس دنیا میں لوگ اسباب ظاہرہ کی طرف نظر کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ فلاں کی بلڈنگ ہے، یہ فلاں کی فیکٹری ہے، یہ فلاں کی زمین ہے، یہ فلاں کا باغ ہے، سو وہ ہر چیز کی کسی اور مالک کی طرف نسبت کرتے ہیں کیونکہ وہ جہل اور غفلت کی وجہ سے امور ظاہرہ میں ڈوبے ہوئے ہیں اور مجازات میں منہمک ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اس غفلت پر متنبہ کیا ہے کہ یہ سب چیزیں اللہ کی ملکیت ہیں، وہ زندگی دینے والا ہے وہی زندگی لینے والا ہے۔ جب وہ تمہاری یہ زندگی واپس لے لے گا تو تمہاری ملکیت میں کیا رہ جائے گا، تم نہ اپنے مالک ہو نہ اپنی چیزوں کے مالک ہو، سب کا وہی مالک ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 10 يونس آیت نمبر 55